نامعلوم منزل کے مسافر

(Quayyum Raja, )

جموں کشمیر کی خونی لکیر سیکٹر کھوئیرٹہ بمقام جوگالپور سے تعلق رکھنے والاسنتیس سالہ محمد عابد خان اس وقت بحثیت حوالدارپاک ارمی کے لاہور سیکٹرمیں تعینات ہے جبکہ عابد خان کی اہلیہ ذوئین اختر اور پانچ کم سن بچے جن میں سب سے بڑی دس سالہ کائنات اور آٹھ ماہ کا محمد شعبان شامل تھے وہ پچیس اور چھبیس فروری 2019 کی رات تک اپنے گھر جوگالپور تھے جو پاک ۔بھارت فوجی چوکیوں کے درمیان واقع ہے۔ وہ علاقہ کے اکثر لوگوں کی طرح سوئے ہوئے تھے کہ سرکاری حکم جاری ہوا کہ علاقہ خالی کر دیا جائے مگر یہ کسی نے نہیں بتایا کہ وہ کہاں جائیں اور کیسے جائیں۔ علاقہ میں کوئی سرکاری و غیر سرکاری گاڑی نہیں تھی۔ افرا تفری کے عالم میں لوگ گھروں سے نکلنا شروع ہو گے۔ عابد خان کی فیملی کے ساتھ سابق فوجی افسر راجہ بنارس خان اور انکی فیملی اور دیگر کئی بچے مرد عورتیں اور جوان و بوڑھے تھے۔ عام لوگ تو درکنار ان دو فوجیوں کی فیملی کو بھی کوئی سرکاری ٹرانسپورٹ مہیا نہ کی جا سکی۔ اتنے میں خبر ملی کی راجہ مظفر خان کی اہلیہ شہید ہو گئیں اور انکی بچی اور درجنوں اور لوگ زخمی ہو گے۔ یہ واقع رات کے دو بجے پیش آیا۔ بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر کھوئیرٹہ میں حال ہی میں تعینات ہونے والے نوجوان اسسٹنٹ کمشنر راجہ مدثر فاروق اپنی ٹیم کے ہمراہ رات کے اندھیرے میں لوگوں کی رہنمائی کے لیے سچے جذبوں مگر بغیر مطلوبہ حکومتی وسائل کے وہاں پہنچے۔ بے شک انکے ابتدائی دورے کا مقصد ابتدائی صورت حال کا جائزہ لینا تھا لیکن بہتر سالوں کا جموں کشمیر کی جبری تقسیم کی خونی لکیر کا تجربہ رکھنے والی ریاست کی انتظامیہ کے پاس تو ہر وقت بنیادی ضروریات کی چیزیں ہونی چائیے لیکن اس نام نہاد بیس کیمپ کی ہر حکومت کے رویے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی سیاستدان لوگوں کے ساتھ صرف الیکشن کے وقت ملتے ہیں اس کے علاوہ علاقہ کے لوگوں کا جینا مرنا ہمیشہ اپنا ہے۔ تین دن گزرنے تک بھی کسی بھی انتخابی پارٹی کا کوئی لیڈر یا کارکن لوگوں کی مدد کیا بلکہ خیریت دریافت کرنے کے لیے بھی نظر نہ آیا۔ جہازوں کی گونج سن کر لوگ خوف زدہ ہو گے ۔ گولوں کی بارش سے عمارات لرز اٹھیں اور سکول کے بچے چیخ و پکار کرنے لگے ۔ میری اپنی کم سن تین بیٹیاں سکول میں تھیں لیکن فون سروس وقتی طور پر معطل ہو جانے کی وجہ سے سکول انتظامیہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔ اتنے میں پرائیویٹ گاڑیاں سکول کے بچوں کو لے کر پہنچیں جن میں میری بیٹیاں بھی شامل تھیں۔ وہ آتے ہی میرے ساتھ لپٹ گئیں اور بتانے لگیں کہ کس طرح سکول کی عمارت کی کھڑکیاں اور دروازے اچانک لرزنے لگے اور ایک معلمہ بے ہوش ہو گئی۔ میں جب چھوٹے بچوں اور انکے والدین کے ساتھ کھوئیرٹہ میں ملا تو انہوں نے نے بتایا کہ وہ رات کی تاریکی میں پانچ گھنٹوں بعد کھوئیرٹہ شہر پہنچے جہاں مقامی لوگوں نے انہیں پناہ دی۔ کچھ لوگ ضلع کوٹلی سے آگے ضلع میرپور کے مختلف علاقوں کی طرف نکل گے اور کچھ گھرانے کھوئیرٹہ ہی ٹھہرے گے۔ کھوئیرٹہ میں میرے سسر حاجی محمد صادق صاحب نے بچیوں کا نجی تعلیمی ادارہ خالی کر کے بے گھر لوگوں کی پناہ کا انتظام کیا۔ میں کھوئیرٹہ شہر کے بالائی گاؤں کجھورلہ کا سکونتی ہوں۔ مجھے اس صورت حال کا علم ہوا تو میں اور میرے ساتھی شوکت محمود جرال اسسٹنٹ کمشنر راجہ مدثر فاروق سے ملنے گے جنہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس وسائل کی کمی ہے جسکی وجہ سے وہ بے گھر لوگوں کی دیکھ بھال کا جو پلان رکھتے ہیں اس پر عمل کرنے کے لیے انہیں مقامی مخیر حضرات اور این جی اوز کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر راجہ مدثر فاروق کا خاندان بھی 1989 ء میں بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ایک نامعلوم منزل کی طرف نکلا تھا۔ انکے والدین مظفرآباد پہنچے جہاں 1990 میں مدثر فاروق نے جنم لیا۔ اپنی محنت اور تعلیمی قابلیت کے بل بوتے پر وہ حال ہی میں پی ایس سی کا امتحان پاس کر کے اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے۔ کھوئیرٹہ تعیناتی انکا پہلا تجربہ ہے۔ ایک نوجوان کی حیثیت سے وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ بعض اوقات انسان اداروں کی جان بنتے ہیں اور بعض اوقات ہمارے ادارے انسان کو بے بس کر دیتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں مدثر فاروق کے مقدر میں کیا لکھا ہے؟ ہماری دعا ہے کہ اﷲ تعالی اس خطے کو اچھی قیادت اور باصلاحیت و باکردار ریاستی مشنری نصیب کرے تاکہ ادارے مضبوط و فعال ہوں۔

میں نے گھر بار چھوڑ کر نامعلوم منزل کی طرف رواں دواں لوگوں میں سے کچھ کے ساتھ بات چیت کرنا چائی تو ایک فیملی کیچچچچچ ایک معمر خاتون واپس اپنے گھر جانے کا اصرار کر رہی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ساری عمر پاک۔ بھارت گولوں کی زد میں گزاری ہے۔ اب عمر کے اخری حصے میں وہ کیوں بھاگیں۔ اس خاتون نے مجھے کہا کہ بیٹا میرے بچے بچیاں تو واپس نہیں جانا چاہتے لیکن تم مہربانی کر کے مجھے کھوئیرٹہ لاری اڈہ پر لے چلو وہاں سے میں گاڑی پر بیٹھ کر سیری چلی جاؤنگی۔ سبھی افراد نے مائی کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ حالات خراب ہیں ابھی کچھ دن انتظار کریں۔ حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے لیکن وہ پیدل چل پڑیں تو انکی فیملی کی باقی خواتین بھی ان کے ساتھ چل پڑیں۔ نتیجتنا میں نے انہیں گاڑی کی پیشکش کی اور کھوئیرٹہ لاری اڈہ پر چھوڑ آیا جہاں سے وہ تمام خطرات کو نظر انداز کر کے اپنے گھر واپس لوٹ گئیں۔ اب خدا جانے انکا کیا حال ہے؟ یہ ایک دو رات نہیں عمر بھر کا قصہ ہے۔ پاک۔ بھارت نے اقوام متحدہ میں رائے شماری کے لیے باشند گان ریاست جموں کشمیر سے بہتر سال پہلے جو وعدہ کیا تھا وہ اسے آج بھی پورا کرتے نظر نہیں آتے۔ وہ صرف جموں کشمیر کو ایک دوسرے سے چھیننا چاہتے ہیں اور دونوں اسے جموں کشمیر کی آزادی سے تعبیر کرتے ہیں۔ صرف پاک۔ بھارت ہی نہیں بلکہ کچھ اقتدار پرست اور زر پرست کشمیری لیڈر بھی اس ساگا کے ذمہ دار ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا بلکہ اس بد نصیب ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کی ختم نہ ہونے والی ہجرت کے متاثرین کو وہ انسانی امداد نہیں بہم پنچائی جو دنیا کے دیگر متنازعہ خطوں کو مل رہی ہے اور جو ملتی ہے وہ سیاستدان کھا جاتے ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کی چند ایک انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ہیں لیکن وہ بھی پاک۔بھارت بیانیہ کے ارد گرد گھومتی ہیں۔ اب وقت ہے کہ رہاست جموں کشمیر کے عوام آنکھیں کھولیں اور انکا بیانیہ پروموٹ کرنے والی حقیقی قیادت کا ساتھ دیں تاکہ دنیا ان کے مسلہ میں دلچسپی لے اور انکی کالی رات کا خاتمہ اور نئی صبح کا آغاز ہو سکے!

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 248 Print Article Print
About the Author: Quayyum Raja

Read More Articles by Quayyum Raja: 43 Articles with 14414 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: