انڈیا کی شکست اور میجر جنرل آصف غفور کی ٹویٹ

آسٹریلیا اور انڈیا کے درمیان انڈیا میں جاری ون ڈے سیریز کے پانچویں اور آخری میچ میں جیت کے ساتھ آسٹریلیا نے سیریز بھی اپنے نام کر لی۔
 


آسٹریلیا نے انڈیا کو 273 رنز کا ٹارگٹ دیا تھا لیکن انڈیا کی پوری ٹیم میچ کی آخری گیند پر 237 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

اس سیریز کے پہلے دو میچوں میں آسٹریلیا کو شکست ہوئی تھی لیکن اس کے بعد ہونے والے میچوں میں پاکستانی نژاد آسٹریلوی بیٹسمن عثمان خواجہ کی زبردست فارم نے انڈیا کے خلاف سیریز کا رخ موڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آخری میچ میں انھوں نے 106 گیندوں پر 100 رنز بنائے۔

اس کامیابی پر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹوٹیٹ میں عثمان خواجہ کے سٹرائیک ریٹ کو سراہتے ہوئے اسے اپنے پیغام میں نمایاں کرنے کے لیے لفظ ’سٹرائیک’ کو کیپیٹل لیٹرز میں لکھا۔ یہی نہیں انھوں نے سیریز میں عثمان خواجہ کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں سیریز سینچری بنا کر ختم کرنے پر انگریزی میں ’کیپ’ کا لفظ نمایاں کرنے کے لیے کیپیٹل لیٹرز میں لکھا۔
 


میجر جنرل آصف غفور کی ٹویٹ پر کافی تبصرے بھی کیے گئے۔ ٹوئٹر صارف اہتشام الحق نے اُن کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا ’سر جانے دیں، وہاں بریکنگ نیوز میں پہلے سے آپ کے ٹویٹس گردش کر رہے ہیں’۔

گو کہ ٹویٹ میں ’سٹرائیک ریٹ’ کا خاص حوالہ دیا گیا لیکن آج کل ایک روزہ میچ میں سٹرائیک ریٹس کو دیکھیں تو عثمان خواجہ نے رنز بہت تیز رفتار سے نہیں بنائے لیکن اُن کی کارکردگی سیریز میں پھر بھی اچھی رہی۔ پاکستان میں ان کی بیٹنگ کو خاصا سراہا جا رہا ہے۔ عثمان خواجہ کا نام پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ بھی کر رہا ہے۔ یہاں یہ بھی یاد کرا دیں کہ پاکستان کی اگلی ون ڈے سیریز آسٹریلیا کے خلاف ہوگی اور اگر عثمان خواجہ آسٹریلوی ٹیم کا حصہ ہوئے تو وہ پاکستان کے مد مقابل ہونگے۔

ٹوئٹر صارف وجاہت کاظمی کی طرح بہت سے صارفین نے انڈیا کی شکست کےبارے میں یہ بھی کہا کہ جس میچ سے انڈیا کے کھلاڑیوں نے فوجی ٹوپی پہنی اس میچ سے ٹیم ہارنے لگی۔
 


ایک اور ٹوئٹر صارف نے ہیش ٹیگ عثمان خواجہ کے ساتھ انہیں میجر کا عہدہ بھی دے ڈالا۔ کچھ نے آسٹریلیا کے تین میچوں میں تین کامیابیوں کو انڈیا اور پاکستان میں کشیدگی کے دوران سرجیکل سٹرائیک کے دعوؤں کے تناظر میں تیسری ’سرجیکل سٹرائیک’ کہنا شروع کیا۔

پہلے دونوں میچوں میں ہار کے بعد آسٹریلیا کو تیسرے میچ میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ یہ میچ خاص طور پر پاکستانی شائقین میں خاصی دلچسپی کا باعث تھا۔ اس میچ میں بھی جیت کا سہرا پاکستانی نژاد عثمان خواجہ کے سر تھا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی جاری تھی اور اس دوران سیریز کے تیسرے میچ میں انڈین ٹیم پلوامہ حملے کے خلاف اور اپنی فوج کے ساتھ یکجہتی کے طور پر فوجی ٹوپیاں پہن کر میدان میں اتری تھی۔ ان کا یہ اقدام موضوع بحث بن گیا تھا اور بات آئی سی سی تک پہنچی تھی۔
 


اس میچ میں کامیابی کے بعد بھی پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ میں اچھی کارکردگی پر عثمان خواجہ کی تعریف کی۔ پھر چوتھے میچ میں پلیئر آف دی میچ ایشٹن ٹرنر کے ساتھ ساتھ عثمان خواجہ کو ایک بار پھر اچھی کارکردگی پر شاباشی دی۔
 

 


سیریز چار میچز کے بعد برابر تھی اور پانچویں میچ میں بھی 'ہر دل عزیز' عثمان خواجہ نے ایک اور سینچری سکور کر دی۔ جب انڈیا کی ٹیم ہدف کے تعاقب میں میدان میں اتری تو 30 اوورز کے اختتام پر انڈیا کے 138 رنز پر چھ کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے۔ سوائے روہت شرما کی ففٹی کے باقی ٹاپ آرڈر آسٹریلین بولنگ کے سامنے ڈھیر ہوگئی۔

بھوینیشور کمار اور کیدار جادھو نے اگلے پندرہ اوورز میں 76 رنز کا اضافہ کیا لیکن جب 46 ویں اوور میں بھوینیشور کمار آؤٹ ہوئے اور چار اوورز میں مزید 50 رنز درکار تھے اور انڈیا کے لیے صورتحال مشکل نظر آرہی تھی۔ اگلے ہی اوور میں دوسری طرف ڈٹے ہوئے جادھو بھی آؤٹ ہوئے اور ہار یقینی ہوگئی۔ انڈیا کی ٹیم 273 کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اپنی ہی سرزمین پر کھیلی گئی سیریز کے آخری میچ میں 237 رنز بنا کر ڈھیر ہوگئی۔


Partner Content: BBC URDU

Reviews & Comments

Language: