عدم برداشت

(Muhammad Faisal Tufail, Jahanian)

عدم برداشت کا Concept روزِ ازل سے ہے عدم برداشت کا ارتقاء تو اسی وقت ہو گیا تھا جب ابلیس نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکارکردیاتھا یہی وہ عدم برداشت تھی جس نے ابلیس کو تا قیامت مردودبنا دیا ۔ابلیس نے حضرت آدم ؑ کو تکبر کی وجہ سے سجدہ نہ کیا تکبر دراصل عدم برداشت کی ایک صورت ہے۔اسی طرح ہابیل اور قابیل کے درمیان نفرت کی بناء پر عالم انسانی کا پہلا قتل بھی عدم برداشت کی ہی ایک صورت ہے ۔نفرت عدم برداشت کی ایک ایسی صورت ہے کہ جس کی آگ میں جل کر انسان اپنے حواس کو کھو بیٹھتا ہے اور برداشت کرنے کی قوت ختم ہو جاتی ہے ۔حسد بھی عدم برداشت کی ایک صورت ہے حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں نے حضرت یوسف ؑ کو حسد کی آگ میں جل کر کنوئیں میں پھینکا یہ بھی عدم برداشت تھا ۔تکبر حسد نفرت تعصب عدم برداشت کی برانچیں ہیں ہم بحثیت مجموعی ان جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور اسی وجہ سے ہماری اندر سے برداشت کرنے کی قوت ختم ہو چکی ہے۔

اگر ہم اپنے معاشرے کی طرف نظر دوڑائیں تو ہمیں انسانوں کے اندر سے قوت برداشت ختم ہوتی ہوئی نظر آتی ہے کوئی بھی شعبہ زندگی ہو تو ہمیں لوگوں کے اندر برداشت کا فقدان نظر آتا ہے اگر ہم سیاست
کی طرف دیکھیں تو برداشت نام کی کوئی چیز بھی ہمارے سیاسی راہنماوں کے اندر نہیں پائی جاتی سیاستدان صرف اپنے اپنے مفادات کے لیے دوسروں کی خوشیوں کو اپنے پیروں تلے روند کر آگے چلے جاتے ہیں
اور ان کے اندر برداشت کرنے کی صلاحیت اس حد تک ختم ہو چکی ہے کہ یہ ایک دوسرے کی تضحیک کرتے ہیں ایک دوسرے کو گالیا ں دیتے ہیں ایک دوسرے کی عزتیں اچھال دیتے ہیں اور ان کے کارکن ان کے ایک اشارے پر سڑکوں کو بلاک کردیتے ہیں شہروں کی روزمرہ کے معمولات کو تہس نہس کردیتے ہیں لوگوں کے املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔

اگرہم اپنے مذہب کی طرف دیکھیں تو یہی صورتحال ہمیں ادھر بھی نظر آتی ہے ہم ایک دوسرے کو برداشت کرنے سے بالکل قاصر ہیں حالانکہ ہمارا مذہب اسلام ہمیں برداشت کرنے کا سبق دیتا ہے لیکن اس
کے پیروکار یعنی ہم لوگ خود عدم برداشت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں ہم مسلکی بنیاد پر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں حتی کہ کافر تک کہہ جاتے ہیں یہ بھی عدم برادشت کی ایک صورت ہے ۔

اب ہم اپنے معاشرے کی طرف آتے ہیں ایک معاشرہ مختلف خاندانوں سے وجود میں آتا ہے اور ایک خاندان میاں بیوی بناتے ہیں یعنی میاں بیوی خاندان کا ایک اہم جزو ہے اس کے بغیر خاندان اور معاشرہ نامکمل ہے لیکن میاں بیوی کے درمیان معمول کے جھگڑے اور نوبت طلاق تک آجانی یہ سب عدم برداشت کا ہی نتیجہ ہے میاں بیوی کے درمیان تعلق ٹوٹنے سے خاندان ٹوٹ جاتے ہیں اور اس طرح معاشرہ عدم استحکام اور عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔اسی طرح خاندان کے دیگر افراد جن بہن بھائی وغیرہ شامل ہوتے ہیں ان کے درمیان حسد تکبر اور نفرت کی وجہ سے برداشت کرنے کی قوت ختم ہو جاتی ہے اور یہ اختلافات بہت سے مسائل پیدا کرتے ہیں یعنی بھائیوں کے درمیان جائداد کا جھگڑا اور نوبت قتل کرنے تک آجاتی ہے عدم برداشت کا ہی نتیجہ ہے۔

برداشت کرنا بزدلی نہیں بلکہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے جس کے دلمیں قوتِ برداشت ہے کبھی بھی نہیں ہار سکتا اور کمزور وہ ہے جو اپنی خواہشات پر قابو پا سکے اور طاقت ور وہ ہے جس کے پاس قوت برداشت ہے اگر ہم کسی کے حق کو تسلیم کر لیں تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں یعنی کہ کسی کے حق کو تسلیم نہ کرنا عدم برداشت ہے اسی بیماری کی وجہ سے ہمارے معاشرے سے پیار محبت بھائی چارہ اخوت یہ سب کچھ ماند پڑ چکا ہے عدم برداشت ذہنی مسائل الجھنیں اور دماغی امراض وغیرہ پیدا کرتا ہے اور انسان ذہنی دباؤ یا کسی الجھن میں آکر کو ئی غلط قدم اٹھاتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں مسائل بڑھ جاتے ہیں ۔عدم برداشت انسانی سمجھ بوجھ کو متاثر کرتی ہے اور انسان کو یہ تک نہیں یاد رہتا کہ وہ کس طرح کس سے کس جگہ اور کس لہجے میں بات کر رہا ہے ۔

ہمارے روئیے خطرناک حد سے تجاوز کر چکے ہیں ہمیں اسوقت اپنے روئیوں کو بہتر کرنے کی بہت ضرورت ہے ہمارے معاشرے کی اکثریت قوت برداشت سے محروم ہو چکی ہیہمیں اپنے اندر برداشت کی قوت کو پیدا کرنا پڑے نہیں تو ہمارے مسائل جو پہلے ہی کم نہیں ہیں مزید بڑھ جائیں گے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 251 Print Article Print
About the Author: Muhammad Faisal Tufail

Read More Articles by Muhammad Faisal Tufail: 17 Articles with 7385 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: