حکمت آمیز باتیں-چوبیسواں حصہ

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)

دوسرے کم مگر ہم خود اپنے لئے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

بڑے مقاصد کے لئے چھوٹی سی قربانی دینی پڑتی ہے۔

سوچ چھوٹی ہو تو اعمال بھی نامناسب انجام دیئے جاتے ہیں۔

ہماری زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ہمیں کسی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ کسی بہانے یا ساتھ نہ رہنے کے لئے لڑائی کر لیتے ہیں تاکہ ہمیں اکیلا رکھا جا سکے بسااوقات یہی عمل خود داری اور تنہا لڑنا سیکھاتا ہے اور ہماری ناکامی کے منتظر افراد کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔

لوگ کہتے ہیں تو کہنے دیں، آپ اپنا کام کریں،اُن کو اُنکا کام کرنے دیں۔

جھوٹ کبھی جیت کا سبب نہیں بنتا ہے۔

حوصلہ ہار جانا بدترین غلطی ہے۔

مشورہ لے لینا چاہیے مگر عمل اُس بات پر کریں جو آپ کو ٹھیک لگ رہی ہوں یوں فیصلے کے نتائج کے ذمہ دار بھی آپ ہونگے کسی دوسرے کو ایک خاص حد سے زیادہ آپ کی زندگی پر من مانی کرنے کا حق حاصل نہ ہو۔

رسوائی سے جب ڈرتا لگتا ہو تو پھر اعمال بھی درست کرنے چاہیں، اگر تجربات کے شوقین ہیں تو رسوائی سے ڈرنا بے وقوفی ہوگی۔

جو اپنے تجربات سے نہیں سیکھتے ہیں وہ کامیابی سے دور رہتے ہیں۔

اللہ تعالی نے آپ کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے، اپنی اہلیت کو ایک سوالیہ نشان مت بنائیں، کچھ ایسا کریں کہ آپ ان کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کر سکیں کیونکہ آپ سب کر سکتے ہیں۔

کامیابی اپنے تجرے سے سیکھ کر بہتر راہ اپنانے کا نام ہے۔

جب تک ہم غلطی نہیں کریں گے تب تک ہم سیکھ نہیں سیکھ سکیں گے لہذا تجربات کیجئے یہی آپ کو بہترین کی طرف لے جائے گا۔

ہمیں کامیابی نہیں ملتی ہے اتنی تو محنت کرتے ہیں؟
یہ کہنے والے درحقیقت اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے واقف نہیں ہوتے ہیں جو وہ کامیابی کے لئے لازمی جز ہوتے ہیں ان سے پہلو تہی اختیار نادانستگی میں کرجاتے ہیں۔

ہم کچھ کہتے ہیں اور دوسرے اُسے کچھ کا کچھ سمجھتے ہیں تب ہی اختلافات جنم لیتے ہیں۔

محض ایک فرد کی سن کر فیصلے کرلینا اکثر تباہ کن نتائج کی طرف لے جاتا ہے۔

جرم جتنا چھوٹا ہو وہ رفتہ رفتہ بڑے جرائم کی جانب دھکیلتا ہے۔

بدنام کرنے والے اکثر خود ہی بدنامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اللہ نے ہر انسان کے لئے ایک شے مقدر کر دی ہوئی ہے وہی اُسے ملنی ہے جس میں دعا سے بہتری ممکن ہو جاتی ہے۔

ہماری شکل و صورت جیسی بھی ہو ہمیں اچھائی کرنی چاہیے اور دوسوں کا حوصلہ بھی بلند کرنا چاہیے،

جھوٹ کو ہارنا ہی ہوتا ہے اس لئے سچائی کی جنگ لڑتے ہوئے خود کو تنہا ہوتے بھی جہدوجہد سے مت روکیں۔

بعض افراد آپ پر دباو ڈال کر مقاصد کا حصول چاہتے ہیں لیکن آپ اپنی جگہ قائم رہیں تو وہ کبھی بھی کامیاب نہیں بو سکتے ہیں۔

بد نیت لوگ کوئی بھی صورت ہو اپنی بُرائی کر جاتے ہیں لہذا یہ کہنا غلط ہے کہ محض خوب صورت لوگ ہی بے وفا ہوتے ہیں۔

دوسروں کے حوصلے بلند کرنے کے لئے آپ کو پہل کرنی پڑتی ہے تب ہی جا کر کوئی آپ کی تقلید میں اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

دشمنی کی کم جاتی ہے بنائی زیادہ جاتی ہے، اگر حق ازخود نہ دیا جائے تو حق لینے والا دشمن کیسے ہو سکتا ہے، دشمن تو حق مارا کر ہی بنا جاتا ہے اور دشمنی کا آغاز ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ آپ کے حوصلے کو پست کریں کیونکہ وہ یہ نہیں دیکھ سکتے ہیں کہ آپ ان سے بڑھ کر کچھ کریں جو کہ وہ کرنے سے قاصر ہیں یا وہ آپ کو کامیابی سے دور دیکھنے کے متمنی ہوتے ہیں کہ وہ خود ناکامی کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔آپ کو لوگوں کی سوچ سے نہیں اپنے رب اورمحنت سے اجر ملنا ہے تو اپنی کوشش کو ہرگز دوسروں کی وجہ سے ترک نہ کریں یہی کامیابی کا پوشیدہ راز ہے۔

سستی جب آجائے تو بہت سے اچھے اور نیک کام کرنا کا کتنا ہ ل کیوں نہ ہو، وہ آپ سے نہیں ہو پاتے ہیں، اس لئے کہتے ہیں کہ اچھے کام کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

جب نیت صاف ہو تو پھرآپ ہر طرح کے بُرے حالات سے محفوظ رہتے ہیں۔

بعض اوقات اچھے فیصلے ہماری زندگی کا دھارا بدل دیتے ہیں مگر ہم جان بوجھ کر بھی وہ فیصلہ کرتے ہیں جو کہ ہماری زندگی مزید مسائل کر شکار کرنے والا ہوتا ہے کیونکہ ہم از خود اچھائی سے گھبرا رہے ہوتے ہیں۔

کردار کا نقش جب ایک بار قائم ہو جائے تو کوئی کچھ بھی کر لے وہ وہی نظر آئے گا جو ذہن نیشن ہو چکا ہوگا۔

اپنی جنگ کو خود ہی لڑنے پر کامیابی حاصل ہوتی ہے، دوسروں سے توقعات رکھنے والے ناکام ہی ہوتے ہیں۔

زندگی یوں گذاریں کہ اس کا حق ادا ہو جائے اور آپ کے تمام خواب بھی پورے ہوں، اگر نہ ہو پائیں تو بھی اپنے حال میں خوشی سے جیں کیونکہ یہ ایک مرتبہ ہی آپکو گذارنی ہے۔

ہم جتنا اپنی سوچ کے نتائج کو خود پر حاوی ہونے دیں گے اتنا ہی ہم مضبوط یا کمزور ہوجائیں گے۔

ہماری سوچ ہی کسی کام کو آسان اور مشکل بناتی ہے جب سوچ لیں کہ معمولی سا ہے تو پھر سب ٹھیک ہونے لگتا ہے۔

ذہنی طور پر سکون میں رہنے کا ایک ہی اصول ہے کہ آپ کسی بھی بات کو سر پر سوار نہ کریں۔

زندگی کی تمام حقیقتیں انسان کو کبھی کبھی محض ایک ٹھوکر لگنے سے ہی نظر آنے لگتی ہیں۔

زندگی کی تمام حقیقتیں انسان کو کبھی کبھی محض ایک ٹھوکر لگنے سے ہی نظر آنے لگتی ہیں۔

اگر پانی جہاں اسے راستہ ملے وہاں سے آگے بہاو رکھتے ہوئے اپنی منزل تک جا سکتا ہے تو ہم انسان کیوں مشکلات کا سامنا کر کے منزل تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔

ہم وقت کی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں مگر وقت کے درست استعمال کے ذریعے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔

معاشرے میں جنسی طور پر ہراساں کئے جانے اور تشدد کا نشانہ بننے والے اُن ہوس پرستوں کا شکار ہوتے ہیں جو ذہنی طور پر وقت سے پہلے بالغ ہو گئے ہیں اور جن کا بروقت نکاح یا شادی نہیں ہوتی ہے، اس حوالے سے والدین اسلامی قوانین کے مطابق بچوں کے جلد نکاح کی کوشش کریں اور دوسری طرف حکومت وقت جرم کرنے والوں کا نا قابل ضمانت گرفتاری کا قانون منظور کرے، ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی دینے جانے کا قانون بنانا چاہیے تاکہ ایسے واقعات میں کمی آسکے۔

جیت کا حقیقی مزہ تب ہی ملتا ہے جب آپ ہارتے ہوئے جیت جاتے ہیں۔

دوسروں کے سہارے جینے والے ایک روز زمین بوس ہو جاتے ہیں پھر اتنی سکت نہیں رہتی ہے کہ وہ تنہا کھڑے ہو کر کچھ کر سکیں۔

کھیل تماشہ محض جی بہلانے کا ایک بہترین مشغلہ تو کہلایا جا سکتا ہے مگر یہ زندگی کا اصل مقصد حیات نہیں ہے۔

بدقسمتی سے ہم کچھ کئے بنا ہی سب حاصل کرنا چاہتے ہیں، جب بنا کام کاج کے پیسہ ملنا بھیک میں شروع ہوتا ہے تو یہ عادت بن جاتی ہے کہ ہم ادھار لے لے کر بھی گذارا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔بدقسمتی سے ہم بھیک ایسے افراد کو دیتے ہیں کہ نا چاہتے ہوئے بھی حقداروں کو ہاتھ پھیلانا پڑرہاہے۔ آپ سے التماس ہے کہ ایسے افراد کو ہرگز بھیک میں کچھ نہ دیں جو اس قابل ہوں کہ ہاتھ پاوں چلا کر کچھ کما سکتے ہوں اس کی جگہ درست افراد کی مدد کیجئے۔

لوگوں کے مفادات کی خاطر حق گوئی سے پرہیز اور خدا کے احکامات کی خلاف ورزی ناقابل معافی جرم ہیں۔

سیکھنے والے کبھی بھی کہیں سے بھی علم حاصل کر لیتے ہیں۔

دشمن کو کمزور سمجھنے والے منہ کی کھاتے ہیں لہذا اپنی حکمت عملی میں گنجائش رکھنی چاہیے کہ بوقت تبدیلی سود مند ثابت ہو سکے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 310 Print Article Print
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 276 Articles with 211123 views »
I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do NOT preach, I only share what I learn and feel!

I'm an original, creative Thinker, Teacher
.. View More

Reviews & Comments

Language: