نیوزی لینڈ کا سانحہ : اُمّت مسلمہ ہوش کرے․․․!!

(Irfan Mustafa Sehrai, )

دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔مثبت سوچ کے مالک لوگ دنیا کو یہ بات سمجھاتے ہوئے تھک چکے ہیں ، مگر دہشت گردی کا خوف پیدا کر کے اپنے مقاصداور مفادات حاصل کرنے والوں نے خون بہانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں نے اپنے ہی شہریوں کا خون بہایا،ہندوستان نے مذہب کے نام پر دہشت گردی اور انتہا پرستی کی مثالیں قائم کر دی ہیں،جموں کشمیر میں بھارت کا انسانیت سوز رویہ دنیا کو کیوں نہیں نظر آتا ․․․؟فلسطین ،یمن اور ایران کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا جا رہا،عراق کو برباد کر کے رکھ دیا گیا۔افغانستان کو 9/11کے بہانے تباہ و برباد کر دیا گیا۔سب کچھ غلط ہوا ،مگر دنیا نے مسلم دشمنی کو اپنی بڑی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے ، آج بھی اُن پر دباؤ کا تسلسل جاری رکھا ہوا ہے ۔ مسلم ممالک کے باسیوں کو اپنے ہی وطن کے خلاف استعمال کرکے انہیں دہشت گرد ثابت کیا جاتا رہا ہے ۔عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ خون بہانے کے پیچھے کن طاقتوں کا ہاتھ ہوتا ہے ،مگر عوام تو بے بس اور مجبور ہے ،وہ اس وقت کا انتظار کرتے رہتے ہے کہ جب خزاں کے موسم میں ہرے بھرے پتے زرد ، خشک ہو کر ٹہنیوں سے گرتے رہتے ہیں اور کوڑے دان کی نذر ہو کر خاک میں مل جاتے ہیں ۔

دہشت گردی پر عموماً سیاست کی گئی ہے ،کسی بھی مسلم ممالک کی سرحدیں دیکھ لیں، ان کی سلامتی نازک مستقبل کا اشارہ دے رہی ہیں ۔ان ممالک میں قدرت کے خزانے بھرے پڑے ہیں ،مگران کی نا اہلی اور نا عاقبت اندیشی نے کسی نہ کسی کا غلام بنا رکھا ہے ۔مسلمانوں سے زیادتی در زیادتی کی جا رہی ہے ،مگر ہم ہیں کہ ’’اُف ‘‘تک نہیں کہتے ۔یہی وجہ ہے ہمیں دہشت گرد اور انتہا پرست کا لقب دینے والے جب خود کچھ کرتے ہیں تو اسے ’’پاغل پن یا شوٹر ‘‘کہہ کر بات ختم کر دی جاتی ہے ۔

کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں نماز جمعہ سے قبل مسلح حملوں میں 49نمازی شہید اور 39 زخمی ہو گئے ۔دہشت گردوں نے آٹو میٹک رائفل کے ساتھ نمازیوں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں ۔حملہ آور نے یہ بھی یقینی بنایا کہ کوئی شخص مسجد سے باہر نکلنے نہ پائے ۔فائرنگ کے دوران وہ بھاگنے والے نمازیوں کا پیچھا کرتے ہوئے باہر پارکنگ تک نکل جاتا ہے ،وہ ساتھ ساتھ اس دلخراش سانحہ کی ویڈیو بھی بناتا ہے ،حملہ آور تین بار مسجد میں آیا اور آخری چکر میں اس نے ایک شخص کے قریب جا کر ان پر متعدد بار گولیاں چلا کر ان کی موت کو یقینی بنایا۔

حالانکہ یورپ کو یہ بات منوانے میں خون کی ندیوں سے صدیوں گزرنا پڑا کہ مذہبی انتہا پرستی ترقی اور فلاح کی راہ نہیں ہے ۔اسلام کو انتہا پرستی کی علامت سمجھنے والے اسلام اور قرآن کو نہیں سمجھتے ،وہ مسلمانوں کو دیکھتے ہیں ،لیکن اسلام کی سچائی اور صداقت تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ وہ مسلمانوں کی خامیوں اور کوتاہیوں کو چسپاں کر دیتے ہیں۔اسلام حق و انصاف کا علمبردار ہی نہیں بلکہ جبر و ظلم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتا ہے۔مومن اسے کہا گیا ہے جو جبر و ظلم دیکھے تو طاقت ہو تو ہاتھ سے روک دے ۔اگر طاقت نہیں ہے تو زبان سے کہے کہ یہ ظلم ہے ۔یہ بھی اگر نہ کر سکے تو دل میں محسوس کرے ،مگر یہ ایمان کا کمزور ترین حصہ ہے ۔اگر آپ دیندار ہو اور جبر و ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے حقیقت میں ان کا کوئی دین اور اخلاق نہیں ہے ۔

مسلم امّہ اخلاقی پستی کا شکار ہے ۔نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کا بد ترین سانحہ ہوا ،مگر مسلم امّہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔اگر اس واقعہ سے کہیں کم ترین واقعے میں کوئی مسلمان ملوث پایا جاتا تو پوری دنیا کے حکمران ،انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں ،مختلف گروپ،میڈیا اورعوام مسلمانوں پر الزامات لگاتے ،انہیں دہشت گرد اور انتہا پرست اور دنیا کے امن و امان کے لئے خطرہ کہتے نہ تھکتے ،مگر نیوزی لینڈ جہاں کی آبادی 42 لاکھ ہے ،جس کا 1.1فیصد مسلمان ہیں ،ان پر اتنا بڑا ظلم ہو جاتا ہے ۔اس ظلم پر جہاں یورپ اور دوسرے مسلم ممالک خاموش ہیں، وہاں پاکستان میں بھی اس دہشت گردی کے بڑے واقعے پر مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے ۔یوں تو انٹر نیشنل میڈیا ہو یا پاکستانی ،بھارتی میڈیا کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کو اجاگر کرنے کا انداز ہی نرالا ہوتا ہے ،لیکن کیا کہنے نیوزی لینڈ میں مسلمانوں پر دن دھاڑے اتنی بڑی دہشت گردی ہوتی ہے ،مگر دنیا بھر کا میڈیا خاموشی سادھے ہوئے ہے ۔

نیوزی لینڈ پولیس نے ایک خاتون سمیت 4 حملہ آوروں کو گرفتار کیا ہے ،جن میں ایک آسٹریلوی بھی ہے ۔ایک شخص پر با قائدہ فرد جرم بھی عائد کر دی گئی ہے ،مگر ابھی تک کسی تنظیم ،گروہ پر الزام نہیں لگایا گیا۔مسلمانوں پر دہشت گردی کے الزامات لگانے والے ہندوستانی اور عالمی سطح کے سیاستدانوں کے لئے دہشت گردی اقتدار کی بھوک مٹانے کا اہم ذریعہ بن چکی ہے ۔دنیا کے بیشتر ممالک کی حکومتوں کا قیام اس دہشت گردی کا خوف پیدا کر کے عمل میں لایا گیا ہے ۔پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے جو نقصانات ہوئے ہیں اس سے عام شہری ہی تباہ ہوئے ہیں ۔

کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کے سانحہ میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم محفوظ رہی ،یہ ان کی خوش قسمتی تھی ،مگر اب آئی سی سی کو نیوزی لینڈ میں سیکورٹی کے معاملات میں اپنے کھلاڑیوں کی حفاظت پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے ۔جیسے پاکستان کرکٹ کے ساتھ سیکورٹی کے نام پر سوتیلوں والا سلوک کیا تھا ،ویسا ہی نیوزی لینڈ کے ساتھ ہونا چاہیے ۔قربانیاں اور سختیاں اٹھانے کے لئے پاکستانی ہی کیوں رہ جاتے ہیں ۔اس میں ہماری اپنی بھی غلطیاں ہیں ۔جب ہم اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ڈٹ نہیں جائیں گے ،ہمارے ساتھ ایسے ہی بد سلوکی ہوتی رہے گی ۔

یوں تو ساری پاکستانی عوام نیوزی لینڈ میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے لئے گہرے دکھ ،درد اور افسوس کا احساس رکھتے ہیں ، کیونکہ پاکستان کے ہر فرد کو اس دلخراش واقعات سے بہت پالا پڑا ہے۔ایسے انسانیت سوز سانحہ رونما ہوئے ہیں ،جسے سوچ کر ہی ہوش و ہواس بے دم ہو جاتے ہیں ۔اس لئے سانحہ میں شہید لوگوں کے اہلخانہ کے درد کو محسوس کرتے ہیں ۔نیوزی لینڈ کی حکومت کی پریشانی کا بھی احساس ہے ،مگر اس سے پورے یورپ اور بڑے ممالک کو سوچنا چاہیے، جنہوں نے اسلام مخالفت میں مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر انہیں بدنام کیا ہے ۔انہیں اس سانحہ سے سبق سیکھنا چاہیے ۔میڈیا خاموشی کیوں سادھے ہوئے ہے ،جب کہیں بھی کوئی مسلمان دہشت گرد سانحہ میں ملوث ہوتا ہے یا کر دیا جاتا ہے ،اس وقت تو انٹر نیشنل کے ساتھ ساتھ مقامی میڈیا بھی چیخ و پکار شروع کر دیتا ہے ، ان کی آج کی خاموشی معنی خیز ہے ۔اس قتل عام کے سانحہ کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کر رہا،قاتل کو کسی ملک یا مذہب سے جوڑ کر پراپیگنڈا سامنے نہیں آ رہا ۔لیکن اگر ایسی ہی کوئی حرکت کسی مسلمان سے سرزش ہو جاتی تو اسلام کے خلاف محاذ دنیا بھر میں کھول دیا جاتا ہے ۔یہ یورپ والے عیب سے پاک تصور کیے جاتے ہیں ۔اب بھی اس حملہ آوروں کو پاگل یا ہمدردی کے مستحق سمجھ کر درگزر کر دیا جائے گا۔سزا دینے کی بجائے علاج کیا جائے گا،مگر دنیا بھر میں برپا فتنہ و فساد کو بے دریغ مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے اور اسے جائز سمجھا بھی جاتا ہے ۔پروفیسر حافظ سعید اور مسعود اظہر کو تو عالمی دہشت گرد کی خواہش رکھنے والے اس قاتل کو عالمی دہشتگرد قرار دیں ،کیونکہ اس سانحہ میں اس نے خود اپنی 17منٹ کی ویڈیو میں ثبوت دنیا کو دے دیا ہے ۔اگر اسے عالمی دہشت گرد قرار نہ دیا گیا تو ماننا پڑے گا کہ اس طرح کی دہشت گردی کو حکومت کی در پردہ حمایت حاصل ہوتی ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 143 Print Article Print
About the Author: Irfan Mustafa Sehrai

Read More Articles by Irfan Mustafa Sehrai: 119 Articles with 29258 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: