تن آسانی نہیں جاتی

(M Munnawar Saeed, Karachi)
ذیابیطس کی بنیادی وجہ تن آسانی ، ہمارا غیر معیاری طرز زندگی جسکے باعث بڑھتا ہوا موٹاپا اور ورزش کا ہماری ترجیحات میں شامل نہ ہونا ہے۔

تن آسانی نہیں جاتی ریاکاری نہیں جاتی
میاں برسوں میں یہ صدیوں کی بیماری نہیں جاتی

بسیار خوری اور تن آسانی ہمارا قومی شعار بن گئی ہے۔
یہ نہ صرف خود ایک بیماری ہے بلکہ بہت سی بیماریوں کا پیش خیمہ ہے ۔خصوصا ذیابیطس کاجسے عام طور پر شوگر بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ سننے میں بڑی میٹھی سی لگتی ہے مگر درحقیقت کافی کڑوی ہے۔
نیشنل سروے کے مطابق ہماری آبادی کا تقریبا 26 فیصد حصہ اس مرض میں مبتلا ہے یعنی ہر چوتھا پاکستانی اس کا شکار ہوچکا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ تن آسانی ، ہمارا غیر معیاری طرز زندگی جسکے باعث بڑھتا ہوا موٹاپا اور ورزش کا ہماری ترجیحات میں شامل نہ ہونا ہے۔
ہمارے یہاں لوگ جب سیر کے لئے کسی پارک میں بھی جاتے ہیں تو انکے انداز ایسے ہوتے ہیں جیسے کسی دعوت ولیمہ میں آئے ہوں۔
میاں صاحب اپنی بھاری بھرکم توند اور بیگم صاحبہ بھاری کام والے دوپٹے سنبھالے خراماں خراماں چلتے ہیں ۔
بچے منہ بسورے ساتھ ساتھ رینگ رہے ہوتے ہیں۔
بجائے مناظر فطرت سے لطف اندوز ہوں
بچے کھیلیں کودیں انجواےکریں ۔
جاگنگ کریں ورزشیں کریں تاکہ چاق و چوبند یوں۔
جسم میں پھرتی اور چستی آئے ۔
سب کی نگاہیں متلاشی ہوتی ہیں کسی من و سلوی کی ۔ جہاں کہیں کھانے پینے کا اسٹال ڈھابہ یا ریسٹورینٹ دیکھا ، بیتھ جاتے ہیں اور پھر آو دیکھتے نہ تاو سب ایسے مگن ہوجاتے ہیں کہ دنیا و مافیہا کا ہوش ہی نہیں رہتا ۔
نہ ہی جگہ دیکھتے ہیں نہ ماحول نہ خوراک کا معیار نہ صفائی ستھرائی ۔
بس خوب کھایا پیا ڈکاریں لیں ۔
اور بس پھر واپسی کی تیاری شروع ۔
صبح بچوں نے اسکول بھی تو جانا ہوتا ہے۔
ہم نے بہادر آباد میں ابلتے گٹروں سے آراستہ سڑکوں پر نہایت معزز فیملیز کو بڑی شان سے بیٹھے حلوہ پوری کا ناشتہ کرتے اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھا ہے ایسے ،جیسے کسی سرسبز وشاداب وادی میں جھیل کنارے بیٹھے ہوں یا کسی بہتے جھرنے کے پاس بیٹھے بھنی ہوئی مرغابیوں سے لطف اندوز ہورہے ہوں۔
یقین نہ آئے تو کسی بھی چھٹی والے دن جاکر یہ منظر بچشم خود ملاحظہ کرسکتے ہیں کیونکہ کراچی میں ہمیشہ ہی گٹر بند اور انکے ڈھکن کھلے رکھنے کا رواج ہے ۔
بحرحال کچھ تو بحر ملاقات چاہیے ۔ یہ فیملی گیٹ ٹو گیدڑ کا ایک اچھا بہانہ ہے۔

شادی بیاہ میں دیکھ لیجیئے کس طرح لوگ کھانے پر ٹوٹ کر پڑتے ہیں جیسے ازل کے بھوکے ہوں۔اچھے بھلے معززین بھی اتنا کھانا پلیٹ میں انڈیل لیتے ہیں جیسے پھر شاید دوبارہ زندگی وفا نہ کرے۔جتنا کھاتے ہیں اس سے زیادہ ضائع کرتے ہیں ۔ایک بزرگ دوست نے ہمیں شادی کی تقریب میں قورمہ نان کے ساتھ کھاتے دیکھا تو بڑی رازداری سے مشورہ دیا کہ میاں دعوت میں روٹی نہیں صرف بوٹیوں پر توجہ مرکوز رکھیں ۔
پرخلوص دعوتوں کو عامیانہ انداز میں مفتہ کہا جاتا ہے۔
بحر حال درویش نے بڑے غوروخوص کے بعد شوگر کا ایک آسان علاج ڈھونڈ لیا ہے۔
اس کے لئے آپ کو بکری بننا پڑے گا ۔
جی ہاں بکری۔
بکری کی طرح صرف سبز رنگ کی سبزیاں کھائیں جو زمیں کے اوپر اگتی ہیں ۔خرگوش کی طرح زمین کے نیچے اگنے والی سبزیوں سے پرہیز کریں ۔چارہ کھا کر بکری کچھ دیر آنکھیں بند کرکے آرام کرتی ہے۔آپ بھی قیلولہ کی عادت اپنائیں ۔ پھر واک کرتی ہے۔آپ بھی لازمی چہل قدمی کریں ۔
شیر کی طرح غرانے کے بجائے بکری کی طرح منمنائیں یعنی مزاج ٹھنڈا رکھیں ۔
انشاءاللہ شوگر چند دن میں نارمل ہوجائے گی۔
اپنے بچوں کو اگر شیر بنانا چاہتے ہیں تو انھیں سونے کا نوالہ کھلائیں اور دیکھیں بکری کی نظر سے کچھ ہی دن میں آپ کو بچے شیر کی طرح دھاڑتے نظر آئیں گے۔

بسیار خوری سے بے پناہ معاشرتی معاشی اور تعلیمی مفادات بھی وابستہ ہیں ۔
معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔
ٹھیلے پر کھانے کی اشیا بیچنے والے شاندار ریسٹورینٹس کے مالک بن جاتے ہیں ۔
الم غلم کھاکر بیمار پڑنے سے ڈاکٹر حضرات کی چاندنی ہوجاتی ہے۔
انکی کلینکس چلتی ہیں ۔

ہسپتال آباد ہوجاتے ہیں ۔

فارماسوٹیکل کمپنیز کا کاروبار چمکنے لگتا ہے۔

کنںسڑکشن کی صنعت کو فروغ ملتا ہے۔

ہزاروں لوگوں کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔

سب سے بڑھ کر تعلیم کا شعور پیدا ہورہا ہے۔

ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں دیکر مریضوں کے دل میں بھی یہ ارمان جنم لیتا ہے کہ انکے بچے بھی ڈاکٹر انجینئر بن کر خوب کمائیں ۔انکی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے نجی تعلیمی ادارے موجود ہیں ۔جن کی نظریں ان کی عمر بھر کی جمع پونجی پر لگی ہوتی ہیں۔
لوگ وہ بھی روشن مستقبل کیلیے قربان کرنے کےلئے راضی ہوجاتے ہیں تاکہ ان کی تمام سرمایہ کاری سود سمیت وصول ہوسکے ۔
سوچ اگر مثبت ہو تو بے ترتیبی میں بھی حسن جھلکتا ہے۔
ہمیشہ زندگی میں مثبت سوچ اپنانی چاہیے ۔
منفی سوچ والوں سے دور رہیں ۔
کیونکہ الجبرا کی رو سے مثبت اور منفی کی دوستی کا نتیجہ ہمیشہ منفی ہی نکلتا ہے
اور آخر میں ~

اور کھائیے اتنا ہی جتنی ہو ضرورت آپ کو
یوں ڈکاریں لیجئے مت پیٹ سہلانے کے بعد

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 309 Print Article Print
About the Author: M Munnawar Saeed

Read More Articles by M Munnawar Saeed: 24 Articles with 9382 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: