پاکستان کا یوم جمہوریہ 23 مارچ

(Ayesha Khan Ansari, Karachi)

23 مارچ کا یوم جمہوریہ ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجتماع میں 1940 میں ایک قرارداد منظور کی گئی جسے شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کیا اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سب نمائندوں نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا, یوم جمہوریہ کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے- سرسید احمد خان کے دو قومی نظریے کے تحت اور علامہ اقبال کے فلسفے کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کا ضمیر جاگا تو یہ قرارداد منظور ہوئی, اس قرارداد میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ انڈیا کے جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ان علاقوں کو انڈیا سے الگ کرکے آزاد حیثیت دی جائے جہاں پر مسلمان اپنی تہذیب عقیدہ تاریخ اور رسم و رواج کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کرسکیں اسی دن کی یاد میں مینار پاکستان بنایا گیا جو ہمیں 23 مارچ کی یاد دلاتا ہے, اس دن خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے .. 23 مارچ کو عام تعطیل ہوتی ہے اور پورے ملک میں جشن، ریلی، سیشن، سیمینارز کے ذریعے پوری طرح سے پاکستان کا جشن منایا جاتا ہے یہ دن عقیدت، اعتقاد، وفاداری اور خوشی سے بھرا ہوا ہے , میڈیا بھی اس دن کے لئے بھرپور کردار ادا کرتی ہے ,ٹی وی شوز, ریڈیو پروگرام, ملی نغمے اور مارننگ شوز مختلف چینلس پر چلائے جاتے ہیں- وطن پرستی کے باعث مختلف برانڈز میں سیل لگائی جاتی ہے اس کے علاوہ اسکولوں, کالجوں, یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں اس دن کا جشن منایا جاتا ہے- پاکستان کی مسلح افواج نہایت شان و شوکت سےپریڈ کرتی ہیں ,اس وطن عزیز کے تاریخی دن کو منانے کے لئے پاکستان میں سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے یہ یوم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اسلامی و جمہوری اصولوں کے مطابق چلیں, یہ دن علامہ اقبال کے تصور پاکستان کے عین مطابق ہے اس قرارداد کی منظوری کے بعد برِ صغیر کے مسلمانوں میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا ہوا جس کو بروئے کار لا کر صرف سات سال کے عرصے میں آل انڈیا مسلم لیگ نے پاکستان کا حصول ممکن کر دکھایا قرارداد پاکستان کی اصل روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے- 23 مارچ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جن مقاصد کو پیش نظر رکھ کر ہم نے الگ ملک کا مطالبہ کیا تھا کیا اب ہم ان پر عمل کر رہے ہیں¿ کیا عوام کی حاکمیت مکمل طور پر قائم ہے ¿ کیا اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم ہے¿ کیا امیر و غریب کے درمیان فرق کم ہوگیا ہے¿ کیا استحصالی نظام ختم ہوگیا ہے¿ کیا ہم خوشحالی کی طرف گامزن ہیں¿ کیا دنیا میں ہمارا مقام بلند ہو گیا ہے ¿ ہمیں 23 مارچ کو ان سوالوں کا جواب ضرور ڈھونڈنا چاہیے - جمہوریت میں ہی ترقی کی جیت ہے- جس کو آمریت سے آزاد ہونا چاہیے اگر ہم ان باتوں پر عمل کریں تو پاکستان اقتصادی سیاسی اور سماجی طور پر مضبوط ہو سکتا ہے-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 322 Print Article Print
About the Author: Ayesha Khan Ansari

Read More Articles by Ayesha Khan Ansari: 3 Articles with 1089 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: