اولاد کی جذباتی تربیت میں والدین کا کردار

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: سید شاہ زمان شمسی
صاحب اولاد ہونا اﷲ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ تربیت یافتہ اولاد ہی سے والدین کا نام زندہ رہتا ہے لیکن اولاد اچھی ہو یہ والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک روایت کے مطابق کہ لڑکیاں تو رحمت ہیں اور لڑکے نعمت اور دونوں کی تربیت کرنے پر اﷲ کی جانب سے بہترین اجر کا وعدہ ہے۔اجر بھی اﷲ اس وقت دے گا جب آپ نے لڑکیوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا ہو اور انہیں ایسا بننے کی چھوٹ نہ دی ہو کہ لوگ انگلیاں اٹھائیں۔ اس طرح لڑکوں کے سلسلے میں تربیت کی کمی کا آپ سے سخت حساب کتاب ہو گا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس طرح تمہارا باپ تم پر حق رکھتا ہے، اس طرح تمہاری اولاد بھی تم پر حق رکھتی ہے۔

جہاں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے اولاد کے بارے میں والدین کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ، ’’اپنے بچوں کو جدید تقاضوں کے مطابق حصول علم کی طرف راغب کرو‘‘، وہاں دور حاضر میں یہ دیکھنے کو بھی ملتا ہے کہ کمسن بچے کی ناجائز و جائز خواہشات کے آگے والدین سر تسلیم خم کر لیتے ہیں اور جذبات کی رو میں بہہ کر اس کی ہر بات مان لیا کرتے ہیں۔ کم عمری میں بچے کی بے جا ضد اسے بد لحاظ، بد تمیز اور بد مزاج بنا دیتی ہے۔ وہ چڑ چڑے پن کا شکار ہو جاتا ہے اور مستقبل میں اس کے نتائج مثبت کے بجائے منفی برآمد ہوتے ہیں۔

کمسنی میں اﷲ تعالی نے بچے کو جس شعور سے نوازا ہوتا ہے وہ اسے استعمال کر کے اور قوت بصارت کے تحت ہر چیز کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے بچے کے سامنے موبائل، لیپ ٹاپ اور الیکٹرانک ڈیوائسز استعمال ضرور کریں لیکن جب آپ موبائل کو کسی مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو بچہ اس کے حصول کے لیے ضد کرتا ہے اور آپ اس کے چیخنے چلانے پر موبائل ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔پھر جا کے اسے سکون ملتا ہے۔ جہاں آج کل کے بچوں کے لیے ایسی چیزیں کھلونا بن چکی ہیں تو وہاں پر آپ کی ذمہ داری ہے کہ اعتدال اور میانہ روی سے بچوں کو ایسی چیزوں کے استعمال کے بارے میں آگہی دیں تا کہ بچہ ٹچ اسکرین، موبائل سے ہی اپنا رشتہ استوار نہ کر لے بلکہ دئگر حقوق و فرائض کے ساتھ ساتھ علوم اسلامیہ اور قرآن پاک کو سیکھنے کی اپنے اندر زیادہ سے زیادہ جستجو پیدا کرے۔ اولاد کی اسلامی خطوط پر تربیت اسی وقت ممکن ہے جب والدین ان اسلامی احکامات کی عملی طور پر پابندی کرتے نظر آئیں۔

اولاد کی جذباتی تربیت میں نفسیات کا بہت گہرا تعلق ہے۔ دین نے نفسیات کو کتنی اہمیت دی ہے۔ آنحضور صل اﷲ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے، ’’بچہ سات سال کی عمر تک بادشاہ ہے اور سات سال کی عمر سے لے کر چودہ سال کی عمر تک غلام ہے اور چودہ سال کی عمر سے لے کر اکیس سال تک وزیر و مشیر ہے‘‘۔ کم عمری کا تقاضا ہے کہ اولاد کی باتیں ماننی چاہئیں تا کہ اس کی نشوونما پر منفی اثرات نہ پڑیں۔ سات سال تک اسے بادشاہ کا درجہ دیا جائے اور اس عمر میں اس کی باتوں کو اس طرح تسلیم کیا جائے جیسے رعایا حکومت وقت کا کہا مانتی ہے۔ نفسیاتی بات ہے کہ ایسا کرنے سے اس میں اپنائیت کا جذبہ مضبوط ہو گا ورنہ وہ لاشعوری طور پر والدین کا شمار اغیار میں کرنے لگے گا اور جب وہ جذبہ مضبوط ہو جائے تو سات سال سے چودہ سال کی عمر تک اس سے اپنی جائز باتیں اس طرح منوانا چاہئیں کہ جس طرح آقا غلام سے باتیں منواتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو آئندہ اس میں بغاوت پیدا ہو جائے گی۔

لہذا یہ عمر تربیت کا خاص زمانہ ہے زیادہ لاڈ پیار اولاد کو بگاڑ سکتا ہے۔ چودہ سال کی عمر کے بعد رشد و بلوغ کا زمانہ ہے اس زمانے میں والدین اپنی باتیں منوانے کے ساتھ ساتھ اس کی جائز اور مناسب خواہشات پر بھی عمل درآمد کرتے رہیں تا کہ بچے میں خود اعتمادی اور معاملات کو سمجھنے کا ادراک پیدا ہو سکے۔ زمانہ بلوغت میں بچوں کے بدلتے ہوئے رویوں کے ذمہ دار بہت حد تک والدین ہوا کرتے ہیں۔ بے راہ روی کے اس دور میں بچوں کو مکمل طور پہ گہری توجہ اور تربیت کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ اس کے بر عکس اس عمر میں والدین کی اولاد سے حد درجہ محبت ان کو ناکارہ و برباد کرنے کا سبب بنتی ہے اور یہی حد درجہ محبت اولاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور وہ نازک مزاج اور ناز و نخرے کی عادی ہو جاتی ہے۔

جب یہی بچے زمانہ بلوغت طے کرنے کے بعد سماجی زندگی کا حصہ بنتے ہیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ملازمت کے حصول کے لیے قدم رکھتے ہیں تو وہاں رکاوٹوں اور مشکلات سے بھرپور حالات پر بھلا کوئی دوسرا اس کی ناز برداری کیوں کرنے لگے گا؟ جب اسے عادت کے بر خلاف حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسے قدم قدم پر ٹھیس پہنچتی ہے اور وہ عملی طور پہ سماج سے کٹ کے رہ جاتا ہے۔ لہذا حقیقی محبت یہ ہے کہ آپ اولاد کو دنیا کے سرد و گرم معاملات سے مقابلہ کرنے کا عادی بنائیں اور اس کے ذہن سے یہ ضروری سبق محو نہ ہونے دیں کہ اس کا دنیاوی وجود عارضی ہے۔ آخرت کی زندگی دائمی ہے جسے کسی بھی صورت برباد نہیں ہونا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1240 Articles with 518073 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jan, 2019 Views: 194

Comments

آپ کی رائے