ہوائی جہاز میں سفر کرنے کے خوف سے کیسے نمٹا جائے؟

کیا آپ کو ہوائی جہاز پر سفر کرنے سے پہلے ہاتھوں میں پسینہ آتا ہے؟ کیا آپ جہاز کے اڑان بھرتے وقت اپنی نشست کے بازوؤں کو مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں؟ کیا آپ کے دل کی دھڑکن لینڈنگ سے قبل تیز ہوجاتی ہے؟
 


اگر ان سب سوالات کا جواب ہاں ہے تو آپ بھی 17 فیصد امریکی لوگوں (بوئنگ کے سروے کے مطابق) کی طرح ممکنہ طور پر ہوائی سفر سے خوفزدہ ہیں۔

ایتھوپین ایئرلائنز کے 737 طیارہ کے حالیہ حادثے میں 157 افراد کی ہلاکت کے بعد اس بڑھتے خوف کی سمجھ آتی ہے مگر ایسے حادثے درحقیقت نایاب ہیں۔

ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے 2018 کے ایئرلائن حادثوں کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں ایئر ٹریفک تقریباً 3 کروڑ 78 لاکھ پروازوں کی ہے، جن میں حادثات کی شرح یہ ہے کہ 25 لاکھ 20 ہزار پروازوں میں ایک حادثہ پیش آتا ہے۔

البتہ ہم زیادہ خوفزدہ اس لیے ہو جاتے ہیں کیونکہ ایسے حادثات میڈیا میں وسیع پیمانے پر رپورٹ ہوتے ہیں۔

خوش قسمتی سے ہوائی سفر کے خوف کا علاج موجود ہے بلکہ درحقیقت بہت سے ایسے طریقے موجود ہیں جس کے باعث اس خوف سے نمٹا جاسکتا ہے۔

سانس لینے کی مشقیں
 


یونیورسٹی آف ورمانٹ کے ماہر نفسیات میتھیو پرائیس کے مطابق ایسے بہت سے لوگ ہیں جو جہاز میں سفر کرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انھوں نے اس سے پہلے یا تو جہاز پر قدم نہیں رکھا ہوتا یا ان کا ماضی کا تجربہ خوشگوار نہیں رہا ہوتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بد قسمتی سے کوئی ایک وضاحت نہیں پائی جاتی جو اس خوف کی وجوہات بیان کرے مگر ممکنہ طور پر اس ڈر کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔‘

میتھیو پرائیس نے سانس لینے کی مشقیں تجویز کی ہیں جس میں آہستہ اور لمبے سانس لینے کو کہا گیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ایسی پُرسکون اور آرام دہ مشقیں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

تھراپی
 


ہم میں سے کچھ لوگ ہیڈ فون لگا لیتے ہیں تاکہ پرواز کے دوران دھیان بٹا رہے اور دیگر لوگ نیند کی ادویات بھی لیتے ہیں جبکہ اکثریتی لوگ شراب کا سہارا لیتے ہیں۔

البتہ اگر خوف مکمل طور پر آپ پر حاوی ہوجائے اور یہ خوف آپکو ہوائی جہاز کا سفر کرنے سے بھی روکے تو اس نتیجے میں بہت سی ایسی تھراپیز ہیں جنھیں آزمایا جاسکتا ہے۔

ہپنوتھراپی، سائکوتھراپی یا کوگنیٹو بیہیویرل تھراپی کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ ہوائی سفر کے خوف سے نمٹا جاسکے۔

اس تھراپی کا مقصد یہی ہے کہ اس اضطراب کے اسباب کا پتہ لگایا جائے، یہ کیسے ہمیں متاثر کرتا ہے اور سب سے اہم کہ اِن احساسات اور جذبات سے کیسے نمٹا جائے۔

اپنے خوف کا سامنا کریں
 


ماہرین کا ماننا ہے کہ جہاز میں سفر کے خوف سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ایک مناسب طریقے سے اس ڈر کا عملی طور پر سامنا کیا جائے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم ایک ماہر نفسیات کی نگرانی میں ہوائی سفر کے مختلف مراحل سے گزرتے ہیں۔

دنیا میں بہت سے خصوصی کورسز ہیں جو اس خوف سے نمٹنے میں مدد کرتے ہیں۔ انھی میں سے ایک کورس ’فلائنگ ود آؤٹ فیئر‘ جو ورجن ایٹلانٹک کا ہے۔ اس کورس میں تربیت یافتہ پائیلٹ ایک ورچوئیل جہاز کی پرواز کے دوران تمام ان سوالات کے جواب دیتے ہیں جن کا تعلق جہاز میں سفر کرنے کے خوف سے ہو، جیسا کہ یہ معمولی بات ہے کہ موسمی حالات کے باعث جب جہاز کی روانی میں خلل پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ان اقدامات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں جو دہشتگردی سے بچاؤ فراہم کرتے ہیں یا انجن کے فیل ہو جانے کی صورت میں پائیلٹ کیا کرتے ہیں؟

ایموری یونیورسٹی سکول آف میڈیسن جارجیا کی ماہر نفسیات باربرا روتھباوم کے مطابق تھراپی کے نتائج بہت حوصلہ افزا تھے اور تھراپی کے آٹھ نشستوں کے بعد 93 فیصد لوگ جہاز پر سفر کرنے کو رضامند ہوگئے تھے۔

کورس کی پہلی چار نشستیں لوگوں کو ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے طریقے سکھاتی ہیں مثال کے طور پر اس منفی سوچ کی نشاندہی کرنا اور اسے ختم کرنا جو یہ خوف ڈالتا ہے کہ طیارہ کسی حادثے کا شکار ہوگا۔ کورس کے آخری چار نشستوں میں لوگوں کو ’ورچوئل ریئلیٹی` کی مشقیں کروائی جاتی ہیں جن سے وہ اپنے خوف کا سامنا ایک پُرسکون ماحول میں کرتے ہیں۔

امید یہ ہے کہ لوگوں کو اس سے نہ صرف ضروری معلومات ملیں گی بلکہ وہ سمجھ بوجھ بھی جاصل ہوگی جس سے وہ اس خوف پر قابو پاسکیں۔

حقائق کو سامنے رکھیے
 


ہوائی جہاز کا حادثہ ہمیشہ خبروں کی زینت بنتا ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں 10 مارچ کو ایتھوپین ایئرلائنز کا 737 مسافر طیارہ دارالحکومت ادیس ابابا سے اڑان بھرنے کے چھ منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار 157 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سیفٹی ماہرین کے مطابق موت کا امکان ہوائی سفر کی نسبت گاڑی سے پیش آنے والے حادثات میں زیادہ ہوتا ہے اور ہوائی جہاز کے حادثات میں گزشتہ دو دہایوں میں کمی آئی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق سنہ 2013 میں دنیا بھر میں 12 لاکھ 50 ہزار افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوئے۔ مجموی طور پر گاڑی کا سفر ہوائی جہاز کے سفر سے 100 گناہ خطرناک ہے۔

اگر 2018 کے اعداد وشمار پر نظر ڈالی جائے تو ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ 25 لاکھ پروازوں میں صرف ایک جان لیوا حادثہ پیش آتا ہے۔ ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے سی ای او ہیرو رینٹر نے کہا کہ ہوائی سفر کے حوالے سے حفاظتی اقدامت میں واضح بہتری آئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گزشتہ دو دہائیوں میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے کافی پیش رفت ہوئی ہے۔‘


Partner Content: BBC URDU

Reviews & Comments

Language: