شرطیہ بیٹی کی پیدائش کا کوئی نسخہ وظیفہ کیوں نہیں؟

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

ہمیں تو اس بات کی ہی سمجھ نہیں آتی کہ اگر صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوتے چلیں جائیں تو پھر ان کو بیاہنے کے لئے لڑکیاں کہاں سے آئیں گی؟ جب لڑکوں کی شادی ہی نہیں ہو سکے گی تو پھر وہ نسل کیسے چلے گی جس کا رونا رو کر لوگ بیٹوں کی پیدائش کا جتن کرتے ہیں ۔ نام لیوا اور پانی دیوا کو دنیا میں لانے کے لئے تو وہی بیٹی درکار ہوتی ہے جس کے پیدا ہونے پر پورے کُٹم کا منہ لٹک جاتا ہے پھر اس کی اتنی بےوقعتی اور بےتوقیری کیوں؟

یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ کسی کے ہاں صرف بیٹیاں ہوں تو بیٹے کی خواہش زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن جاتی ہے لوگ طرح طرح کے ٹوٹکے آزماتے ہیں اوراد و وظائف اپناتے ہیں منتیں مانتے ہیں اولیائے کرام بزرگان دین کے درباروں کے ساتھ ساتھ حکیموں اور ڈاکٹروں کے در پر بھی حاضری دیتے ہیں غرض جو بن پڑتا ہے بیٹے کے حصول کے لئے جتن کرتے ہیں جس کی جتنی توفیق ہوتی ہے اس مد میں خرچ کرتا ہے ۔ مگر آج تک ہم نے کبھی دیکھا نہ سنا کہ اگر کسی کے صرف بیٹے ہی بیٹے ہوں تو وہ بیٹی کی کمی کو زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بنا لے اور بیٹی کی بھی پیدائش کے لئے بھاگ دوڑ کرے اس کے لئے تڑپے ۔ آج تک شرطیہ بیٹی کی پیدائش کا کوئی نسخہ یا وظیفہ ہماری نظر سے نہیں گذرا ۔ ہم لوگ آخر کیوں بیٹی کے بھی اسی طرح خواہشمند نہیں ہوتے جس طرح سے بیٹے کے لئے ہوتے ہیں؟

ہاں اتنا ضرور ہے کہ مائیں دو یا تین بیٹوں کے بعد بیٹی کی خواہش ضرور کرتی ہیں مگر وہ تڑپ لگن اور احساس محرومی کی شدت دیکھنے میں نہیں آتی جو کہ صرف بیٹیوں کی پیدائش کے بعد ایک بیٹے کے خواہشمندوں میں نظر آتی ہے ۔ جبکہ بیٹی ہی زیادہ فرمانبردار اور خدمت گذار ہوتی ہے مگر اس کے با وجود متوسط اور ناخواندہ طبقے میں اس کے وجود کو کسی بوجھ سے کم نہیں سمجھا جاتا اور بیٹا چاہے کتنا ہی ناکارہ و نکھٹو کیوں نہ ہو اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے ۔ اور بیٹے کو جنم دینے کے جنون میں کم عقل عورتیں جاہل جعلی پیروں منگلوں کے چکر میں پڑ کر اکثر ہی اپنی عزت تک گنوا بیٹھتی ہیں اور انہیں اس راستے پر ڈالنے والے خود ان کے اپنے خر مغز خاوند اس بات کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں کہ بیٹا پیدا کرنا عورت کے اختیار کی بات ہی نہیں ۔ اگر وہ صرف بیٹیاں پیدا کر رہی ہے تو یہ اس کا نہیں تمہارا قصور ہے اگر یہ کوئی عیب کی بات ہے تو یہ خود تمہارے اندر ہے نہ کہ عورت میں ۔ انہیں اپنے دماغ کا علاج کروانا چاہیئے لیکن حالت یہ ہے کہ کچھ لوگ ڈاکٹروں سے بیٹا پیدا کرنے کی دوائی تک مانگتے پھرتے ہیں ۔
پسماندہ طبقے کے ساتھ ساتھ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور با حیثیت گھرانوں میں بھی بیٹے اور بیٹی کے درمیان روا رکھی جانیوالی تفریق اور امتیازی سلوک دین سے دوری اور دور جاہلیت والی بے شعوری کا نتیجہ ہے ۔ اس صورتحال کے سد باب کے لئے اسلامی تعلیمات اور احکامات کو عام کرنا بہت ضروری ہے ۔ تبھی اس روش کا خاتمہ ممکن ہے ۔ بیٹیوں کو بوجھ نہ سمجھا جائے جو لوگ اللہ کی مرضی پر شاکر ہوتے ہیں اور بیٹی کی پیدائش کو قدرت کا تحفہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں اس کی حسب مقدور بہترین پرورش کرتے ہیں ان کی زندگی میں بہت سکھ اور سکون نظر آتا ہے ۔

اعلا تعلیمیافتہ اور بہت دولتمند طبقے کی اکثریت میں بیٹی کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنی کہ بیٹے کو ۔ اور اگر صرف بیٹی ہی ہو تو انہیں بیٹے کے نہ ہونے کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔ ہماری ایک دوست فیملی میں تین بیٹوں کے بعد بیٹی کی پیدائش پر ساس نے اپنی بہو کو ایک درجن سونے کی چوڑیاں تحفے میں دی تھیں ۔ ایسا ہی ایک واقعہ ایک جاننے والی ہندو فیملی سے بھی متعلق ہے ایک خاتون نے اپنی پوتی کی پیدائش پر نہ صرف ایک شاندار تقریب منعقد کی بلکہ اپنی بہو کو ایک قیمتی گاڑی بھی بطور تحفہ پیش کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کو بوجھ یا بےکار سمجھنے کی روایت کا خاتمہ ہونا چاہیئے اور بہو کو بھی اپنی بیٹی جتنا ہی پیار دینا چاہیئے ۔

خیر یہ تو بہت پڑھے لکھوں اور امیروں کی باتیں ہیں جنہیں نہ تو معاشی مسائل کا سامنا ہوتا ہے نہ ہی نسل چلنے کا تصور صرف اولاد نرینہ سے وابستہ ۔ لیکن مجموعی طور پر ہمارے معاشرے کا المیہ یہی تصورات ہیں کہ بیٹا بڑھاپے کا سہارا ہوتا ہے اور نسل آگے بڑھاتا ہے ۔ جبکہ حالات و مشاہدات نے ثابت کر دیا ہے کہ نہ تو ہمیشہ ہی بیٹا سہارا ہوتا ہے اور نہ ہی بیٹی ناکارہ ۔ رہی بات نام و نسل آگے چلنے کی تو اس خبط میں مبتلا لوگوں کو تو خود اپنے پردادا کا نام تک معلوم نہیں ہوتا ۔ بالکل ایسے ہی جیسے کچھ سقراطوں بقراطوں کو اپنے ہجری سالِ پیدائش اور قمری تاریخ کا علم نہیں ہوتا شادی منگنی سالگرہ عقیقہ اسکول یا کالج میں داخلہ بیرون ملک روانگی حتیٰ کہ سفرِ عمرہ یا حج تک سب کچھ عیسوی کیلنڈر کے مطابق مگر نئے عیسوی سال کی آمد پر بھاشن شروع کہ ہمارا اسلامی سال تو محرم سے شروع ہوتا ہے ۔

کاش کہ ہمارے اس بر صغیری سماج کی سوچ بدلے اور بیٹی کو بوجھ یا زحمت سمجھنا ترک کیا جائے اسے دنیا میں آنے سے پہلے ہی واپس لوٹا دینے والے نادانوں اور ان کی معاونت کرنے والے سفاک پیسے کے پجاری نام نہاد مسیحاؤں کو خدا ہدایت دے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2741 Print Article Print
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 108 Articles with 733111 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: