نیسکیفے بیسمنٹ (بچوں کا بینڈ)

(Sohail raza, Karachi)

نیسکیفے بیسمنٹ ایک ایسا میوزک پروگرام ہے جو اسٹوڈیو میں ریکارڈ کیا جا تا ہے ۔اس کا پہلا پروگرام سال 2012 ء ستمبر میں ریکارڈ کیا گیا ۔ اسے کا فی پذیرائی ملی ۔ اس کے بعد اس پروگرام کے کئی سیزن ریکارڈ کیے گئے جو ناظرین میں کافی مقبول بھی ہو ئے ۔اس پروگرام کے تخلیق کا ر "زُلفی " جبکہ اس کا پہلا گانا " سجاد علی " کا مشہور ِ زمانہ گانا "لاری اڈہ" تھا ۔اس مرتبہ اس پروگرام میں "کڈز بینڈ" کے نام سے ایک گانا ریکارڈ کیا گیا جو مختلف ٹی وی چینلز پر چل رہا ہے اور کا فی پسند بھی کیا جا رہا ہے ۔اس میں چھوٹے چھوٹے بچے اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں مختلف مو سیقی کے آلات ماہرانہ انداز سے بجاتے
ہو ئے سُریلی آواز کا جادو جگا رہے ہیں ۔ جس طرح ہر تصو یر کے دو رُخ ہو تے ہیں اسی طرح اس پروگرام کو میں نے ایک مختلف زاویے سے دیکھا ۔ ہو سکتا ہے بہت سے لو گ مجھے تنگ نظر سمجھیں لیکن میں یہ ضروری سمجھتا ہو ں کہ اس بات کا تذکرہ بھی ہو نا چاہیے۔ میں مو سیقی کے خلاف نہیں اور خود بھی کبھی کبھار گانے سُن لیتا ہو ں لیکن بحیثیت مسلمان میری سو ئی بھی اس کے سُننے اور نہ سُننے کے فتوؤں پر اٹکی ہو ئی ہے ۔ گناہ اور ثواب کے چکر سے ایک مسلمان کبھی نہیں نکل سکتا ۔ آپ کتنے بھی غلط کام کر لیں آپ کا ضمیر آپ کو اس کے غلط ہو نے کا احساس دلاتا رہے گا ۔جنت کی لالچ اور جہنم کا خوف کمزور سے کمزور ایمان والے مسلمان کے دل سے بھی نہیں نکالا جا سکتا ۔ لبرل مسلمان مو سیقی کو روح کی غذا کہتے ہیں لیکن اس بات کو ثابت کرنا اُن کے بس کی بات نہیں اسی طرح مولانا حضرات اسے گناہ ِ عظیم کہتے ہیں جس کی دلیل کئی احادیث سے وہ دیتے ہیں ۔ میری اپنی تحقیق کے مطابق موسیقی سُننے کے فوائد نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ کئی مرتبہ تو دل مزید بو جھل ہو جاتا ہے ۔رو ح پر ایک بھاری پن کا احساس ہو تا ہے ۔یہ میری ذاتی رائے اور تجر بہ ہے ۔جو خواتین و حضرات مو سیقی کو اپنا ذریعہ معاش بناتے ہیں یہ اُن کا مکمل طور سے اپنا فیصلہ ہو تا ہے ۔اس کے فوائد و نُقصانات سے وہ بخوبی آگاہ ہو تے ہیں ۔ شُہرت ،دولت کے دیوانوں کے لیے یہ ایک سہل راستہ بن سکتا ہے بشرطیکہ کہ آپ کے پا س گانے یا بجانے کی صلاحیتیں ہوں ۔میوزک انڈسٹری دُنیا کی بڑی انڈسٹریوں میں سے ایک ہے ۔ لیکن بات وہیں آکر اٹک جا تی ہے حرام وحلا ل کی ۔

بات ہو رہی تھی نیسکیفے بیسمنٹ 5 کے "کڈز بینڈ" کے پروگرام کی ۔ جس زوایے سے میں نے اس پرو گرام کو دیکھا میں نہ صرف اس سے شدید اختلاف رکھتا ہوں بلکہ میں اپنی نئی نسل کے لیے اسے باعثِ تباہی و بربا دی بھی دیکھتا ہوں ۔9 سے 11 برس کے بچے جن کے لیے گانا بجانا بس ایک تفریح ہے وہ گناہ و ثواب کی آگا ہی سے کو سوں دور ہیں ۔ میں اس بات سے خوف محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے چند لبرل خاندانوں کے یہ بچے ہماری قوم کے تمام بچوں کے آئیڈل نہ بن جا ئیں ۔ ان کی اس پذیرائی کو دیکھ کر دیگر بچے اپنا مستقبل بھی گانے بجانے میں ڈھونڈنا شروع نہ ہو جا ئیں ۔بحیثیت ِ مسلمان میں اس بات پر بھی احتجاج کرتا ہوں کہ اس طرح کے پروگرام ٹیلی ویژن سے نشر نہیں ہو نے چاہیں ۔

اس بات کا خاص خیال رکھا جا نا چاہیے کہ ایسے پروگرام جو ذہن سازی کی قوت رکھتے ہوں اس کا اثر معاشرے پر کس رُخ سے ہو رہا ہے ۔میڈیا انڈسٹری میں " گیٹ کیپر " کو باقاعدہ طور پر کام کرنا چا ہیے ۔ میں پھر کہوں گا کہ میں میوزک کے خلاف نہیں میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ صحیح اور غلط کے انتخاب کا فیصلہ انسان کا اپنا ہو نا چاہیے تاکہ وہ اپنے گناہ اور ثواب کا ذمہ دار بھی خود ہی ہو ۔ اتنے چھوٹے بچوں کو موسیقی سکھانا ، اس میں ماہر بنانا جبکہ وہ خود سے اپنے لیے کو ئی فیصلہ کرنے کی قوت نہیں رکھتے غلط ہے اور اگر والدین اپنی مرضی سے اپنے بچوں کو موسیقار یا گلوکار بنانا بھی چاہتے ہوں تو اُس کی اس طرح تشہیر کہ قوم کے دیگر بچوں میں بھی یہ خواہش بیدا ر ہو غلط ہے ۔یہاں یہ خواہش گھروں میں باعثِ اختلاف اور فتنہ فساد کی وجہ بھی بن سکتی ہے ۔میں فقط یہ ہی تجویز کرنا چاہوں گا کہ بچوں بحیثیت گلوکار، ڈانسر ہمیں ٹی وی اسکرین پر پیش نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ہمارا کلچر نہیں اور نہ اس اچھل کود کی ہمارا دین اجازت دیتا ہے ۔ نیسکیفے بیسمنٹ کے اس پرگرام سے پہلے اسی طرز کے ایک پروگرام میں بچے ،بچیوں کو انڈین گانوں پر رقص کروایا جا تا رہا جسے دیکھ صرف افسوس ہی کیا جا سکتا تھا ۔میری ذاتی را ئے میں بچوں کے بچپن کو خراب نہیں کرنا چاہیے اُنھیں بچہ ہی رہنے دینا چا ہیے ۔وقتی شہرت ، چند رپوں کی لالچ میں اپنے بچوں کی آخرت کو خراب مت کیجیے ۔یہ ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے حکومتِ وقت کو اس جانب ضرور توجہ دینی چا ہیے ۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 254 Print Article Print
About the Author: Sohail raza

Read More Articles by Sohail raza: 18 Articles with 11614 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: