ایک اور فلرٹ کامیاب ٹھہرا

(Maryam Shahid, )

 ماضی کی گزری یادیں ایک سکرین پر اسکے سامنے چل رہیں تھیں۔وہ ان یادوں سے چھٹکارا پانا چاہتی تھی لیکن اسے لگ رہا تھا کہ وہ یادیں مر کے بھی اسکا پیچھا نہیں چھوڑیں گی کئی بار اسنے اﷲ سے موت مانگی تھی لیکن اسکی یہ دعا کبھی بھی نہیں قبول ہوئی تھی کیوں کہ موت کی آرزو کرنا ہی ایک بہت بڑا گناہ ہے اس لئے اﷲ شاہد اسکی دعا قبول نہیں کر رہا تھاایسے لگتا تھا کہ لوگوں کی باتوں سے اسے کوئی فرق نہیں پڑھتا لیکن وہ غلط تھی وہ سب کی باتیں سہہ سہہ کے اندر سے اتنا ٹوٹ چکی تھی کے اسے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی تیر کی طرح لگتی تھی اپنے گھر والوں کی اپنے رشتے داروں کی اپنے دوستوں کی سب کی باتیں یاد آنا شروع ہوگئیں تو اسنے کرب سے آنکھیں بند کرلیں آنسو بے ساختہ اسکی آنکھوں سے آنسوں گرنا شروع ہو گئے وہ لوگ جو اسے بہت محبت جتایا کرتے تھے جو ہمیشہ ساتھ رہنے کے دعوے کرتے تھے اور اب جو اسکو چھوڑ کر جا چکے تھے انکی باتیں اسکے دماغ میں مسلسل گونجھ رہی تھیں۔جس میں اسکے دوست اسکے گھر والے بھی شامل تھے کہ ''بیٹا! وہ تو لڑکا ہے, اسنے تو جو کیا سو کیا تم تو لڑکی ہو اور لڑکیاں ایسا نہیں کرتی.''وہ چیخنا چاہتی تھی اس وقت ان سب سے پوچھنا چاہتی تھی کہ بتاو کے میں نے کیا کیا ہے؟میرا کیا قصور ہے کیا گناہ کیا ہے میں نے صرف یہ کہ میں نے ایک بندے سے محبت کرلی یہ ہے میرا گناہ ؟لیکن وہ پوچھ نہیں سکی. سب کی باتوں نے اس پر سکتا طاری کر دیا تھا کے اسے یوں محسوس ہوتا تھا کے اسے بولنے کی قوت ہی چھین لی ہوغیروں کی باتوں نے تو اس کو جو پریشان کیا سو کیا اسکے اپنوں نے کی باتوں نے اسکو اسکی ہی نظروں میں تنا گرا دیا تھا کے وہ بیچاری گناہ گار نہ ہوتے ہو ئے بھی گناہ گار بن چکی تھی۔

وہ کسی سے بھی بات نہیں کرتی تھی نا کسی سے نظریں ملاتی تھی لوگوں نے اسے بات کرنے اور نظریں ملانے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھابس وہ اپنے کمرے میں ایک کونے میں بند پڑی رہتی تھی ایک دن وہ سوئی تو اس نے خواب میں دیکھا کے وہ ایک بہت ہی خوبصورت جگہ پر ہے اور اسکے چاروں طرف روشنی ہی روشنی ہے۔وہ اس جگہ کی خوبصورتی میں کھوئی ہوتی ہے کہ اسے ایک دم سے آواز آتی ہے بہت خوبصورت اور میٹھی آواز ہوتی ہے جیسے کوئی اسکو کہ رہا ہو کے بیٹا اٹھوہمّت کرو سب کا سامنا کرو ڈرو نہیں تم نے کچھ غلط نی کیا نا ہی تم غلط ہو اور پھر ایک دم سے وہ روشنی غائب ہوجاتی ہے اور وہ اٹھ کے بیٹھ جاتی ہے۔خواب دیکھنے کے بعد سے وہ اپنے آپکو بہت بے چین محسوس کرتی ہے کچھ سمجھ نہیں آتا اسے تو وضو کر کے جائے نماز پر بیٹھ جاتی ہے اور اﷲ سے کہتی ہے کہ ''اے اﷲ مجھے اس جرم اور اس گناہ کی سزا مل رہی ہے جو میں نے کبھی کیا ہی نہیں کسی کو پسند کرنا تو گناہ یا جرم نہیں ہے ۔ تو پھر کیوں سب نے مجھے ہی گناہگار سمجھ لیا ہے ۔سب کو میں ہی کیوں غلط لگتی ہوں. پلیز اﷲ مجھے اس دنیا کے لوگوں سے جو نہ خود جیتے ہیں نا دوسروں کو جینے دیتے ہیں مجھے ان سے بچا لیں پلیز بچا لیں

اپنی دعا ختم کرنے کے بعد اسنے زاروقطار رونا شروع کر دیا روتے روتے اسے ایک دم سے یوں محسوس ہوا جیسے اﷲ نے اسکی سن لی ہواسے سکون محسوس ہوااسے ایسا محسوس ہوا کے اﷲ نے کہا ہو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اسے اپنے آس پاس ایک دم سے بہت سی آوازیں سنائی دیں اور اسکا ذہن تاریکی میں ڈوبتا گیا اور اس نے اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند کر لیں
''ایک اور محبت نا کام رہی
ایک اور فلرٹ کامیاب ٹھہرا.

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 256 Print Article Print
About the Author: Maryam Shahid
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

اسلام میں پیار کا یہ پہلو نہیں۔ ندامت کی بجائے خود ترسی کا پہلو چوری اور سینہ زوری کے مترادف ہئے۔
By: Shahzad, Karachi on Feb, 13 2019
Reply Reply
0 Like
Language: