ٹوٹ جائیں وہ ہاتھ جو ناتواں پر اٹھتے ہیں

(Luqman Hazarvi, )

نینسی کو اس کے والدین نے فادر فرنینڈس کے گرجا گھر میں لا چھوڑا۔اس کی ٹوکری میں ایک خط بھی رکھا جو عام روش سے ہٹ کر تھا۔فرنینڈس نے یہ خط بارہا پڑھا۔یہ خط اس کے ماں باپ کی طرف سے تحریر کردہ تھا۔خط میں لکھا گیا تھا کہ بچی کسی گناہ کی پیداوار نہ تھی بلکہ معاشرے کی غلاظتوں سے تنگ آئے والدین بچی کو نیک بنانے کی التجا کررہے تھے۔فادر فرنینڈس سے خصوصی توجہ سے بچی کی روحانی تربیت کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

جب نینسی نے بلوغت کی حدود میں قدم جمایا تو وہ کمال علم و عمل کی ایک زندہ و جاوید مثال تھی۔نینسی کو چرچ کی مصروفیات میں سے جو وقت ملتا وہ اس میں کتب بینی کا شوق رچاتی۔وہ ہر مذہب کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔وہ مشکل میں تھی۔اسے ہر مذہب کے مثبت رویے پرکشش لگتے تھے۔ایک دن وہ اپنے شوق کی تسکین کے لیے ایک کتب خانہ میں داخل ہوئی۔وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ کوئی شخص کافی فاصلے سے اس کے تعاقب میں ہے۔جارج حیرت میں مبتلا تھا کہ یہ حسن و جمال کیوں اسے اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔نینسی نے اس کتب خانہ سے ایک کتاب"دی ہولی پرافٹ" خرید کر اپنے شوق میں اضافہ کیا۔وہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب"دی ہنڈرڈ" میں انھیں دنیا کے سو بہترین افراد میں سب سے اول کیوں قرار دیا؟

جارج مسلسل اس کا تعاقب کررہا تھا۔یہاں تک کہ اسے معلوم ہوگیا کہ یہ لڑکی کس چرچ سے تعلق رکھتی ہے۔اب جارج کا اگلا ہدف تھا کہ کیسے وہ اس لڑکی سے ملاقات کرسکے گا۔اسے معلوم تھا کہ کہ اس چرچ میں اس کے دوست کا قاتل جوزف بھی ہے۔اس کے ذہن نے لمحوں میں کئی نتیجہ خیز فیصلے کرلیے تھے۔اس نے گرجا گھر کی طرف سفر جاری رکھا لیکن یہ سفر عبادت کے لیے نہیں کررہا تھا بلکہ اس گرجا گھر میں موجود جوزف سے کچھ کام نکلوانے کے لیے کررہا تھا۔اسے یقین تھا کہ وہ جوزف کو آلہ کار بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔جارج نے جوزف کو قبرستان کے پیچھے والے کھنڈر پر ملاقات کے لیے آمادہ کرلیا۔اور اس نے ڈالرز سے بھرا بیگ بھی جوزف کے حجرے میں پھینک دیا۔

ہم اس وقت انتشار و خلفشار کی زندگی جی رہے ہیں۔ہر کسی کو کسی حد تک پریشانی کا سامنا پڑتا ہے۔مثبت پہلو کو درگزر کرکے ہر کسی کے منفی پہلو پر ہم نظر جمائے بیٹھے ہیں۔کسی کے کام کو سراہنے کے بجائے ہم اس میں بھی نکتہ چینی کرتے ہیں۔کوئی مظلوم یا غریب مل جائے تو اس پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیتے ہیں۔عورت جو کہ اس معاشرے کا ایک مظلوم طبقہ ہے۔اسے ہر کوئی اپنے مقصد کے لیے استعمال کرلیتا ہے۔مغربی ممالک نے تو اس کا جینا تک حرام کردیا ہے۔صرف وہ دعووں کے علمبردار ہیں کہ ہم نے مرد و خواتین میں تفریق کو ختم کرکے یکساں حقوق فراہم کیے ہیں۔حقیقت اس سے کوسوں دور ہے انہوں نے عورت کی زندگی کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اسلام نے عورت کو تحفظ فراہم کیا۔اسلام نے عورت کو عزت بخشی عورت کے حقوق وضع کیے۔عورت کو ایک مقام بخشا۔ کمانے کی ذمہ داری اسلام نے مرد پر عائد کی اور عورت کو سکون کے ساتھ گھر میں رہنے اور بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی ذمہ داری دی۔ چونکہ مغربی ممالک میں ایسا ہوتا نہیں تو انہوں نے خوامخواہ کے جدید فلسفے سے عورت کا وہ مقام جو اسے اسلام نے دیا ہے وہ چھینا۔آئے روز ریپ کے کیسز اسی مغربی تہذیب کا نتیجہ ہیں اور انہی کے افکار سے متاثر افراد سرانجام دیتے ہیں۔اور یہ کیسز اسلامی ممالک کی بنسبت مغربی ممالک میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔یہ محض اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے حربے استعمال کررہے ہیں اور اسلام کو ایک دہشت گرد مذہب کے روپ میں لوگوں کے دلوں میں رچانا چاہتے ہیں۔

اس دنیا میں رہنے والے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ ہر مذہب کا مطالعہ کرے۔جو مثبت پہلو ملے اسے اخذ کرلے۔جو منفی پہلو نظر سے گزرے اس کو درست کرنے کی ذمہ داری خود کو سونپے۔جو اسے بہتر لگے اس پر غور وفکر کرے۔اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے۔ہر برائی سے خود کو دور کرنے کی کوشش کرے۔خود کو سب سے بہتر سمجھ کر فیصلے نہ مسلط کرے۔بلکہ دوسروں کو بھی موقع دے اور ان کے فیصلوں پر غور وفکر کرے اور پہر اپنی سوچ سے ان کے فیصلے کا اپنے فیصلے سے تقابل کرے جو مناسب ہو اس کو لے لے۔محبت کو عام کریں۔ہر سمت محبت کا واویلا مچائیں۔جہاں محبت ہوگی وہاں رنجش نہ ہوگی۔محبت کی پاکیزگی کا سبب ہے۔ہمیں ہر جگہ محبت کو عام کرنا ہے۔یہی محبت ہر انقلاب کا آغاز ہے۔
(جاری ہے)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 186 Print Article Print
About the Author: Luqman Hazarvi

Read More Articles by Luqman Hazarvi: 24 Articles with 8400 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: