وقت وقت کی بات ہے

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

وہ حامد کے گھر میں رہنے لگی ۔ ایک عام سی لڑکی جس پر پہلی نظر ٹکرا کر واپس آجاے جیسے اسکوئش کی بول دیوار سے ٹکرا کر اس لیے آے کہ ایک بار پھر مار کر بھگای جانی ہے ۔
لیکن یہ کیا ہو گیا اور کیوں ہو گیا کہ آہستہ آہستہ اس سے ہمدردی ہوتے ہوتے پیار میں بدل گئ کہ اس سے زیادہ خوبصورت کوی نہ لگے ۔
کیا پیار بھی انسان کے بس میں نہیں اور یہ بھی اس سے کروایا جاتا ہے اور بیٹھے بٹھائے ہو جاتا ہے۔
اس کے لیے وہ سب کی مخالفت مول لیتا ہے اور اپنی دوڑتی زندگی میں جھول لیتا ہے اور خاموش بھی کچھ نہ کچھ بول لیتا ہے۔
پھر وہ پیار بڑھتے بڑھتے بڑھنے لگتا ہے اور ارد گرد سب کچھ جھڑ ے لگتا ہے۔
لشکاری نے اس پیار سے خوب کھیلا خوب رلایا اور حامد کو اپنی نظروں میں لٹکاے رکھا ۔ نہ دور ہونے دیتی اور نہ قریب آنے دیتی ۔
حامد بری طرح الجھتا گیا اور مکڑی کے جالے میں پھنسے مکوڑے کی طرح بے بس ہو گیا ۔ پھر وہ وقت آگیا کی وہ چلی گئ۔ لشکاری نے پٹری بدل لی اور دونوں کا رابطہ ایک خاص عرصہ تک معطل رہا ۔
حامد غم سہتے سہتے شاعر بن گیا ۔ غم بھی بہت کچھ دے کر جاتا ہے ۔ اور کبھی خوشی آپ کو غم دے جاتی ہے جیسے لشکاری دے کر گئ تھی۔

کی سال گزر گئے ۔ حامد اب لشکادی کو بھول چکا تھا ۔ اب وہ اس کی قید سے آزاد ہو چکا تھا اور آزادی سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔
اچانک ایک دن لشکادی کی دوست کا فون آیا کہ لشکادی ملنے کے لیے بے چین ہے ۔ جبکہ حامد کی بے چینیاں اور اضطراب سکون پکڑ چکے تھے ۔ اس نے انسانی ہمدردی کے تحت اس سے ملنا گوارا کیا ۔
اس کے خوابوں کی شہزادی اس کے سامنے اپنی طلب سے بیٹھی تھی جبکہ حامد کو اب اس کی کوی طلب نہ تھی۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب آپ تڑب رہے ہوتے ہیں کسی کے لیے تو اس میں تڑپ نہ تھی اور اب وہ تڑپ لیے آی تو آپ کی تڑپ ختم ہو چکی ہو ۔
جس کے ساتھ ایک لمحہ گزارنے کو حامد تمام دنیا کی مخالفت کو تیار رہتا آج وہی لشکادی اپنی زندگی کے تمام لمحات اس کے نام کرنے آی تو اس کے لشکارے ختم ہو چکے تھے جو اس وقت بھی صرف حامد کی آنکھ میں موجود تھے ۔ اب غم کے آنسوؤں سے اس کی آنکھ دھل چکی تھی ۔ اور ایک لمحہ اس کے ساتھ گزارنا حامد کو مشکل لگ رہا تھا۔
یہ دنیا کا کیا کھیل ہے یا وقت کا کرشمہ ہے جو غم اور خوشی دونوں کو نہیں رہنے دیتا ۔ انسان کی آنکھ جو نظارہ کرتی ہے وہ وقت کا فوارہ بدلتا رہتا ہے ۔
اس کو ٹائمنگ کی غلطی کہیں یا تقدیر کی درستگی کہیں مگر ہماری آنکھ شاید وہی دیکھتی ہے جو وقت اسے دکھانا چاہتا ہے۔ اگر دل کی آنکھ کھل جائے تو پھر وہ دھوکہ نہیں کھاتی اور اس دل کے لیے ہر وقت ایک جیسا وقت ہو جاتا ہے ۔ وقت دک جاتا ہے ۔

گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہو گی
محبت اب نہیں ہو گی یہ کچھ دن بعد میں ہو گی
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 221 Print Article Print
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 206 Articles with 48981 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: