باپ جنت کا دروازہ

(Amjid Abbasi, )

 اریج خلیل: اسلام آباد
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جہاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں میری ماں سے
ماں کی بہت زیادہ عظمت ہے مگر باپ کی عظمت سے بھی انکار ممکن نہیں۔والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ماں اگر جنت ہے تو باپ جنت کا اعلیٰ دروازہ ہے ۔ ماں اگر جنم دیتی ہے تو باپ زندگی بخشتا ہے۔ماں اگر چلنا سکھاتی ہے تو باپ دوڑنا سکھاتا ہے۔ماں اگر بچے کی حفاظت کرتی ہے تو باپ دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔ماں کے قدموں تلے جنت ہے تو باپ بھی اسے جنت دیتا ہے۔ باپ بہت مہربان ہوتا ہے اسی لئے رسولﷺ کا ارشاد ہے
" باپ کی رضا میں رب کی رضا ہے، رب کو راضی کرنا ہے تو پہلے رب کو راضی کرو۔"
حضرت ابو درداء فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ۔" باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازہ ہےچنانچہ تمہیں اختیا ر ہے خواہ ( اس کی نافرمانی کر کے اور اس کا دل دکھا کے) اس دروازہ کو ضائع کر دو یا ( اس کی فرمانبرداری کر کےاور اس کو راضی کر کے ) اس دروازا کی حفاظت کرو۔"
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:"کوئی بیٹا اپنے باپ کے احسان کا بدلہ نہیں دے سکتاسوائے اس کے کہ اس ( باپ کو) غلام پائے تو اسے خریدے اور آزاد کرے۔"
باپ ایک مقدس محافظ جو ساری زندگی خاندان کی حفاظت کرتا ہے۔ماں زندگی کی تاریک راہوں میں روشنی کا مینار ہے اور باپ ٹھوکروں سے بچانے والا مضبوط سہارا۔ دنیا میں کامیابی چاہتے ہو تو باپ کی خدمت کرو۔ ماں کے قدموں تکے جنت ہے لیکن یاد رکھو! باپ کی ناراضگی کہیں تمہیں جہنم میں نہ پہنچا دے۔ ماں کے بغیر گھر ویران ہو جاتا ہے مگر باپ کے بغیر ساری زندگی ویران ہو جاتی ہے۔قدم قدم پر باپ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ باپ گھر کا سب سے مضبوط ستون ہوتا ہے۔ گھر سے دور رہتا ہے وہ بھی صرف گھر والوں کیلئے۔ماں باپ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہیں۔
جڑی تھی اس کی ہر اک ہاں میری ہاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں میری ماں سے
باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہے جس کے پاس بیلنس نہ ہوتے ہوئے بھی ہماری ضروریات کو پورا کرتا ہے۔دنیا کی خوبصورت ترین چھت باپ ہوتا ہے۔باپ ایک ایسی کتاب ہے جس پر بہت سے تجربات تحریر ہوتے ہیں جو زندگی گزارنے میں راہنمائی کرتے ہیں۔ اس لئے اپنے سے دور مت رکھیں۔باپ کی ڈانٹ اولاد کیلئے ایسی ہے جیسے کھیتوں کیلئے پانی۔
وہ ماں کے کہنے پر کچھ رعب مجھ پر رکھتا ہے
یہی وجہ ہے کہ مجھے چومتے ججھکتا ہے
وہ آشنا میرے ہر قرب سے رہے ہر دم
جو کھل کے رو نہیں پاتا مگر سسکتا ہے
ہر ایک درد وہ خود پر چپ چاپ سہتا ہے
تمام عمر وہ وہ اپنوں سے کٹ کے رہتا ہے
میرے بغیر سب خواب ہیں اس کے ویران سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں میری ماں سے
باپ کی زندگی تجربات کی کھلی کتاب ہے۔ چاہے کتنا ہی بوڑھا ہو مگر گھر کا سب سے بہادر ستون ہوتا ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جس کےپسینے کی ایک بو ندکی قیمت بھی اولاد ادا نہیں کر سکتی۔ باپ کی سختی برداشت کرو تا کہ باکمال ہو سکو۔ باپ کی موجودگی سورج کی مانند ہوتی ہے۔سورج گرم تو ضرور ہوتا ہے مگر نہ ہو تو اندھیرا چھا جاتا ہے۔
ماں باپ سے آپ کا سلوک ایک ایسی کہانی ہے جسے لکھتے آپ ہیں مگر آپ کی اولاد اپ کو پڑھ کر سناتی ہے۔
لیکن سچ ہے کہ باپ کی عظمت کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔
کہاں سے لاؤں وہ الفاظ میں بابا
بیاں جس سے محبت آپ کی ہو

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 182 Print Article Print
About the Author: Amjid Abbasi

Read More Articles by Amjid Abbasi: 2 Articles with 550 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: