ہری پگڑی،لال دوپٹہ،سفید کالر کرائمز

(Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 پاکستان میں آج بہت سی اقسام کے کرائمزہر ہر لمحہ ہو رہے ہیں۔ہری پگڑی، لال دوپٹہ اور سفید کالر کرائمز کا چر چا تو ابتک تقریباََ عام ہو چکا ہے۔ان سے بھی بڑے کرائمزبندوق کی نالی پر ہوتے رہے ہیں جن کو عموماََ خوف کے مارے صحافی بھی ڈر کے مارے اجاگر نہیں کر پاتے ہیں۔کوئی اکادکا صحافی یا عام تجزیہ نگار اگر سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں تو اُن کے روزگار اور جانوں کے لالے پڑے ہوتے ہیں،کسی کو مسنگ پرسنز ،حادثاتی موت یاٹارگیٹ کلِنگ کانشانہ بنا دیا جاتا ہے۔اس ضمن میں ہتھوڑے کے کارنامے ان سب سے وکھرے ہیں۔یہاں تو کسی کا اقتدار چھین کر بندوق کی نوک کو شاملِ کر کے من مانی کٹھ پتلیوں کے حوالے کرا دیا جاتا ہے۔اور پھر کہا جاتا ہے ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔آج تحریر و تقریر پر ایسی قدغن اورپابندیاں ہیں کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ہم کہتے ہیں جس کا جو کام ہے وہ ہی، وہ کام کرتا ہوا اچھا بھی لگتا ہے۔مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اپنا کام چھوڑوکر دوسروں کے کاموں میں ٹانگ اڑاؤ کے فارمولے پر کاربند ہیں! جو ہماری طاقت کی پالیسی کا بھی حصہ ہے۔میرے قائد نے پاکستان ہندوستان کے مظلوم اور پسے ہوئے مسلمانوں کے لئے بنا یا تھا۔ مگر آج ہر طاقتور پاکستان کے عوام کی قسمت کا مالک بنا دکھائی دیتا ہے۔جن لوگوں کو میرے وطن نے عزت دی وہ ہی اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔

پہلے ہم ہری پگڑی کرئمز کی طرف آتے ہیں اسلام نے زکواۃ خیرات کا نظام بے سہاروں اور مفلوک الحال لوگوں کی معاشی بد حالی کو دور کرنے کے لئے دیاہے۔مگر یہاں اسلام اور سماج کے ٹھیکے داروں نے غریب کے منہ کا لقمہ چھننے کے نئے نئے ڈھنگ نکال لئے ہیں۔ دعوتِ اسلامی کے مولویوں کی کرپشن کی داستان 16جنوری2019کو ایک اخبار میں پڑھ کر ہمارے تو پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔خبر میں کہا گیا ہے کہ’’ حاجی عمرعطاری اور حاجی عبدلحبیب عطاری (فیصل کنگ)کی مبینہ بد عنوانیاں، زمینوں کی فروخت میں گھپلے اور حوالہ ہنڈی سمیت دعوتِ اسلامی کے مالی معاملات میں خرد برد کا حساب نہ دینے پر دعوتِ اسلامی کی مرکز ی شورا کے مخلص ارکان میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے‘‘ اس سلسلے میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی شورا کا اجلاس طلب کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔جہاں حاجی عمران عطاری اور حاجی عبدلحبیب عطاری کے بارے میں اہم فیصلے کئے جائیں گے۔حاجی عمران عطاری ملک سے باہر ہیں وہ پاکستان آنے کو تیا نہیں ہیں۔ وہ اپنی صفائی مدنی چینل پر آکر دیں گے۔مخلصین دعوتِ اسلامی میں اور عوام میں اس حوالے سے سخت تشویش پائی جاتی ہے کہ دنیا بھر میں دینِ اسلام کی دعوت دینے والی دعوتِ اسلامی میں ایسے کرپٹ عناصر بھی موجود ہیں۔ذرئع کے مطابق یونی ورلڈ ٹریول اینڈ ٹور پرائیویٹ لمیٹڈ(جس کی بد عنوانیوں کے قصے کئی سال پہلے بڑے عام تھے)کے حبیب عطاری عرف فیصل کنگ نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے بیٹے محمد مدنی رضااور خود کو بچانے کے لئے ڈیل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔جس سے ان کا سیاہ چہرہ اور واضح ہو رہا ہے۔

در حقیقت یہ لوگ دین کے نام پر اپنی گور میں انگارے بھر رہے ہیں۔یہ تو بہت بڑا معاملہ ہے۔اس کے علاوہ ملک بھر میں دینی مدارس یتیم خانوں اور شیلٹر ہومز کے نام پر اور دینِ اسلام کی خدمت کے نام پر بے تحاشہ لوگ کچھ اہم دینی اداروں کو چھوڑ کراس لوٹ کھسوٹ کے بازارکا حصہ بن کر صدقہ زکواۃ، خیرات کوبٹور کر اپنی اپنی جیبیں بھر رہے ہیں اور جائدادیں بنا رہے ہیں۔ ان کی چھان پھٹک کرنے ولا کوئی نہیں ہے۔ لوگوں کو اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ حقدار اداروں کو تلاش کر کے اپنی زکواۃ خیرات اور صدقات کو مستحق لوگوں اوراداروں تک پہنچاسکیں۔اس وقت ملک میں ہری پگڑی کرائمز کو روکنے کی شدید ضرورت ہے۔بعض لوگ اس پیسے کو دین کے نام پر لے کردہشت گردی کے نیٹ ورک بھی چلا رہے ہیں۔جن کی روک تھام سب سے پہلے ریاست کو کرنی ہے۔اس کے ساتھ ہی عوام کو بھی دیکھنا ہواگا کہ ان کی زکواۃ، خیرات اور صدقات کہاں اور کیسے استعمال ہو رہے ہیں؟

اب آئیے لال دوپٹہ کرائمز کی جانب تو موجودہ وزیر اعظم عمران احمد نیازی کی بہن علیمہ نیازی کا لال دوپٹہ کرائم پوری قوم نے ملاحظہ کر لیا ہے۔ عمران کہتے تھے کہ میرے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ماں کینسر کے عارضے میں مر گئی ،اور لوگ جانتے ہیں کہ باپ کرپشن کے الزام میں سرکاری نوکری سے نکا لا گیا۔تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کونسی جائداد کا حصہ علیمہ نیازی کو والدین سے ملا ؟جس سے اُس نے دنیا میں اربوں روپے کی جائدادیں بنا لیں؟ علیمہ خان کی صرف امریکہ میں دولت30 لاکھ ڈالر کی مالیت کی ہے یعنی 45 ارب پاکستانی روپے میں ہے۔جب کہ دوبئی میں ان کی جائداد کی ملکیت74میلین ہے۔ مگر وہ میڈیا کو سوالوں کے جوابات دینے سے گریزاں ہیں۔دوسری جانب نہ نیب نے موصوفہ کی کرپشن پر ہاتھ ڈالا نہ ہی سپریم کورٹ نے کوئی جے آئی ٹی بنائی ۔بلکہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس مالِ مصروقہ کی حقیقت معلوم کرنے کے بجائے، کے وزیر اعظم عمران نیازی کو ریلیف دینے کی خاطر اس پر جرمانہ عائدکر کے کرپشن کے ذیعے بنائی جانے والی جائداد کی کہانی کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے زکواۃ خیرات کے پیسے کو اکٹھا کر کیلال دوپٹہ کرائم کیا ہے۔ ایک اور لال دوپٹہ کرپشن آیان علی سے منسلک بتایا جاتا ہے۔جس میں کروڑوں کی منی لانڈرنگ بتائی جا رہی ہے۔

سفید کالر کرئمز میں سب سے آگے جنرل کریسی کے بعض ارکان اور عدلیہ کے بھی چند لوگ آتے ہیں۔ اس کے بعد بیوروکریسی کا نمبر آتا ہے۔پھر بڑے بڑے تاجر اور صنعتوں سے جڑے لوگ آتے ہیں۔سب سے آخر میں سیاست دان آتے ہیں ۔مگر چونکہ ان کے ہاتھ میں اقتدار آتا ہے تو یہ کرپٹ مافیہ کے خلاف کاروئیان کرنا چاہتے ہیں ۔یہ ہی وجہ کہ جیسے ہی اقتدار پر ان کی گرفت کم ہوتی ہے تو جمہوریت کے خلاف پیراسائٹس نکل کر ان کا نمدہ ٹائٹ کرنے پر پِل پڑتے ہیں۔موجودہ دور میں ہائی لائٹ ہونے والے کرئمز میں ہری پگڑی،لال دوپٹہ اور وائٹ کالر کرائمز اہم ہیں ۔ مگروائٹ کالر کرئمز کا اسپیکٹرم انتہائی وسیع ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 121763 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jan, 2019 Views: 513

Comments

آپ کی رائے