بہترین استاد

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

ایک پاکستانی استاد کا دنیا کے 6بہترین اساتذہ کی فہرست میں شامل ہونا ملک کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی پریس نے اساتذہ کے عالمی مقابلہ میں پاکستانی استاد کو شامل کر کے انہیں انعامات کا مستحق قرار دیا ہے۔ یہ پاکستانی استاد احمد سایا ہیں جو کراچی کے ایک نجی اسکول میں درس و تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔ انہیں کیمبرج کی طرف سے دنیا کے بہترین استاد2019کایوارڈ ملے گا۔احمد سایا اے لیول پڑھاتے ہیں۔ انہیں سری لنکا، آسٹریلیا، فلپائن، بھارت اور ملائشیا کے اساتذہ سمیت دنیا کے بہترین6 استاد کا ایوارڈ دیا جائے گا۔ کیمرج یونیورسٹی پریس ایجوکیشن نے احمد سایا کی نامزدگی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی چھٹیاں بھی اپنے شاگردطلباء کی معاونت میں گزار دیتے ہیں، وہ اپنے طلباء کی مدد کے لئے رات کو بھی دستیاب رہتے ہیں، اضافی کلاسیں لیتے ہیں، ہر ایک طالبعلم پر محنت کرتے ہیں، 100طلباء کی کلاس میں ہر ایک طالبعلم کا روزانہ ہوم ورک چیک کرتے ہیں، طلباء و طالبات کی مدد کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں، امتحانات کے موقع پر انتھک محنت کرتے ہیں۔ انہیں یہ ایوارڈ کیمبرج میں دیا جائے گا۔ 2017گلگت بلتستان کی سلیمہ بیگم نے دنیا بھر کی دس بہترین استاد ہونے کا یوارڈ حاصل کیا ۔ انہیں گلوبل ٹیچرز پرائز کے لئے منتخب ہونے کے بعد 10لاکھ امریکی ڈالرز انعام دیا گیا۔ 2016میں گلوبل ٹیچعرز ایوارڈ ایک افغان مہاجر استاد اقیلہ آصفی کو ملا، جنھوں نے افغانستان سے پاکستان ہجرت کرنے کے بعد ایک ٹینٹ میں سکول کھولا۔ آج ان کے کوٹ چندانہ افغان مہاجر کیمپ میں 9سکول ہیں جن میں 900بچیوں سمیت ڈیڑھ ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں۔ ان کے شاگرد مہاجر ہیں نہیں بلکہ مقامی انصار بھی ہیں ،جن میں سے لاتعداد ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔پاکستان میں استاد کی عزت و احترام سے متعلق بہت بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے۔جب کہ معروف سکالر،استاد اور مصنف جناب اشفاق احمد کی تصنیف ’’ زاویہ ‘‘میں ٹیچر ان دی کورٹ ایک اہم عنوان ہے۔اسے یہاں ایک بار پھر بیان کرنا استاد کیقدر کا اعتراف کرنا ہے۔ اٹلی میں اشفاق صاحب اردو کے پروفیسر تھے۔موٹر سائیکل کا چالانہونے پر انہیں عدالت کے کٹہرے میں لایا گیا۔اشفاق احمد لکھتے ہیں۔ جج صاحب نے کہا’’ عدالت آپ سے پوچھتی ہے کہ آپ کون ہیں اور آپ کا پیشہ کیا ہے؟‘‘۔ میں نے کہا ، میں ایک ٹیچر ہوں۔ پروفیسر ہوں، روم یونیورسٹی میں۔ تو وہ جج صاحب کرسی کو سائیڈ پر کر کے کھڑے ہو گئیاور اعلان کیا،’’ ٹیچر ان دی کورٹ، ٹیچر ان دی کورٹ‘‘(استاد عدالت میں)۔ جیسے اعلان کیاگیا، وہ سارے اٹھ کر کھڑے ہو گئے، منشی ، تھانیدار، عمل دار، جتنے بھی تھے اور جج نے حکم دیا ’’فوری طور پر کرسی لائی جائے،ایک استاد عدالت میں آگیا ہے‘‘۔ جج نے کہا، ’’ اے معزز استاد !اے دنیا کو علم عطا کرنے والے استاد! اے محترم ترین انسان! اے محترم انسانیت! آپ نے ہی ہم کو عدالت اور عدل کا حکم دیا ہے، اور آپ ہی نے ہم کو یہ علم پڑھایا ہے، اور آپ ہی کی بدولت ہم اس جگہ پر براجمان ہیں۔ اس لئے ہم آپ کے فرمان کے مطابق مجبور ہیں۔ عدالت نے جو ضا بطہ قائم کیا ہے ، اس کے تحت آپ کو چیک کریں، باوجود اس کے کہ ہمیں اس بات پر شرمندگی ہے، اور ہم بے حد افسردہ ہیں کہ ہم ایک استاد کو جس سے محترم اور کوئی نہیں ہوتا، اپنی عدالت میں ٹرائل کر رہے ہیں، اور یہ کسی بھی جج کے لئے انتہائی تکلیف دہ موقع ہے کہ کورٹ میں، کٹہرے میں ایک استاد مکرم ہو ، اور اس سے ٹرائل کیا جائے‘‘۔جج نے عدالت میں ایک استاد کے ساتھ جس طرح احترام اور عقیدت بھرے جذبات کا اظہار کیا، یہ انمول ہیں۔

مغرب کی ترقی کا ایک راز وہاں استاد کو سب سے زیادہ محترم سمجھا جانا ہے۔یہاں سرکاری سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں میں استاد کا احترام قابل توجہ نہیں۔ پرائیویٹ اداروں میں صورتحال مزید سنگین ہے۔ طلباء یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پیسے دے کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے وہ استاد کے احترام یا ادارے کی کسی پالیسی ، قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کے پابند نہیں۔ اس کاوہ اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔بعض نجی تعلیمی اداروں کے منتظمین بھی دکانداروں جیسا کردار ادا کرتے ہیں۔ٹیوشن سنٹرز اور کوچنگ سنٹرزکا بھی یہی حال ہے۔ اس پر چیک کون کرے گا۔ پالیسی کون بنائے گا۔ ایک نہیں درجنوں ادارے ہیں۔ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ۔ پاکستان میں ایک وزارت تعلیم و تربیت ہے۔ جس کے تحت بے شمار ادارے ہیں۔ مار نہیں پیار، بہترین مقولہ ہے۔ لیکن جب گھر میں،پڑوس میں، دوست، رشتہ دار کے پاس بچے کی ہر وقت ، ڈانٹ، ڈپٹ، بے عزتی ہو رہی ہو، اس پر تشدد ہوتا ہو، تو استاد سے کیا شکایت۔ بچے کو مار ، بے عزتی کا عادی بنائیں گے تو یہی کچھ ہو گا۔ جو ڈنڈے کا عادی بن گیا، وہ پیار سے کیسے سمجھے گا۔ اصل میں قصور ہماری جہالت کا ہے۔ اس نظام کا ہے۔ آپ بچے کو جتنا ماریں گے، اسے روکیں، ٹوکیں گے، وہ اسی رفتار سے ضدی اور شرارتی بنے گا۔ آپ بچوں کو چوہے ، بلی سے ڈرا کر شیر بنانا چاہتے ہیں۔یہ کیسے ممکن ہے؟۔ ہمارے بعض اساتذہ کرام سیاست میں بھی سرگرم ہوتے ہیں۔سرکاری سکولوں کے نتائج کی شرح دیکھ لیں۔اس کی وجہ سکولوں تعلیم دشمن ماحول ہے۔ استاد کی تنخواہ بہت کم ہے۔ وہ سکول جائے یا اپنی دکان چلائے یا اپنا زاتی کام دیکھے۔ اگر چہ یہ بالکل جائز نہیں ۔ اس کا یہ جواز بھی نہیں۔ لیکن بات درست ہے۔بعض دیہی علاقوں میں ٹھیکہ سسٹم ہے۔ دوسرا بڑا قصور نصاب تعلیم کا ہے۔ اس نصاب میں اخلاقی تعلیم ناپید ہے۔ ہر سکول کا اپنا نصاب ہے۔ کوئی آکسفورڈ، گاباوغیرہ۔ کوئی وفاقی بورڈسے وابستہ ہے تو کوئی علاقائی بورڈ سے۔ تیسری خرابی علاقائی زبانوں کی حوصلہ شکنی ہے۔ علاقائی زبانیں لازمی طور پر نصاب کا حصہ ہونی چاہیں۔سکولوں میں کم از لیبارٹری، لائبریری، کھیل میدان کا ہونا ضروری ہے۔ کلاس روم ہوادار ہوں ، ان میں روشنی کا بہترین بندو بست ہو۔ پینے کے صاف پانی، واش روم کا انتظام ہو۔اساتذہ اور طباء کی حاضری یقینی بنائی جائے۔ نصاب تعلیم ایسا ہو کہ جو طالب علم کی زہن سازی کرے۔تا کہ وہ اچھا انسان اور ذمہ دار شہری بنے۔ تکنیکی اورفنی تربیت پر زور دیاجائے۔ کم از کم ساتویں جماعت سے ہر طالب علم کی فیکٹری، کھیت یا کسی ادارے میں تربیتی سیشن ہوں۔ رٹہ سسٹم کے بجائے طلباء کو عملی زندگی میں کچھ کرنے کی تربیت دی جائے۔ہزاروں کی تعداد میں بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے پھر رہے ہیں۔میرٹ کا برا حال ہو گا تو استاد کی بھی بے قدری ہو گی اور طالب علم بھی ذمہ دار شہری نہ بن سکے گا۔ یہی آگے چل کر عدم بر داشت،انتہا پسندی کا باعث بنتے ہیں۔ احمد سایا جیسے اساتذہ نے استاد کا کی قدر بحال کی ہے۔ اس لئے ان کی محنت اور لگن ، شاگرد کی ہر وقت مددنے دنیا بھر میں شہرت دی اور ایوارڈ بھی ملا۔ مخلص اور محنت کشوں کی تشہیر اور حوصلہ اافزائی ہو تا کہدیگر بھی ان کے نقش قدم پر چلیں اور انہیں مشعل راہ بنائیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 600 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 465 Articles with 144731 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: