میں غم دل کا کس کو سناؤں

(Saima Jabeen Mehak, )

اخباری تراشے میں سنجیدہ موضوعات کے درمیان یہ شاعرانہ کالم کا عنوان؟ کچھ سوچنے پر مجبور کرے گا۔مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ یہ ناچیز کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری کرنے کا بھی شوق رکھتی ہے اور شاعری کی ایک کتاب "سلگتی یادوں کے دیپک "شائع بھی ہو چکی ہے۔ لیکن اخبا ر کے اس صفحہ پر خدارا میں کوئی شعری روداد بیان کرنے نہیں جا رہی بلکہ اس اہم ترین کالمی صفحہ پر ایک گوشہ پاتے ہوئے اس موضوع کے حوالے سے کچھ سماجی مسائل پر روشنی ڈالنا چاہوں گی۔ امید ہے کہ اس کالم کو پڑھنے کے بعد آپ خود کو ان افراد کی جگہ پر رکھ کر ضرور سوچیں گے جن کے لیے میں نے اس موضوع کو تکیہ کلام بنایا۔

پچھلے کالم کی اشاعت کے بعد استاد محترم جناب سردار امتیاز خان صاحب کی کال آئی جن سے مجھے صحافت پڑھنے اور سمجھنے کا شرف حاصل ہے میں نے کہا سر میں کالمز کے ساتھ افسانہ نگاری کے بارے میں سوچ رہی ہوں لیکن اس بات پر ایک زوردار ڈانٹ پڑی کہ میری منزل افسانہ نگاری نہیں ہے اگر مجھے سماجی و معاشرتی مسائل کی عکاسی کرنی ہے تو مجھے اپنے قلم سے حقیقی پیغام دینا ہو گا۔اور وہ مسائل جو افسانوی کہانیوں کو جنم دیتے ہیں ان کو کالمز کی صورت میں بیان کر کے ہر عوام و خواص تک پہنچانا ہو گا۔ لہٰذا اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک سماجی مسئلے کو حقائق کی روشنی میں بیان کرنے کی کوشش کروں گی۔

اسلا م میں تعلیم کا حصول مر د و عورت پر لازم قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسے طبقات ابھی بھی موجود ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کو عیب سمجھتے ہیں۔ اور اس عیب کو عیب سمجھنا بھی تعلیم کی کمی ہے۔ تعلیم انسان کو شعور عطا کرتی ہے۔اور جب شعور کے بنددروازے کھلتے ہیں تو انسان اپنا اشرف المخلوقات ہونے کا درجہ حاصل کرتا ہے۔ تعلیم کے بغیر انسانی ذہن ایک سیل بند دروازہ ہے انسانی ذہن کو ایک پیراشوٹ کی مثال دی جاتی ہے کہ یہ اُس وقت ہی کام کرتا ہے جب اسے پیراشوٹ کی طرح کھولا جائے۔ اور یہ کھلی فضا وجدان و تخیلات کا مجمع ہے جہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان اس معاشرے میں ارتقاء کی منزلیں اپنے شعور سے طے کرتا ہے۔ ہر مہذہب ریاست کچھ نظریات کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے اور الحمد ﷲ ہم جس ریاست کے مکین ہیں اوراسے جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا اس کی بنیاد لا الہٰ الاﷲ تھی ،یعنی اس ریاست کے حصول کے مقاصد آج سے چودہ سو سال پہلے ہی متعین کر دئیے گئے تھے، اور مسلمانانِ ہند کے ذمہ تعلیماتِ محمدی کی پیروی کرتے ہوئے لا الہٰ الاﷲ کی تجدید نو تھی۔ جہاں ہمارے سیاسی رہنماؤں نے اس ریاست کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا وہاں برصغیر میں روحانی پیشواؤں کی خدمات بھی ناقابلِ فراموش ہیں جن کی تبلیغ ،اور اسلام کے دئیے ہوئے امن و محبت کے درس نے اس خطے کے مسلمانوں کے دل میں اسلا م کی محبت قائم رکھی اور یہی محبت ایک الگ ریاست کے حصول کا باعث بنی۔اسلام ایک مکمل ضابطہ ء حیات ہونے کے ساتھ ساتھ روشن خیالی کا بھی درس دیتا ہے، اوریہ کسی ایک خطے کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ اسلام کی تعلیمات کی بنیاد جو قرآن پاک اور سنت نبوی ہیں، وہ عالمین کے لیے ہے۔ اﷲ تمام جہانوں کا رب ہے رب العالمین ہے۔حضرت محمدﷺ کو رحمۃ اللعالمین کہا گیا اور قرآن میں تمام انسانوں کو ہدایت کی دعوت دی گئی۔ اس لیے دنیا میں جو بھی ریاست اسلام کے نام پر حاصل کی گئی یا کی جائے گی اُس کے لیے اسلام کی تعلیمات ،اسلام کا نظامِ عدل خوشحالی کا ضامن ہے۔ میں اپنے کالمز میں مسائل اپنے سماج کے بیان کرتی ہوں لیکن کبھی اپنے قلم کو تنگ نظر نہیں کرتی، اسلام کے امنِ انسانیت کے درس کو ذہن میں رکھتے ہوئے ظلم کے خلاف تمام انسانیت کے حق کے لیے میرا قلم بلند ہوتا ہے۔میں اپنے خیالات کو سمیٹتے ہوئے آج کے موضوع کی طرف پلٹنا چاہوں گی تاکہ قارئین کے اذہان میں اٹھتے ہوئے سوالات کا جواب دے سکوں کہ کس کا غم کس کو سنا نا ہے۔ اس ہفتے ہماری فیملی میں شادی تھی ہم سب لوگ شادی میں شرکت کرنے دوسرے شہر گئے ہوئے تھے۔ واپسی پر معلوم ہوا کہ والدہ شدید ڈیپریشن کا شکار ہیں۔ اور وجہ بجلی کا بل تھا، اس ماہ بجلی کے بل نے بہت لمبی چھلانگ لگائی اور معمول کے بل سے کچھ زیادہ آیا۔ بل پکڑانے والا دروازے سے بل پکڑا کر گیا اور بل کی رقم بتا گیا، امی سن کر پریشان ہوئیں کیونکہ اتنا بل کبھی نہ آیا تھا،انھوں نے سمجھا شاید سننے میں غلطی ہوئی وہ بل لے کر پڑوسن کے پاس چلی گئیں وہ زیادہ پڑھی لکھی تو نہ تھی لیکن اپنے اندازے قائم کر کے امی کو بتا یا کہ آپ پر کوئی جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔ امی اردو تو پڑھ لیتی ہیں لیکن انگریزی پڑھنے سے قاصر ہیں۔ اگر امی خود سے بل کی جانچ کر لیتیں تو انھیں اتنی شدید ٹینشن کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔جب ہم واپس آئے تو بل تو درستگی کے لیے بھیجا لیکن اس پر کوئی جرمانہ عائد نہیں تھا، کچھ بقایا واجبات تھے۔خیر یہ بات تو جیسے تیسے طے ہوئی لیکن امی کے چہرے کے تاثرات مجھے معاشرے کی ان تمام خواتین کا روپ دکھا گئے جو نا خواندہ ہونے کی وجہ سے ڈیپریشن کا شکار ہوتی ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ مجھے وہ تمام مشکلات محسوس ہونا شروع ہوئیں جن کا سامنا میری امی سمیت کئی خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ ایک پڑھی لکھی باشعور خاتون کے پاس وقت بتانے کے لیے کوئی نہ کوئی سرگرمی ہو سکتی ہے،مثلاً وہ مطالعہ کر سکتی ہے،اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں معاون ہو سکتی ہے، اگر خدا نخواستہ زندگی میں کوئی افتاد آن پڑے تو باعزت طریقے سے روزی کما سکتی ہے۔ معاشرہ ایسی خواتین کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے جو ناخواندہ ہونے کی وجہ سے زندگی کے دن مشقت کی چکی میں کاٹ رہی ہیں۔ خدارا! اپنی بیٹیوں کو تعلیم ضرور دلواؤ۔ تعلیم کا مقصد صرف روزگار ہی نہیں بلکہ شعور دلانا بھی ہے۔ خالی ذہن شیطان کا گھر ہے، خالی ذہن پریشانیوں کا کبنہ ہے۔ اگر ایک پڑھی لکھی عورت خوشحال زندگی بھی بسر کر رہی ہے تو کم از کم وہ اپنے فرصت کے اوقات کو کسی نہ کسی طرح کارآمد بنا سکتی ہے اور اپنی توجہ کسی صحت مند سرگرمی میں گزار سکتی ہے۔ آج کی بچی کل کی ماں ہے۔اور ماں کے ذمے ایک نسل کی تربیت کرناہے۔ ہماری ماؤں اور دادی نانیوں کا وقت جیسا تیسا تھا گزر گیا، میرا اپنا سکول ہے اور سکول میں ایسی بے شمار مائیں ہیں جوناخواندہ ہیں اور بچوں کے مسائل سمجھنے سے قاصر ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج کے موجودہ وقت میں بھی اکثر پسماندہ علاقوں میں اور کچھ قبائل میں لڑکیوں کی تعلیم کو عیب سمجھا جاتا ہے۔ عموماً تو اکثر لڑکیوں کو تعلیم دلوائی ہی نہیں جاتی اور اگر پڑھایا بھی جائے تو ابتدائی چند جماعتوں کے بعد انھیں سکول سے نکلوا لیا جاتا ہے۔ یا یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ بیٹی تو پرایا دھن ہے اس کو پڑھا کر کرنا ہی کیا ہے؟ یہ ایسی سنگین غلطی ہے جس کا وجود آج بھی ہمارے معاشر ے میں موجود ہے ۔ اور اس کا خمیازہ نسلوں کو تو بھگتنا ہی پڑتا ہے لیکن تنہا عور ت کی ذات کو کس قدر اذیت اٹھانا پڑتی ہے اس کا اندازہ یہ معاشرہ یا لوگ کیا کہیں گے نہیں کر سکتا۔ آپ کی بچی ہمیشہ بچی نہیں رہتی، اس بچی کو جوان ہو کر ایک عورت کے سارے کردار نبھانا ہوتے ہیں۔ عورت صرف بیٹی، بہن، بیوی یا بہو ہی نہیں ہے بلکہ وہ خود بھی اپنا ایک وجود رکھتی ہے۔ اُس کے اپنے جذبات و احساسات ہوتے ہیں وہ دل کا حال کس کو سنائے؟ وقت کی دوڑ دھوپ اور ذمہ داریوں کا بوجھ اُسے ہمیشہ بابل کی لاڈلی نہیں رہنے دیتا۔ جب کوئی عورت بیوہ ہو جائے اور پڑھی لکھی ہنر مند بھی نہ ہوتو اس کو لوگوں کی کس قدر اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وہ کب تک اور کس کو اپنے دل کا حال سنائے کہ اُس پر کیا بیت رہی ہے۔ اگر پڑھی لکھی ہنرمند ہو گی تو اپنے گھر کی گاڑی محنت کر کے چلا لے گی اُسے ڈیپریشن کا شکار نہیں ہونا پڑے گا۔ وہ اپنی تعلیم اور ہنر کے ساتھ اپنا درد بانٹ لے گی۔اپنے حالات کا مقابلہ اپنے شعور اور تعلیم کے ساتھ کر لے گی۔ وہ گھٹ گھٹ کہ اس خوف سے نہیں مرے گی کہ وہ زمانے کا سامنا کیسے کرے،بچوں کو کیسے سنبھالے، اﷲ نہ کرے کسی عورت پر ایسی افتاد آن پڑے لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔اور ضروری نہیں کہ عورت کو ایسے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑے، ایک پڑھی لکھی باشعور عورت اپنے بچوں کی تربیت بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔ اپنی اولاد کو وقت کی تباہ کاریوں سے بچا سکتی ہے لیکن لاعلمی سے کسی ماں کا بچہ غلط روی کا شکار ہو جائے تو زمانے والے تو محض باتیں سنا کر خاموش ہو جاتے ہیں لیکن اس ماں کا دکھ کون جانے جس کی اولاد برباد ہو گئی۔ خواتین کی ڈیپریشن میں جانے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ناخواندگی بھی ہے۔ اور تعلیم ایک ایسا زیور ہے جو آپ اپنی بیٹیوں کو پہنا دیں گے تو یقین جانیے آپ کی بیٹی کبھی زندگی کے ہاتھوں ہار نہیں مانے گی۔ لیکن تعلیم کے ساتھ بیٹی کی اچھی تربیت بھی ضروری ہے۔ اور بیٹی کی اچھی تربیت بھی ایک ماں ہی کر سکتی ہے۔ اس لیے آج کی بچی جس نے کل ماں بننا ہے اس کو تعلیم کا زیور پہنانا بہت ضروری ہے۔ میں نے کالم کے دوسرے پیرائے میں ذکر کیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ایک پڑھی لکھی ماں قرآنی تعلیمات کو محض گھر میں بھی مطالعہ کر کے سیکھ سکتی ہے ،احادیث و سنت کی کتب کا مطالعہ کر سکتی ہے، کتابوں کی صورت جو خزانہ علماء کرام نے چھوڑا ہے اس سے سیکھ سکتی ہے اور اپنے بچوں کی تربیت اسلام کے مطابق کر سکتی ہے۔ اگر تو میرا یہ کالم اس وقت کسی خاتون کے ہاتھ میں ہے تو آپ ایک بار یہ بات ضرور سوچیں کہ اگر سکولز اور مدرسے آپ کی بچوں کی تربیت بہتر انداز میں نہیں کر رہے یا مغربی تقلید یافتہ سکولوں میں بچوں کو اسلامی تعلیمات سے دور رکھا جاتا ہے تو آپ خود پڑھی لکھی اور باشعور ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مطالعے سے مستفید ہو کو معلومات حاصل کر سکتی ہیں اور اپنے بچوں کی گھر پر اسلام کے تعلیمات کے مطابق تربیت کر سکتی ہیں۔ بچوں کی صحت کے بارے میں، جسمانی ،ذہنی، اخلاقی نشونما کے بارے میں مختلف کتب کا مطالعہ کر سکتی ہیں، اس سے نہ صرف آپ کا ذہن صحت مند ہو گا بلکہ آپ ایک اچھی اور باشعور ماں کا کردار نبھائیں گی۔ اور یہ کالم کسی مرد کے ہاتھ میں ہے تو آپ اپنی بیٹیوں کو تعلیم کا زیور ضرور پہنائیں لیکن ایسی تعلیم جو آپ کی بیٹیوں کو باشعور بنائے،ہنر مند بنائے،آپ کی بیٹی بڑی ہو کر کبھی خود کا حال نہیں بتا سکے گی اس لیے اُن حالات سے لڑنے کے لیے اپنی بیٹیوں کو ضرور تیار کریں۔ اور وہ لوگ جو غربت کی وجہ سے بچیوں کو سکول نہیں بھیجتے تو یہاں پر حکومت کے ان سکولوں کی میں ضرور معترف ہوں گی جہاں بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لیے وہ کوشاں ہیں۔ ہماری حکومت بدحالی کا شکار ضرور ہے لیکن اب بھی سرکاری اداروں میں بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لیے کوشاں ضرور ہے اس لیے اس سہولت کا فائدہ ضرور اٹھائیں اور اپنے بچوں اور بچیوں کو ضرور تعلیم دلوائیں۔ اور میرا کالم اگر کسی استاد کے ہاتھ میں ہے تو خدارا ! آپ قوم کے معمار ہو۔ میر ی قوم کے بچے بچیوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ رہنے دینا۔ ایک پڑھالکھا باشعور انسان ہی معلم کے منصب پر فائز ہوتا ہے جہاں ماں باپ بچے کی تربیت میں کمی کریں وہاں آپ روحانی والدین ان کی تربیت ضرور مکمل کریں۔ اور ایک اسلامی ریاست کے مکین ہونے کے ناتے اپنے اسلام کے اخلاقی تربیت کے ڈھانچے کی پیروی ضرور کریں۔ تاکہ اس معاشرے میں پروان چڑھنے والی ہر بچی ایک مثالی ماں ہو۔ اور وقت و حالا ت کی چکی اُسے ڈیپریشن اور مایوسی کا شکار نہ بنا دے جہاں وہ کسی کو دل کا حال بھی نہ سنا سکے اور چپ چاپ ڈیپریشن کی موت مر جائے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 254 Print Article Print
About the Author: Saima Jabeen Mehak

Read More Articles by Saima Jabeen Mehak: 8 Articles with 1632 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: