چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

(Syed Haseen Abbas Madani, Karachi)

 آج کل ویسے ہی مہنگائی کا طوفان ہے زندہ رہنا اور زندہ رہ کر عزت بچانا مشکل ہے اس پر مستزاد یہ کہ گیس کا بل بغیر کسی وجہ کے ہزاروں میں آگیا ہے جس کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی 356 یونٹ پر 11 ہزار 650 روپے بل چارج کیا ہے فی یونٹ33/= روپے چارج کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ مہینے کے بل میں گیارہ روپے فی یونٹ چارج کیا گیا تھا۔ ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ چوروں کے گماشتے وزیراعظم عمران خان صاحب کی حکومت کو اس طرح گرانا چاہتے ہیں کہ(نعوذ بااللہ) ساتھ پاکستان کو بھی گرانا چاہتے ہیں انہوں نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ پاکستان کو لوٹ کر کھائی میں لڑھکا دیں گے (نعوذبااللہ) اب بھی ان کا خیال ہے کہ یہ باہر بھاگ جایئں گے؟ حکمران جو چوریاں کر رہے تھے ان کا احتساب بھی کھٹائی میں پڑا ہے اور ان کے بیوروکریٹ پورے طور پرمتمئن ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا ۔ وقت دراصل بہت قیمتی ہوتا ہے جو وقت سے کھیل رہے ہیں اور پوری امید رکھتے ہیں کہ وقت ان کے ساتھ ہے، خان صاحب کیا کر سکتے ہیں ہم غریب عوام بھی اپنے گناہوں کے بوجھ تلےاس طرح دبے ہوئے ہیں کہ ہماری دعائیں، ہمارے منہ پر مار دی جاتی ہیں ۔ دنیا کا دستور تھا کہ چیز مہنگی ہوتی تھی ۔زیادہ لینے پر اتنی ہی رعایئت ملتی تھی مگر اپنے ملک میں کس کو بد دعا دیں کہ جس قدر زیادہ خریدا جائے گا اتنا ہی مہنگا ملے گا۔ آج اندھیر نگری چوپٹ راج کا محاورہ سمجھ میں آرہا ہے ۔خان صاحب اور ان کے لوگ تبدیلی کا نعرہ لگا رہے تھے تو اتنی تبدیلی کہ ہضم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔کسی شاعر نے کہا تھا ۔۔ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا خان صاحب نےکبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ ایماندار آٹے میں نمک سے بھی کم ہوں گے تو بھلا حکومت چلے بھی تو کیسے؟ چوروں کو پکڑنے کا کہہ رہے ہیں کہ جن کے گماشتے مزے کر رہے ہیں۔ اورڈاکٹر شاہد مسعود نے بڑا تنگ کررکھا ہے ہمیشہ کہتے ہیں بدمعاشیہ نہیں بچے گی۔ ارے بھائی وہ مبارک دن کب آئے گا۔ ابھی بدمعاشیہ کے ہتھے چڑھ گئے تھے، وہ تو ہزاروں پرہیزگاروں کی دعائیں کام کر گئیں ، تو جان بچی ہے۔ غریب عوام ہے، اشرافیہ ہے اور بدمعاشیہ ہے۔ اب ہم بھی سوچنے لگے ہیں کہ؛ تیرا کیا بنے گا کالیا۔ چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سراٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلےجسم و جاں بچا کے چلے ۔ وزیر اعظم صاحب کچھ کریں چوروں کو ٹھکانے لگا یئں اور اس ملک کی سانسوں کو بحال کریں ورنہ ہمارا حال یہ ہوگا۔کہٌ ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن۔ خاک ہو جایئں گے ہم تم کو خبرہونے تکٌ
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 249 Print Article Print
About the Author: Syed Haseen Abbas Madani

Read More Articles by Syed Haseen Abbas Madani: 79 Articles with 50296 views »
Since 1964 in the Electronics communication Engineering, all bands including Satellite.
Writing since school completed my Masters in 2005 from Karach
.. View More

Reviews & Comments

Language: