اسلامی بینکوں کی شرح منافع کو سود سے پاک کریں

(Umar Bhatti, )

سود اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے۔ دردمند حضرات نے اسلامی بینکوں کی طرح ڈالی کہ سرمائے کا ایسا بینکاری نظام بن جائے جو کہ مسلمانوں کیلئے قابل قبول ہو اور پاکستان اس ترقی یافتہ ادارے سے فائدہ اٹھا سکے۔ یہ کام کوئی اتنا آسان نہ تھا کیونکہ سود نے جب اداروں کی شکل اختیار کی تو اس کا دائرہ کار پھیلتا گیا۔ حکومتوں کی سرپرستی کی وجہ سے یہ آج کل کے ترقی یافتہ معاشروں کے سرمایہ کاری کے نظام کی بنیاد بن گیا۔ کرنسی اور شرح سود کا ذکر ترقی کے ساتھ ہی ہونے لگا۔ اس کے مقابلے میں جو اسلام کا آئیڈیل نظام تھا اس کی ایک شکل تو بلاسود قرضہ ہے جس میں بینک کے اخراجات کے لئے اصل سرمائے پر نہ نفع نہ نقصان کی بنیاد پر بینک کچھ رقم لے سکتا ہے۔ دوسری مثالی شکل نفع اور نقصان میں تاجر اور بینک کی شراکت ہو سکتی ہے۔ سالوں کے غوروخوض کے بعد جو طریقہ وضع کیا گیا وہ ایک ایسے کاروبار کی شکل میں تھا جس میں کسی چیز کا کرایہ مقرر کیا جاتا ہے اور تاجر اس طرح اپنی جائیداد سے منافع کماتا ہے۔ اس میں بظاہر کوئی اعتراض کا پہلو نہیں نظر آتا۔ مگر ایک اہم پہلو کرائے کی رقم کا تعین ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کرایہ اتنا ہی مقرر ہوا ہے جتنا کی عام بینک سود لگاتا ہے تو ایک غیراسلامی اور اسلامی بینک کے طریقہ کار میں فرق کرنا مشکل ہے۔ حالانکہ اسلامی بینک کئی دفعہ یہ شرط لگاتے ہیں کہ جس چیز کے لئے قرضہ دیا گیا اس کے ضائع ہونے کی صورت میں باقی قسطیں ادا نہیں کرنی پڑتی۔ جبکہ غیر اسلامی بینک تو رقم کا کرایہ وصول کرتا ہے جو کہ خرچ ہو چکی ہوتی ہے۔ آجکل کرائے کی رقم کے لئے جو شرح مقرر کی جاتی ہے وہ عام بینکوں کی شرح سود کے حساب سے کم یا زیادہ کی جاتی ہے جس کو کائبور (KIBOR) کہا جاتا ہے۔ اسلامی بینکوں کا موقف ہے کہ یہ جائز ہے اور اس ک بارے میں فتاوٰی بھی پیش کئے جاتے ہیں کچھ حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ اس وقت تک ایک عارضی انتظام ہے جب تک کہ اسلامی بینکنگ جڑ نہیں پکڑ جاتی۔ مثالی طور پر اس شرح کو ایسا ہونا چاہیے جو کہ پہلے سے طے شدہ نہ ہو اور معاشرے میں کاروبار کے نفع و نقصان کا عکس ہو۔ پچھلے مہینے کی خبروں کے مطابق ایک اسلامی بینک نے پاکستان کے سب سے بہتر بینک ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب اسلامی بینکوں کو مل بیٹھ کرتقریباً چھ مہینے میں کوئی ایسی شرح منافع مقرر کرنی چاہیے حو کہ حقیقی ہو اور شرح سود سے آزاد ہو۔ اس طرح حقیقی اسلامی بینکنگ کی راہ ہموار ہو سکے گی اور عوام سود کی بے برکتی سے محفوظ رہ کر اللہ اور اس کے رسول کی صفوں میں کھڑے ہوں گے ان شاءاللہ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 102 Print Article Print
About the Author: Umar Bhatti
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: