مشکل رسم ورواج

(Choudhry Javed, )

آج ہمارے معاشرے میں شادی کے نام پر غریب کی عزت کا جنازہ نکالا جارہا ہے جبکہ پیسے نہ ہونے کے باعث کئی لڑکیاں بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکی ہیں اسلام میں جتنی آسان ایک مسلمان کی شادی ہے اسے اتنا ہی مشکل ہم نے اپنی رسم وورواج سے بنا ڈالا ہے چند سال قبل جب لڑکی کی شادی ہوتی تھی تو رخصتی کے وقت وہ والدین کے گھر سے روتے ہوئے ڈولی میں بیٹھا کرتی تھی کہ جس گھر میں پیدا ہوئی اس سے جدائی کا دکھ اور آگے نئے گھر میں امید کے ساتھ ساتھ اندیشے اسے رونے پر مجبور کر دیتے تھے کہ اﷲ جانے اب مستقبل کیسا ہو گا۔ جب سے گلی محلوں میں بیوٹی پارلر کھل گئے اور دلہن کو تیار کروانے کا فیشن شروع ہوا تو ایک تو ان فیشن زدہ پارلر والیوں نے رونے پر پابندی لگا دی دوسرا لوگوں کو برائیڈل میک اپ کے نام پر دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ان پارلرز سے پہلے دلہن کا ہلکا پھلکا میک اپ کوئی گلی محلے کی ہمسائی یا پھر شادی میں شرکت کرنے والی رشتہ دار شادی شدہ لڑکی کر دیا کرتی تھی اور وہ بھی بالکل فری میں جب پارلرز کا رواج چل نکلا تو شروع میں یہ میک اپ چند سو روپوں میں کیا جاتا تھا لیکن جیسے جیسے یہ عام ہوتا گیا ویسے ویسے اس میں جدت لانے کے ساتھ ساتھ اس کا ریٹ بھی بڑھنے لگاجو میک اپ چند سال قبل صرف شادی کے دن چند سو روپے میں ہوتا تھا اب وہ پچیس ہزار سے دو لاکھ تک ہوتا ہے۔ پھر ولیمے کے دن کا میک اپ اور اس کی فیس الگ سے ہوتی ہے ایک مسلمان لڑکی جس کی شادی کے دن اتنا مہنگا میک اپ کیا گیا ہو وہ کس طور فرض نماز ادا کر سکتی ہے جب کہ اسے وضو کرنے کی بھی اجازت نہیں کہ منہ دھونے سے میک اپ خراب ہو جائے گا صرف ایک دن کے چند گھنٹوں کیلئے اپنی شکل پر یہ مضر کیمیکلز کا لیپ کروا لینا اور اس پر ہزاروں روپے اجاڑ دینا کہاں کی دانشمندی ہے جب دو چار روز کے بعد وہی اصلی شکل و صورت کے ساتھ رہنا ہے تو اس مصنوعی حسن کا مقصد اور فائدہ کیا ہے اس برائیڈل میک اپ کو رواج دینے میں شادی ہالز کا بھی اہم کردار ہے۔ پہلے شادیوں میں مرد اور عورتیں الگ بیٹھتے اور الگ کھانا کھاتے تھے لیکن شادی ہال میں مکس گیدرنگ اور سٹیج پر دلہا دلہن کی رونمائی نے میک اپ کی ضرورت پیدا کی اور سونے پر سہاگہ کہ جدید کیمروں کے ساتھ ایکسپرٹ فوٹوگرافر کا فوٹو شوٹ تو شادی کا لازمی حصہ بلکہ فرض سمجھا جاتا ہے اس فوٹو شوٹ اور مووی کلچر نے شادی میں شریک ہونے والے ہر مرد و عورت کو اس میک اپ کا گاہک بنا دیا ہے لوگ بطور مہمان بھی شادی میں میک اپ کے بغیر شریک ہونا گناہ سمجھتے ہیں زندگی کا یہ مصنوعی پن ہمیں کس طرف لے جا رہا ہے کہ اب ایک دوسرے سے ملنے میں خلوص کم اور دکھاوا زیادہ نظر آتا ہے اسی جعلی دکھاوے کا نتیجہ یہ ہے کہ جتنا خرچ دلہن کے ایک دن کے لباس اور چند گھنٹوں کے میک اپ پر کر دیا جاتا ہے اتنے میں غریب کی بیٹی کی شادی کی جا سکتی ہے یہ وہ فضول خرچی ہے جس کا بعد کی شادی شدہ زندگی میں کوئی عمل دخل اور فائدہ نہیں ہے ماسوائے چند تصاویر اور مووی اچھی بن جانے کے یہ تصاویر اور مووی بھی چند بار کے بعد کوئی نہیں دیکھتا کہ پھر اصل زندگی کے مسائل سے واسطہ پڑ جاتا ہے یہی وہ فضول رسمیں اور رواج ہیں جن کی وجہ سے شادی مشکل ترین عمل بنا کر رکھ دیا گیا ہے یہ بات ہی سب کو مار دیتی ہے کہ اگر دلہن کا لہنگا نہ بنایا تو لوگ کیا کہیں گے مہنگا میک اپ نہ کروایا تو لوگ کیا کہیں گے پھر یہ سب کرنے کیلئے قرض کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے اور چند دنوں بعد خوشیوں کی جگہ پریشانیاں لینے لگتی ہیں شادی کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ نکاح اور ولیمے پر فنکشن یادگار ہونا چاہیئے چاہے قرض لے کر ہی کیوں نہ کرنا پڑے بلکہ اس سے دو خاندان آپس میں ایک نئے رشتے کے ذریعے جڑتے ہیں یہ رشتہ ایک دوسرے پر بوجھ بننے کی بجائے ایک دوسرے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے والا ہونا چاہیئے شادی کا فنکشن اتنا آسان اور سادہ ہونا چاہیئے کہ جیسے روٹین کا ایک کام تھا اور آرام سے ہو گیا ایک بات جو ہمارے ہاں اکثر نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ذہن میں ہوتی ہے وہ یہ کہ شادی یادگار ہونی چاہیئے یہ کونسا روز ہونی ہے انکے لئے میری نصیحت ہے کہ شادی ایک یا دو روز کے فنکشن کا نام نہیں ہے کامیاب شادی تو ساری زندگی ایک دوسرے کا خیال کرتے ہوئے ایک دوسرے کیلئے قربانیاں دیتے رہنے کا نام ہے۔۔جو لڑکے لڑکیاں کوٹ میریج کرتے ہیں انکی شادی پر کونسا لہنگا اور میک اپ دلہن کیلئے ارینج کیا جاتا ہے وہ بھی تو شادی کر رہے ہوتے ہیں تو اگر کورٹ میں چند سو روپے خرچ کرکے شادی ہو سکتی ہے تو عملی زندگی میں ہر شادی ایسے کیوں نہیں کی جا سکتی کہ اس پر بے جا اخراجات نہ کئے جائیں۔ہم شادی کارڈ پر یہ حدیث تو لکھ دیتے ہیں کہ ''نکاح میری سنت ہے اور جس نے میری سنت سے منہ موڑا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں'' تو ہمیں شادی بیاہ کے بارے باقی سنتیں یاد کیوں نہیں رہتیں فضول خرچ کو قرآن مجید نے شیطان کا بھائی کہا ہے کیا شیطان کا بھائی جنت میں جائے گا اسلام میں کوئی اور تقریب نہیں ہے سوائے مسجد میں نکاح اور لڑکے والوں کی طرف سے ولیمہ کے باقی سب رسمیں بشمول جہیز ہندوؤں کا طریقہ ہے اب یہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرکے آپ کا ساتھ چاہتے ہیں یا ہندوؤں کے طریقے پر چل کر قیامت کے دن ان کے ساتھ اپنا انجام چاہتے ہیں۔ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وسلم زبانی دعووں سے نہیں بلکہ خوشی اور غم کے موقعوں پر اپنے عمل سے ثابت کرنا پڑے گا ورنہ خالی خوش فہمیوں میں رہ کر کامیابی نہیں مل سکے گی
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Choudhry Javed

Read More Articles by Choudhry Javed: 22 Articles with 8641 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jan, 2019 Views: 433

Comments

آپ کی رائے