تم زندہ کیوں ہو، مر کیوں نہیں جاتے

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: ابن نیاز
ساہیوال میں ہونے والے واقعے نے تقریباً پوری قوم کی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سوائے ان مطلب پرستوں کے جو یا تو پیسے کے غلام ہیں یا کرسی کے نشے میں بدمست ہیں۔ جنھیں اس بات کا یقین ہے کہ ان پر یہ وقت نہیں آسکتا۔ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ نیچے اگر تم خدا بنے بیٹھے ہوتو اوپر بھی کوئی ہے۔ کوئی ایسا جو تمھاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ رسی جتنی بھی دراز ہو، اس کا ایک سرا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جس وقت وہ رسی کھینچے گا تو پھر تم نہ صرف کھینچتے ہوئے اس کی طرف آؤ گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ جب رسی کا آخری حد قریب ہو تو تم زمین سے چھ فٹ اوپر لٹکے ہوئے ہو۔ اس کی دراز رسی کا کھینچنے کے بعد آخری جھٹکا موت کا جھٹکا ہے لیکن اس طرح کہ باقی دنیا کے لیے عبرت کا نشان بنا کے رکھ دینا ہے۔

اس کے لاٹھی جب ظالم پر پڑتی ہے تو آواز نہیں آتی لیکن اس کے پڑنے نشانات تا قیامت ہر ایک کو دکھائی دیتے ہیں البتہ اہل شعور کو اس کی آواز سنائی بھی دیتی ہے۔ یاد رہے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ کبھی کے دن لمبے تو کبھی کی راتیں۔ برا وقت دستک دے کر نہیں آتا اور نہ ہی اس کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ تو اے کرسی والو، صاحبان اقتدار کان کھول کر سن لو کہ تم جیسے انصاف نہ کرنے والوں کا حال بہت برا ہوا ہے۔ غیر مسلموں کی مثالیں مت دیکھو۔ مسلمان حکمرانوں کی تاریخ کے اوراق پلٹ کر پڑھ لو۔ جس جس حکمران نے ظلم کیا یا اس کے کسی کارندے نے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے، ان کا خاتمہ بہت برا ہوا۔ پاکستان کے حکمرانوں کی تاریخ ہی پڑھ لو۔ اپنی کرسی کے نشے میں قوم و ملک کے ساتھ جس نے کھلواڑ کیا اس کے ساتھ کیا نہیں ہوا۔ مجھے کوئی بھی نام لکھنے کی ضرورت نہیں کہ تم سب جانتے ہو۔

محترم وزیر اعظم صاحب، آپ کے وزراء ہتھے سے اکھڑ گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہوتا رہتا ہے، پوری دنیا میں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔کوئی کہتا کہ وہ دہشت گرد تھے اور دہشت گردوں کے بچے بھی ہوتے ہیں، کیا فرق پڑتا ہے۔ کوئی کہتا ہے انکوائری ہورہی ہے اگر والدین معصوم نکلے تو بچوں کو دیت دے دیں گے۔ جناب وزیر اعظم صاحب، بالکل اس طرح کے واقعات ہوتے ہوں گے، اس سے انکار نہیں لیکن میدان جنگ میں بھی اگر کوئی مخالف فوجی ہاتھ کھڑے کر دے، سرینڈر کر دے تو اس کو بھی گرفتار کیا جاتا ہے اور یہاں پل میں ماشہ پل میں تولہ کے مصداق بیان پر بیان بدلے جا رہے ہیں۔

پہلے مخبر کی اطلاع پر سی ٹی ڈی نے گاڑی کا پیچھا کیا۔ اسے روکا، جب پوچھ گچھ کی جانے لگی تو انھوں نے فائرنگ شروع کردی۔ جس پر جوابی فائرنگ کی گئی۔ گاڑی والوں کی طرف سے یہ کیسی فائرنگ تھی کہ سرکاری ایک بھی شخص کو خراش تک نہ آئی۔ نہ ہی کہیں باہر کہیں پر کسی گولی کا نشان نہیں اور گاڑی کے اندر والوں کو ایک کو سولہ گولیاں، ایک کو بارہ، ایک بچی کو چھ گولیاں لگتی ہیں۔ بچے جھوٹ نہیں بولتے۔ ایک بچہ بتا رہا ہے کہ اس کے ابو نے ان کو کہا بھی کہ وہ شادی پر لاہور جا رہے ہیں۔ ان سے پیسے لے لیں لیکن گولی نہ ماریں۔

دو معصوم بچیوں کی سہمی ہوی حالت بتا رہی ہے کہ ان کے والدین کو آپ نے کیا کچھ کہا ہو گا اور آپ سی ٹی ڈی والو، جیسے کسی نے آپ کو باقاعدہ طور پر ان کو مارنے کے لیے اجرت دی ہو کہ کچھ بھی ہو جائے ان کو نہیں چھوڑنا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ بچوں کو کیسے زندہ چھوڑ دیا؟ اس کے بعد آپ اطمینان سے گولیاں مار کر چلے گئے۔ بچوں کو پٹرول پمپ پر کھڑا کر دیا۔ کمال ہے۔اگر وہ دہشت گرد ہوتے تو یہ تو آپ کے لیے سنہری واقعہ ہوتا کہ آپ ان کو گرفتار کروار کر ان کو میڈیا کے سامنے لاتے۔ آپ کے اور آپ کی آفیسر نبیلہ غضنفر کی رپورٹ کے مطابق ان سے خودکش جیکٹس، دستی بم اور دوسرا اسلحہ برآمد ہوا۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان دہشت گردوں کی لاشوں کو ان کے اسلحے سمیت آپ نے نمائش کے لیے کیوں نہیں رکھا۔ ان کی لاشوں کی تصاویر سے نظر آرہا ہے کہ انھوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔

میرے الفاظ میرا ساتھ نہیں دے رہے۔ دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ آنکھوں سے آنسو نہیں نکل رہے کہ پتھرائی ہوئی ہیں۔ صرف سوالات ہی بس گئے ہیں کہ کارروائی کرنے والوں کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ اگر ان کے کسی سینیئر ان کو مارنے حکم دے ہی دیا ہے اور اصل صورت میں انھوں نے جب حقیقت جان لی تھی تو فوراً سینیئر کو مطلع کیوں نہیں کیا۔ ان کو یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ یہ ان کے بھی بچے ہیں۔ کل یہ وقت ان پر بھی آسکتا ہے۔ اگر سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کو معطلی کے دور میں بالوں سے پکڑ کر کھینچا جا سکتا ہے تو آپ کی کیا حیثیت ہے۔ اصل حقیقت پر پردہ ڈالنے کی خاطر آپ کو بھی دنیا سے اٹھایا جا سکتا ہے جس طرح شہنشاہ کو مار دیا گیا تھا۔

سونے پہ سہاگہ وزیر اعلیٰ پنجاب صاحب زخمی ہوئے بچے کو ہسپتال میں پھول دینے جا رہے ہیں۔ پھول آپ سی ٹی ڈی کے اس افسر کو دیں، ان کارروائی کرنے والوں کو دیں جنھوں نے اتنا بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ ہوسکتا ہے ان کے والدین کا تعلق دہشت گردوں سے ہو۔ بقول فیاض الحسن چوہان کے گاڑی کے اندرسے بھی فائرنگ کی گئی۔ پھر گاڑی بھگانے کے چکر میں تھے۔ اگر وہ گاڑی بھگا کر لے جارہے تھے تو ٹائروں میں گولی مار کر روکی جا سکتی تھی۔ جتنی تعداد میں گولیاں لگی ہیں پتا چلتا ہے کافی افراد تھے مارنے والے، تو ان سب کو گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ کلبھوشن کو مہمان خانے میں رکھا جا سکتا ہے ان کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سر، یہ پھول نہیں ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے گئے تھے۔ کل کو یہی بچے بڑے ہو کر جب اس نظام سے بغاوت کریں گے تو آپ کہیں گے ان کی تربیت ہی ایسی کی گئی تھی۔

ان سب افراد سے جنھوں نے یہ کہا کہ اس طرح تو ہو جاتا ہے کوئی بڑی بات نہیں۔ان کے لیے یہی کہوں گا اللّٰہ کرے آپ سب پر یہ وقت آئے جب اپ کے اپنے پیاروں کو آپ کی آنکھوں کے سامنے گولیاں ماری جائیں اور پھر آپ کہیں کہ خیر ہے، اس طرح کے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں لیکن کیا کروں یہ بدعا نہیں دے سکتا کہ ان کا کیا قصور ہے۔ ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ آپ کا حال اتنا برا ہوا، اتنا برا ہو کہ پوری دنیا اس پر عبرت پکڑے۔ پنجاب کی پولیس پہلے ہی بدنام تھی اب اس واقعے نے عوام کا رہا سہا اعتبار بھی کھو دیا ہے۔ اوپر سے سی ٹی ڈی اور ڈولفن فورس کے بے جا اختیارات نے عوام کے دلوں سے ان کو بہت دور کر دیا ہے۔

جناب وزیر اعظم صاحب قوم کو آپ سے بہت توقعات وابستہ ہیں جو کہ گذشتہ چھ ماہ میں ایک ایک کرکے ختم ہوتی جا رہی ہیں اوپر سے اس واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ عوام تب ہی آپ پر بھرپور اعتماد کریں گے جب پہلے تو آپ اپنے خوشامدی وزیروں سے جان چھڑوائیں گے اور اس سے پہلے اس ساہیوال واقعے میں ملوث ہر فرد کو بیچ چوراہے میں پھانسی دلوائیں گے، چاہے وہ کسی کے بھی دل میں بستا ہو۔ ورنہ پھر اس عوام کے لیے ایک ہی جملہ بچتا ہے کہ تم زندہ کیوں ہو، مر کیوں نہیں جاتے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 172 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1117 Articles with 348675 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: