موسیقی، ڈرامہ و فلم سازی ایک معاشرتی ناسور

(Allah Bakhash Fareedi, Faisalabad)
وہ دنیا کی مٹی ، یہ دوزخ کی مٹی
وہ بت خانہ خاکی ، یہ خاکستری ہے

موسیقی، ڈرامہ و فلم سازی ایک معاشرتی ناسور

وہی بت فروشی ، وہی بت گری ہے
سینما ہے یا صنعت آرزی ہے؟

وہ صنعت نہ تھی ، شیوہ کافری تھا
یہ صنعت نہیں ، شیوہ ساحری ہے

وہ مذہب تھا اقوام عہد کہن کا
یہ تہذیب حاضر کی سوداگری ہے

وہ دنیا کی مٹی ، یہ دوزخ کی مٹی
وہ بت خانہ خاکی ، یہ خاکستری ہے

ہمارے ہاں معاشرہ کی سب سے بڑی لعنت، برائی ، جہالت موسیقی ، ڈرامہ و فلم سازی ، ٹھیٹھراور سٹیج کی واحیات گفتار و ناچ راج ہے جنہوں نے پورے اسلامی معاشرہ کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے، جو روز بروز معاشرہ میں فحاشی ، عریانی، گمراہی و بداخلاقی ، بے حیائی ، بے شرمی، بے پردگی ، غنڈہ گردی و بدمعاشی کو فروغ دے رہے ہیں ۔اسلام سے پہلے لوگ بت پجاری تھے مگر اب بت بین ہیں۔اسلام سے پہلے بت پوجا لوگوں کا شیوہ تھا، اب بت فروشی لوگوں کی صنعت و تجارت اوربت بینی تفریح کا ساماں۔اب بت پرستی کی شکل اور انداز ہی بدلا ہے، ہے اصل میں وہی کفر و شرک ، وہی بت پوجا،وہی حقیقی خدا سے غفلت و بے نیازی ۔ وہ بت پرستی دنیا کی مٹی تھی اور یہ بت بینی دوزخ کی مٹی ہے. پہلے لوگ حقیقی خدا سے بے نیاز و غافل ہو کر بتوں کی پوجا میں وقت کا ضیاع کرتے تھے ، اب وہی کیفیت خدا سے غفلت و بے نیازی کی بت بینی میں نظر آتی ہے۔لوگ دن رات خدا سے غافل، دین سے بیزارہو کر بت بینی کرتے ہیں، موسیقی،ناچ گانے، ڈرامے، فلم بینی اور کھیل دیکھنے میں مگن رہتے۔ لوگ خدا سے غافل ، دین و دنیا سے غافل ، یوم حساب سے بے نیاز، برائیوں پر برائیاں کیے جا رہے ہیں، انہیں قیامت کے روز اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کا ذرا بھی خوف نہیں۔ عقل و شعور اور دانشمندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر تم کوئی نیک اور اچھا کام نہیں کر سکتے تو کم از کم کوئی برا ئی بھی نہیں کرنا چاہیے ۔ اگر تمہارے پاس کسی نیک کام کیلئے وقت نہیں تو کسی برے کام کیلئے بھی نہیں ہونا چاہیے۔ مگر لوگوں کو ذرا فکر نہیں اپنے اچھے اور برے کی۔اگر لوگوں کو آخرت کی رب کی اس ملاقات پر ذرا برابر بھی یقین ہوتا تو اس کے خوف سے کسی برائی کے قریب سے بھی نہ گزرتے مگر انہوں نے تو تمام برائیوں اور کفر و شرک کی جڑ کو اپنے سینوں سے لگا رکھا ہے اوردن رات اس کی خرید و فروخت اور تفریح میں مصروف ہیں۔ مگر کسی نے آج تک اس لعنت کے خلاف ا حتجاج نہیں کیا۔ ہمارا کوئی اجتماع ، کوئی مظاہر ہ ایسا نہیں جو کسی معاشرتی برائی کے خلاف کیاگیا ہو۔

ہاتھ بے زور ہیں ، الحاد سے دل خوگرہیں
بت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بت گر ہیں

امتی باعثِ رسوائی پیغمبر ﷺ ہیں
تھا ابراہیم پدر، اور پسر آذر ہیں

ہا نکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے؟

حضرت اقبال رحمۃ اللہ علیہ کاسوال کہ اگر تمہیں پتھر کے بتوں میں کوئی منافع نظر آتا تو کیا تم اسے نہ بیچتے؟ وہ آج ہی قوم نے عملی صورت میں پورا کر دیا۔ صنم، مجسمے چاہے پتھر کے ہوں چاہے موم پلاسٹک کے ، یا لکڑی کے بات تو ایک ہی ہے۔ آج آپ گارمنٹس اور لیڈیز بوتیک یا زیورات کی شاپس کے باہر دیکھیں، لکڑی اورپلاسٹک کے مجسمے اپنے پورے رعب اور شان و شوکت سے کھڑے ہوتے ہیں لوگوں کی توجہ مرکوز کرانے کیلئے گویا کہ روزی کے دیوتا ہیں ، ا ن کی نمود و نمائش سے ان کی سیل یعنی روزی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ا ور کچھ روزی اور فضول وقت کے ضیاع، عبادات وفرائض کی انجام دہی سے بے نیار کرنے اور معاشرہ کو اخلاقی بے راہ روی کا درس سیکھانے والے زندہ چلتے پھرتے دیوتاویڈیو کیسٹ، سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز وغیرہ میں بند کر کے قوم کو پیش کیے جاتے ہیں جو ان کو دین سے غافل، خدا و رسول سے بے نیاز کرتے ہیں اور قوم ان میں مگن ہے۔
آج امت جہنم کے دہانے پر ہے اور امت کو اس مقام تک پہنچانے میں ،امّہ کو جہنم کی دہلیز پر لاکھڑا کرنے میں سب سے اہم کردار اس ذلیل ترین طبقے نے ادا کیا ہے جنہیں ہم نے معاشرہ میں عزت دے رکھی ہے جنہیں ہم اداکار ، فنکار، اور موسیقار، سٹار وغیرہ کہہ کر پکارتے ہیں، جنہیں ہم نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمتوں ذرائع ابلاغ ( الیکڑونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا) کی زینت بنا رکھا ہے،جودن بدن معاشرہ میں فحاشی، بدکاری ، بداخلاقی، بے حیائی و بے پردگی کوفروغ دے رہے ہیں لیکن کوئی ان کو روکنے والا نہیں، بلکہ سرکاری سطح پر بھی ان کو حمایت اور دادرسی حاصل ہے۔ اگر کہیں کوئی ان شیطانوں کا پروگرام ہو تو اسے ٹی و ی اور میڈیا پر پوری کوریج دے کو قوم کو دیکھایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ملک بھر میں لاکھوں محافل میلاد کا انعقاد ہوتا ہے جہاں اللہ و رسول ﷺ کی حمد و ثناء اور رشد و ہدایت کا درس ملتا ہے۔ حکمران ، ٹی وی اور میڈیا پر براجمند وڈیرے بتائیں کتنی محافل کی لائیو کوریج دی؟ اگر نہیں دی تو کیوں؟ کیا اس لئے کہ قوم کوئی رشد و ہدایت کی بات سن کر ہدایت نہ پالے؟؟؟
ہمارے حکمران ، ہمارے ادارے ان شیطانوں کے فروغ و بلوغت کے سہولت کار ہیں، ریڈیو، ٹی و ی ،موبائل نیٹ ورک حتیٰ کہ فون کال کے دوران بھی ان کی تشہیر اور میوزک کی آفرزدی جاتی ہیں۔بھلا اس قوم کا آخرت میں کیا حشر ہوگا جس نے شیطانوں کو اپنا پیشوا بنا لیا ہو، انہیں معاشرہ میں عزت دے رکھی ہو اور اللہ رب العزت کی عطا کردہ حیرت انگیز نعمتوں (ذرائع ابلاغ) کو صرف ان کیلئے وقف کر دیا ہو، تاکہ انہیں معاشرہ میں برائیاں پھیلانے میں آسانی ہو؟یہ ظالم اللہ عزوجل کی آیتوں سے شرک کرتے ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں ’’ میری یاد میں دلوں کا چین ہے، میری یاد سے دل سکون پاتے ہیں‘‘ مگر یہ ظالم لوگ کہتے ہیں موسیقی روح کی غذا ہے اس سے دل سکون پاتے ہیں۔یہی وہ لعنتی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتے ہیں۔
وَمِنْ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّخِذَھَا ہُزُوًا اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌo وَاِذَا تُتْلٰی
عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسْتَکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا کَاَنَّ فِیْ اُذُانَیْہِ
وَقْرًا فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍo (لقمٰن 6..7:31)
’’اور کچھ لوگ کھیل کی باتوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ عزوجل کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور انہیں (آیات الہٰیہ کو ) ہنسی مذاق بنا لیں ۔ ان کے لیے ذلت کا بد ترین عذاب ہے ، جب انہیں اللہ کی آیتوں سے نصیحت کی جاتی ہے تو تکبر کرتے ہیں اور ان کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے جیسے انہیں سنا ہی نہیں ، جیسے ان کے کانوں میں ٹینٹ ہے اور وہ بہرے ہیں کہ انہیں کچھ سنائی ہی نہیں دیتا۔ تو انہیں درد ناک عذاب کی بشارت سنا دو۔‘‘
’’لھوالحدیث ‘‘ یعنی کھیل کی باتیں ۔ ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی باتوں سے غفلت میں ڈالے ۔ موسیقی ، ڈرامہ و فلم سازی، قصے ، کہانیاں، ناول، افسانے، ڈائجسٹ اور ہر قسم کے کھیل جیسے کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، ٹینس وغیرہ سب اس میں داخل ہیں جو قوم کو فرائض کی انجام دہی سے غافل کر کے ان کے بجا وقت کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں۔
بعض جلیل القدر صحابہ و تابعین جیسے حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس، حضرت سیدنا سعید بن خبیر، حضرت سیدنا عکرمہ اور حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے ’’لھو الحدیث ‘‘ کھیل کی باتوں کی تشریح موسیقی، آلات موسیقی اور گانے باجے سے کی ہے کیونکہ یہ یاد الٰہی سے غافل کرنے کاایک قوی سبب ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا اور مجھے منہ اور ہاتھ سے بجائے جانے والے آلاتِ موسیقی اور سازوں کو مٹانے کا حکم دیا۔‘‘
’’عمدۃ القاری ‘‘ میں حضور نبی کریم ﷺ کا ایک عبر تناک فرمان ہے
’’ آخر زمانہ میں میری امت کی ایک قوم کو مسخ کرکے بندر اور خنزیر بنا دیا جائے گا ۔‘‘
صحابہ کرام نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ﷺ ! خواہ وہ اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘تو فرمایا۔’’ ہاں! خواہ وہ نمازیں پڑھتے ہوں، روزے رکھتے ہوں،زکوۃ دیتے ہوں یا حج کرتے ہوں ۔‘‘ صحابہ نے عر ض کیا۔ ’’ ان کا جرم کیا ہوگا؟ فرمایا۔’’ وہ عورتوں کا گانا سنیں گے اور باجے بجائیں گے اور شراب پئیں گے ۔ اسی طرح لہو ولہب ( کھیل کود) میں ان کی راتیں بسر ہوں گی اور صبح کومسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دئیے جائیں گے۔‘‘
اسی طرح کی ایک اور حدیث ’’ مسندامام احمد ‘‘ میں بھی ہے کہ ھادی برحق رسول معظم و مکرم حضور نبی آخر الزماں ﷺ نے فرمایا
’’ میری امت میں زمین میں دھنسا دینے ، پتھر برسنے او ر صورتیں مسخ ہونے کے واقعات ہوں گے۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کی ۔’’یا رسول اللہ ﷺ ! ایسا کب ہوگا؟ فرمایا ۔’’ جب آلاتِ موسیقی کا رواج ہوگا اورشراب کو حلال کر لیا جائے گا۔‘‘
آہ ! آج تو بات بات پر موسیقی رائج ہے ، ہر چیز میں موسیقی کی دھنیں سنی جارہی ہیں ، اور تو اور اب تو حمدوں اور نعتوں کو بھی ان میں سجا کر بیان کیا جاتا ہے۔ جن آلات موسیقی کو رسول اللہ ﷺ نے مٹانے کا حکم دیا تھاآج بد نصیب مسلمان ان منحوس آلات کو حرزِ جان بنائے ہوئے ہیں ، رات دن ان کی تجارت میں مصروف ہیں۔ پیارے آقا ﷺ سرے سے جن چیزوں کے خلاف تھے ان کے نام لیواؤں نے آج انہیں اپنے سینوں سے لگا رکھا ہے۔ گلی گلی میوزک سنٹر کھول رکھے ہیں بلکہ آج تو تقریباً ہر گھر، ہر فرد میوزک سنٹر بنا ہوا ہے، فرد فرد کے پاس موبائل اور میموری کارڈ ز میں طرح طرح کی لغویات و میوزک بھرا ہے۔
اے لوگو! عبرت حاصل کرو اور اپنا منہ سیدھا کرو اللہ عزوجل اوراس کے پیارے رسول ﷺ کی اطاعت کاملہ کیلئے قبل اس کے کہ وہ دن آئے جو کبھی ٹلے گا نہیں یا قبل اس کے کہ مسخ کر کے بندر، سور اور خنزیر بنا دئیے جاؤ۔
کنز العمال میں ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا ۔’’مجھے آلات موسیقی کو توڑنے کیلئے بھیجا گیا ہے۔‘‘ مزید فرمایا۔’’ گانے والے مرد اور گانے والی عورت کی کمائی حرام ہے اور زانیہ کی کمائی بھی حرام ہے اور اللہ رب العزت نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ وہ حرام سے پلنے والے بد ن کو جنت میں داخل نہیں فرمائے گا۔‘‘
لہٰذا جو لوگ اس شعبہ سے منسلک ہیں ، اس کی خرید و فروخت کرتے ہیں ان کی کمائی بھی حرام ہے اور جو لوگ گھروں میں بیٹھ کر ان کو دیکھتے اور سنتے ہیں وہ بھی اس میں داخل ہیں اور انہیں کبھی بھی جنت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ جنہوں نے اس دنیا میں اصحاب سجیّن کو دیکھنا ہو وہ اس شعبہ (میوزک) سے منسلک کسی بھی آدمی کو دیکھ لے یہ بات طے شدہ ہے کہ یہ لوگ پکے دوزخی ہیں ایسے فاسق و فاجر لوگ کبھی جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ o یَّصْلُوْنَھَا یَوْمَ الدِّیْنِ o وَمَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآءِبِیْنَ o
’’بیشک بدکار لوگ دوزخ میں ہوں گے ۔ جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ اس سے بھاگ کر کہیں بھی چھپ نہیں سکیں گے۔‘‘ (الانفطار 14…6:82)
یہ ذلیل ترین لوگ (اداکار ، فنکار، موسیقار، اور ان کے پس پردہ کام کرنے والے ہدایت کار ، پروڈیوسر وغیرہ اور وہ جنہوں نے گلی گلی ان شیطانوں کی فروغ و اشاعت کیلئے ویڈیو اور آڈیو سنٹر کھول رکھے ہیں ) خود تو گمراہ ہیں ہی دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ، لوگوں کو خدا سے غافل اور دین سے بیزار کرنے والے دیوتا فروخت کرتے ہیں۔لوگوں کو فحاشی ، عریانی ، بے حیائی، بے شرمی ، بے پردگی، بدمعاشی و بداخلاقی اور غنڈہ گردی کا درس دیتے ہیں۔
حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
’’ جو شخص کسی گانے والی کے پاس بیٹھ کر گانا سنتا ہے قیامت کے دن
اللہ عزوجل اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈلیں گے۔‘‘ (کنز العمال)
جو لوگ گھروں ، دکانوں ، ہوٹلوں ، بسوں ، کاروں وغیرہ میں بیٹھ کر گانا سنتے ہیں وہ بھی اس میں داخل ہیں ان کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوگا۔ لہٰذا اے لوگو! عبرت حاصل کرو، فلمیں دیکھنے اور گانا وغیرہ سننے کی بجائے تلاوت کلام پاک ، درود و سلام ، حمدوں ، نعتوں وغیرہ کو سنیں اور انہیں فروغ دیں ، دوسروں کو بھی اس کی ہدایت کریں اور اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچائیں۔
حجۃ السلام حضرت سیدنا امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ’’ مکاشفۃ القلوب ‘‘ میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔’’ ڈنڈے سے ٹھک ٹھک کرنا بھی ناجائز ہے کیونکہ اسے زندیقوں نے ایجاد کیا تھا تا کہ لوگ قرآن مجید کی تلاوت سے غافل ہو جائیں۔‘‘
حضرت سیدنا علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ’’ ردالمختار ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ ناچنا ، راگ رشک کرنا، تالی بجانا ، گٹار کے تار بجانا، بربط، سارنگی، رباب، بانسری، قانون، جھانجھن ، بگل وغیرہ بجانا مکروہ تحریمی ( حرام ) ہے کیونکہ یہ سب کفار کے شعار ہیں اور دین سے غافل کرنے کا ذریعہ ہیں۔
قرآن مجید کے نزدیک سیٹی اور تالی بجانا بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ طریق مشرکین مکہ نے اپنایا تھا۔
وَمَا کَانَ صَلَاتُھُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُکَآءً وَّ تَصْدِیَۃً فَذُوْقُوا الْعَذَابِ
بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ o (الانفال 35:8)
’’اور کعبہ (مسجد ) کے پاس ان کی نماز نہیں ہوتی مگر سیٹی اور تالی تو اب بدترین عذاب کے مزے چکھو، بدلہ اپنے کفر کا۔‘‘
آج کے بد نصیب مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے کہ اُدھر مسجد میں اذان آ رہی ہوتی ہے اِدھر مسجد کے آس پاس کے گھروں ، دکانوں ، ہو ٹلوں وغیرہ پر گانے بج رہے ہوتے ہیں ۔ اُدھر مسجد میں نماز کا وقت ہوتا ہے،مسجدیں لوگوں کا منہ تک رہی ہوتی ہیں کہ ان میں نماز پڑھنے کیلئے آئیں جبکہ لوگ اِدھر فلمیں دیکھنے اور گانے سننے، ناچ راگ دیکھنے میں مست ہوتے ہیں، بہرے ، گونگے اور اندھے جانور انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی مگر ان کا یہ سودا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ عزوجل اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر ان کی عملی زندگی بتاتی ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اپنے اس دعوے میں ، وہ ہرگز مسلمان نہیں ہیں ۔ اگر یہ لوگ مسلمان ہوتے، اللہ عزوجل اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے کہ ایک دن انہیں اپنے رب کے ہاں جواب دہی کیلئے کے حاضر ہونا ہے اوراپنے کئے ایک ایک عمل کا حساب دیناہے تو کسی برائی کے قریب سے بھی نہ گزرتے مگر انہوں نے تو تمام برائیوں کی جڑ ’’موسیقی ، ڈرامہ و فلم سازی‘‘ کو اپنے سینوں سے لگا رکھا ہے پھر یہ لوگ کیونکر مسلمان ہو سکتے ہیں ۔ مسلمان تو وہ ہیں جو کہیں کوئی بیہودہ بات ، گانا باجا، سنتے ہیں تو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں اس خوف سے کہ کہیں یہ سرکش آواز انہیں اللہ کی یادسے غافل نہ کر دے۔ اس کے برعکس وہ جنہوں نے اپنے آپ کو میوزک سنٹر بنا رکھا ہو، جو دن رات لوگوں کو فحاشی و عریانی ،بے حیائی و بے شرمی، بدکاری و بداخلاقی اور راہ خدا سے دور رکھنے کا درس دے رہے ہوں وہ ان جیسے ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوں اور کسی بیہودہ بات کے سننے پر اپنے کان میں انگلیا ں ڈال لیتے ہوں۔
حضرت سیدنا نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کہیں جا رہا تھا کہ راستے میں مزمار (آلات موسیقی ) بجنے کی آواز آنے لگی تو حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے کانوں انگلیاں ڈال لیں اور کچھ دور جا کر مجھ سے پوچھنے لگے ۔نافع ! اب وہ آواز آ رہی ہے۔ میں نے کہا ’’ نہیں ‘‘ تو اپنے کانوں سے انگلیاں نکال لیں۔ میں نے پوچھا ۔’’ اے ابن عمرؓ!آپ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے؟‘‘ تو فرمایا ’’ہاں‘‘ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا ، راستے میں ایک چرواہا بانسری بجا رہاتھا تو سرکار دوعالم ﷺ نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں او ر چلتے ہوئے مجھ سے بار بار پوچھتے گئے کہ عبداللہ! وہ آواز آ رہی ہے۔ جب میں نے عرض کیا کہ۔’’ حضور ﷺ! اب وہ آواز نہیں آرہی ، تب آپﷺ نے اپنے کانوں سے انگلیاں نکال لیں۔‘‘
یہ ہیں مسلمان ، اور یہ ہے آلات میوزک کا خوف۔آج جنہوں نے اپنے گھروں کو میوزک سنٹر بنا رکھا ہے اور وہاں دن رات آلات میوزک بج رہے ہیں کیا وہ اس نبی ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جنہوں نے یہ آواز سننا گوارہ نہ کی اور اپنے مبارک کانوں میں انگلیاں ڈال لیں؟
ہرگز نہیں ، ان کا یہ دعویٰ بے معنی ، بے بنیاد اور بے دلیل ہے ۔ یہ لوگ ہرگز اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺپر ایمان و یقین نہیں رکھتے۔یہ لوگ آج کے دور کے بدترین منافق ہیں، بہرے ، گونگے اور اندھے جانور بلکہ ان سے بھی بد تر۔
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَo
’’بیشک سب جانوروں سے بدتر ہیں اللہ کے نزدیک وہ جو دیدہ دانستہ حق بات سے بہرے گونگے اور (اندھے ) بنتے ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔‘‘
نہ حق سنتے ہیں ، نہ بولتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں ، دل ودماغ ، آنکھ ،کان اور زبان رکھتے ہیں مگر ان سے فاہدہ نہیں اٹھاتے۔
اِسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰھُمْ ذِکْرَاللّٰہِ اُولٰٓءِکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ اَلَآاِنَّ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَo اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘اُولٰٓءِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَo (المجادلہ 19…20:58)
’’شیطان ان پر غالب آگیا اور انہیں اللہ کی یاد بھولا دی۔ یہ لوگ شیطان کی جماعت ہیں اوربیشک شیطان کی جماعت ہی سراسر نقصان میں ہے(جنت کی دائمی نعمتوں سے محروم اور دوزخ کے ابدی عذاب میں گرفتار)، بیشک وہ لوگ جو اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسولﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے بڑھ کر ذلیلوں میں سے ہیں۔‘‘
خواب میں حضور ﷺ کا بیان اور موسیقی ، ڈرامہ و فلم سازی
الحمد للہ! خداوند قدوس جلا مجدہ الکریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے، عرب ہا، کھرب ہا شکر ہے کہ اس نے مجھے اپنے پیارے حبیب، تاجدار عرب و عجم ، رسولِ معظم ومکرم حضور نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ ﷺ کی زیارت سے نوازا، آپ ﷺ کے دیدار کا شرف بخشا۔
زیارت پاک کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ میں اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہوں ۔ ہم دونوں آقا و غلام حضور نبی کریم ﷺ کی امت مرحومہ کے متعلق باتیں کر رہے ہیں کہ اچانک ہمارے پاس ایک صوفی برزگ آیا اور کہا۔’’ آپ دونوں کو دربار رسالت ، خاتم النبوت ﷺ میں بلایا گیا ہے اور میں آپ کو لے جانے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔‘‘
ہم بہت خوش ہوئے اپنی قسمت پر ناز کیا فوراً اُٹھے اور اس صوفی بزرگ کے ساتھ چل دئیے اور فوراً دربار رسالت ، خاتم النبوت ﷺ میں پہنچ گئے کیا دیکھا کہ وہاں پر ایک بہت بڑی محفل جمی ہے اور حضور نبی کریم ﷺ اس عظیم محفل کی صدارت فرمارہے ہیں ۔ یہ محفل اتنی بڑی تھی کہ جہاں تک نظر جاتی تھی آدمی ہی آدمی دکھائی دیتے تھے۔سٹیج کی طرف جانے والے راستے کے دونوں جانب چھوٹے چھوٹے بچے قطاریں بنائے کھڑے تھے ، ان بچوں کے ہاتھوں میں پرچم تھے ( بعض بچوں کے ہاتھوں میں مقدس سر زمین حجاز کے پرچم تھے ، بعض کے ہاتھو ں میں سفید اور اکثر کے ہاتھوں میں وطن عزیز پاکستان کے پرچم تھے لیکن ان میں ایک خاص بات یہ تھی کہ ان پر چاند ستارا کے اوپر کلمہ طیب ’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہِ مُحَمْدُ رَّسُوْلَ اللّٰہِ ‘‘ سفید الفاظ میں کندہ تھا)
جب ہم دربار رسالت ماٰبﷺکے قریب پہنچے تو میرے پیرو مرشد ، شیخ کامل مدظلہ نے مجھ سے فرمایا۔ ’’ حضور سید عالم ﷺ سے اپنا حال بیان کرو۔‘‘
(دراصل اس روز میرے سینے میں انتہائی شدید قسم کا درد اور تیز بخار تھا جو تقریبا آٹھ روز سے جاری تھا ، دوسرا اس وقت افغان وار جاری تھی اس لیے ملت اسلامیہ کی سلامتی و بقاء کا غم بھی دل میں تھا) میں آگے بڑھا حضور سید عالم ﷺ کے مقدس قدموں کو بوسہ دیا اور پھر کھڑے ہو کر، ہاتھ باندھ کر عرض کیا

یا رَسُوْلَ اللَّہِ اُنْظُرْ حَالَنَا
اِنَّنِیْ فِیْ بَحْرِ غَمٍ مُغْرَقٌ

یا حَبِیبَ اللّٰہِ اِسْمَعْ قَالَنَا
خُذْیدِّیْ سَھْلَّنَا اَشْکَالَنَا

تَقَبَلَّنِیْ وَلاَ تَرَدْوُ سَوَالِی
اَغْثٰنِیْ سِیَّدِیْ اُنْظُرْ بِحَالِیْ

(یعنی اے اللہ کے پیارے رسول ﷺ! ہمارے حال پر نظر فرمائیے۔ اے اللہ کے پیارے حبیبﷺ!ہماری فریاد سن لیجیے۔ہم غموں اور دکھوں کے گہرے سمندر میں غرق ہیں ۔ ہمارا ہاتھ پکڑئیے اور ہماری مشکل آسان فرمائیے۔ ہماری مدد فرمائیے اور ہمارا سوال رد نہ کیجیے۔ اے ہمارے آقا ﷺ! ہماری فریاد سن لیجیے اور ہمارے حال پر نظر فرمائیے)۔
آپﷺ مسکرا دئیے او ر میرا ہاتھ پکڑ لیا، پھر آپ ﷺ نے تین بار میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا۔ (جب پہلی مرتبہ ہاتھ مبارک پھیرا گیا تو میرا سینے کا درد اور بخار جاتا رہا، جب دوسری مرتبہ ہاتھ مبارک لگا تو میں نے ہاتھ میں قلم اور علم و شعور کے ابواب کھلتے دیکھے اور لکھنے کی شوق پیدا ہوا، جب تیسری مرتبہ ہاتھ مبارک لگا تو جو دل میں امت کا درداٹکیلیاں لے رہا تھا وہ ایک جنون بن کے ابھرا اور دل پر نقش ہو گیااور حضور کی امت کیلئے مر مٹنے کا جذبہ پیدا ہوا)۔ پھر اشارہ ملا کہ حضور ﷺ کے سامنے بیٹھ جاؤ۔ ہم بیٹھے تو آقا کریم ﷺ نے واعظ شروع فرمایا۔اپنی امت مرحومہ کے کرتوت اور حالات بیان فرمائے۔ امت مسلمہ کی مشکلات، مسائل،بدامنی و انتشار اوران برائیوں کا ذکر فرمایا جو ہم میں جنم لے چکی ہیں اور مزید لے رہی ہیں۔آپ ﷺ ملت اسلامیہ سے متعلق ایسی ایسی باتوں کا ذکر فرما رہے تھے کہ جن کی وجہ سے آپ ﷺ کی مبارک آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے، پوری محفل سے رونے کی دردناک آوازیں آ رہی تھیں ۔ ہم نے تو اپنے کرتوت آپ ﷺ کی مبارک زبان اقدس سے سن کر رو روکر اپنا حال بگاڑ لیاتھا۔ جب آپ ﷺ نے یہ نہایت دکھی اور دل کو ہلا دینے والے الفاظ بیان فرمائے تو پوری محفل میں آنسوؤں، آہوں اور سسکیوں کا سیلاب امنڈ اٹھا۔ فرمایا
’’ میں نے کبھی یہ خیال بھی نہیں کیا تھا کہ میری امت کاکوئی فرد جہنم میں جائے گالیکن آج کی امت مسلمہ پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے جہنم واجب ہو چکی ہے۔‘‘ پھر فرمایا
’’ امت کو اس مقام تک پہنچانے میں ،امّہ کو جہنم کی دہلیز پر لاکھڑا کرنے میں سب سے اہم کردار تمہارے اس ذلیل ترین طبقے نے ادا کیا ہے جنہیں تم نے معاشرہ میں عزت دے رکھی ہے جنہیں تم اداکار ، فنکار، اور موسیقار وغیرہ کہہ کر پکارتے ہو، جنہیں تم نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمتوں ( الیکڑونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا) کی زینت بنا رکھا ہے،جودن بدن معاشرہ میں فحاشی، بدکاری ، بداخلاقی، بے حیائی و بے پردگی کوفروغ دے رہے ہیں لیکن کوئی ان کو روکنے والا نہیں۔ تمہارے میڈیا، موسیقی ،ڈرامہ و فلم سازی نے پوری مسلم امہ کو دوزخ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔‘‘
آپ ﷺ نے ان لعنتی اداکاروں ،فنکاروں، موسیقاروں وغیرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔
’’یہ سب جہنمی لوگ ہیں ، یہ شیطان کے بھائی ہیں،یہ سب جہنم کی آگ میں جلنے والے ہیں، ان کا آخرت میں نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔ یہ ظالم اللہ عزوجل کی آیتوں سے شرک کرتے ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں ’’ میری یاد میں دلوں کا چین ہے، میری یاد سے دل سکون پاتے ہیں‘‘ مگر یہ ظالم لوگ کہتے ہیں موسیقی روح کی غذا ہے اس سے دل سکون پاتے ہیں۔ یہ لوگ غضب ناک عذاب کی طرف لوٹیں گے۔ تم لوگوں نے اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی مقرر کردہ تمام حدود کو توڑ دیا ہے، تم لوگ باتوں باتوں میں ہزاروں گالیاں بکتے ہو،جھوٹ بولتے ہو،غبتیں کرتے ہو ، دھوکہ ، فریب اور فراڈ تو تمہاری رگوں میں بس گیا ہے، جو ہم نے تم کو ایک دوسرے سے ملنے کے آداب بتائے انہیں تم نے کئی باتوں میں بدل ڈالا، اللہ کے گھروں سے اقتدار چھین کر فرسودہ عدالتوں کو دے دیا، تمہارے اہل علم، دانشورحضرات بھی حق کی ترغیب نہیں دیتے، معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے،سرکاری سطح پر بھی ان کو داد دی جاتی ہے، ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جنہوں نے پوری مسلم امہ کو اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی نظروں سے گرا کر جہنم میں دھکیل دیا ہے،حالانکہ تمہارے سمجھ دار طبقے کو چاہیے تھا کہ لوگوں کو سمجھاتے ، برے کاموں سے منع کرتے، معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے، لوگوں میں شعور پیدا کرتے، تمہار ے اجتماعوں میں ، تمہاری محافل میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کے رحم و کرم کا ذکرتو ہوتا ہے لیکن اللہ جلا شانہ سبحانہ و تعالیٰ کے جبار و قہار ہونے اور لطیف الخبیر ( یعنی انتہائی باریک بین خبردار) ہونے کا ذکر نہیں ہوتا۔ تمہارا کوئی اجتماع ، کوئی مظاہر ہ ایسا نہیں جو کسی معاشرتی برائی کے خلاف کیاگیا ہو۔ اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی رحمت و شفقت تدہی تمہار ے کام آئے گی جب تمہارے اعمال اچھے ہوں گے ، تمہاری نیت اور تمہارا اخلاق اچھا ہو گا۔
پھر آپ ﷺ نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
’’بھلا تم خو د ہی بتاؤ کہ اس قوم کا آخرت میں کیا حشر ہوگا جس نے شیطانوں کو اپنا پیشوا بنا لیا ہو، انہیں معاشرہ میں عزت دے رکھی ہو اور اللہ رب العزت کی عطا کردہ حیرت انگیز نعمتوں کو صرف ان کیلئے وقف کر دیا ہو، تاکہ انہیں معاشرہ میں برائیاں پھیلانے میں آسانی ہو؟
آپ ﷺ نے پھر ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
’’ وہ ملک جو ہم نے تم کو اسلام کے نام پر عطا کیا تم ابھی تک اس میں اسلامی نظام حیات نہ لا سکے پھر جب تمہاری سلامتی کو خطرہ پہنچا تو ہم نے تمہاری مدد کی اور تمہیں اسلام اوراہل اسلام کے دفاع کیلئے ایک طاقت دی تو پھر تم انہی کے تابع ہوگئے جن کے مقابلہ میں تمہیں یہ قوت بخشی تھی، مومن کبھی باطل کے آگے جھکنے والا نہیں ہوتا، مومن اپنی جان تو دے دیتا ہے لیکن اپنے مذہب پر آنچ نہیں آنے دیتا جبکہ تم نے اپنے ہی خلاف جنگ میں باطل کاساتھ دے کر اسلام کوبدنام کرایا، لاکھوں مسلمانوں اور مسجدوں کو ناحق شہید کرایا، اس کا وبال تم ہی پر آئے گاکیونکہ تمہارے پاس اسلام کے دفاع کیلئے ایک طاقت موجود تھی اور تمہاری طاقت بھی اللہ عزوجل کی مدد اور جذبہ ایمانی و شہادت کی بدولت ان سے زیادہ تھی۔ اگر تم ان ظالموں کے خلاف ڈٹ جاتے اور آپس میں اتحاد کر لیتے توان میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ تمہار ی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ جاتے اور جو کچھ ان ظالموں کے ساتھ ہوا (یعنی نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا حادثہ)وہ انہی کے اپنوں کا کرا دھراتھا۔ یہ سب فسادی یہود و نصاریٰ و ہنوداسلام کے بدترین دشمن ہیں ، یہ دنیا سے اسلام کا نشاں مٹا دینا چاہتے ہیں۔یہ خود اسلام اور اہل اسلام کو نقصان پہنچانے کیلئے سازشیں کرتے ہیں اور فساد رچاتے ہیں اور اس فساد ہی کی بدولت پوری مسلم امہ پر حکمرانی چاہتے ہیں اور اب یہ تمہاری اپنی سلامتی کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔‘‘
پھر فرمایا۔ ’’جس قوت سے تم اسلام کا دفاع نہ کرسکے اسی قوت کے غرور میں آکر تم نے پاکستان کو اسلام قلعہ تصور کر لیا، کیا اسلام کا قلعہ ایسا ہونا چاہیے جو باطل کے آگے جھک جائے اور باطل سے مدد مانگے ؟ کیا اسلام کا قلعہ ایسا ہونا چاہیے جس میں فحاشی ہو ، بدکاری ہو، بداخلاقی ہو، بدامنی و انتشار ہو؟ کیا اسلام کا قلعہ ایسا ہونا چاہیے جس میں شیطانی لوگوں کو عزت دی گئی ہو، جگہ جگہ ان کی تصویریں لگی ہوں اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمتوں کو صرف ان کیلئے وقف کر دیا گیا ہو، تاکہ لوگوں کو گمراہ کریں ؟کیا اسلام کا قلعہ ایسا ہونا چاہیے جس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو پس پشت پھینک کر دھوکہ بازی ، فراڈ ، فریب اور منکران اسلام کی تعلیم دی جاتی ہو؟ کیا ہم نے تم کو زمین و آسمان کا علم اور ایک مکمل ضابطہ حیات نہیں دیا؟
اگر تم نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ تصور کر ہی لیا ہے تو اسے واقعی صحیح معنوں میں اسلام کا ایک عظیم ، نڈر اور مضبوط قلعہ بناؤ۔اس وقت تمہارے پاس کامیابی کا ایک ہی راستہ معاشرہ کے خلاف جہاد اور عالم اسلام کے باہمی تعاون و اتحاد کی صورت میں ہے۔ تمام مسلمان اور اسلامی ممالک آپس میں اتحاد قائم کریں ، باہمی تعاون، اخوت ، ہمدردی و مساوات کو فروغ دیں ، اپنے آپ کی اصلاح کریں اور پھر سب کے سب مل کر ایک جسم ، ایک مضبوط دیوار کی مانند ہو جائیں تو پھر کسی کو تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی ہمت نہیں ہو گی ۔ ہم ( اللہ عزوجل اور اس کا رسولﷺ) اس بات کے منتظر ہیں کہ کب مسلمان راہ راست پر آئیں ، کب ہماری طرف متوجہ ہوں اور ہمارے بتائے گئے سیدھے راستے پر چلیں تاکہ ان پر اللہ کریم کی مدد، تائید و نصرت نازل ہو اور یہ پوری دنیا پر غلبہ پائیں۔‘‘
آخر میں حضور ﷺ نے فرمایا۔’’ میری دعائیں اور نیک تمنائیں تمہارے ساتھ ہیں ، ہمت کرو معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز اٹھاؤ اور امت کے آپس میں اتحاد کیلئے جدوجہدکرو ۔پھر آپ ﷺ نے یہ الفاظ تین مرتبہ دہرائے۔ فلاح کا راستہ یہی ہے، فلاح کا راستہ یہی ہے، فلاح کا راستہ یہی ہے ( یعنی معاشرتی برائیوں کے خلاف جہاد اور امت کا اتحاد)۔ سب کے سب مل کر اللہ کے دین کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو، اپنے تمام معاملات میں اللہ عزوجل ہی کواپنا کارساز بناؤ اور خالصتاً اسی سے مدد مانگو بیشک اللہ کیا ہی اچھا کارساز ہے اور کیا ہی اچھا مدد گار ۔‘‘
۔۔۔۔۔

اب تیرا دور بھی آنے کو ہے اے فقر غیور
کھا گئی روحِ فرنگی کو ہوائے زر و سیم

اُٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

یقینااب اللہ عزوجل اوراس کے پیارے رسول ﷺ کی مدد آن پہنچی ہے، اب ہمیں ہمت کرنا ہو گی ، سب سے پہلے اپنے آپ کی اصلاح کرتے ہوئے معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی ، معاشرہ کو ہر قسم کی تمام برائیوں اور بد اخلاقیوں سے پاک کرکے ایک حقیقی اسلامی فلاحی معاشرہ بنانا ہو گا اور اسی میں ہماری فلاح ہے اگر ہم ایسا نہیں کریں گے ،معاشرتی برائیوں کے خلاف جہاد نہیں کریں گے، ان سرکش شیطانوں ( موسیقاروں ، فنکاروں ، ڈرامہ و فلم سازوں وغیرہ ) کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے اور معاشرہ کو ان سے پاک نہیں کریں گے جنہوں نے ہمیں اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی نظروں سے گرا کر ، دین و دنیا اور یوم حساب سے بے نیاز کرکے دوزخ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے تو نہ ہی ہم دنیا میں فلاح پا سکتے ہیں اورنہ ہی آخرت میں ،ہم دنیا میں بھی ذلیل ہوں گے اور آخرت میں بھی ، آخرت میں تو پہلے ہی ہمارے لیے جہنم کا گڑھا تیار ہے اور دنیا میں یونہی ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے اور تباہی و بربادی ہمارا مقدر ٹھہرے گی۔
اس وقت ہمارے پاس راہ یابی کا ایک ہی راستہ معاشرہ کے خلاف جہاد اور عالم اسلام کے باہمی تعاون و اتحاد کی صورت میں ہے۔ اس وقت ہمارے پاس دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کیلئے معاشرہ کے خلاف جہاد اور عالم اسلام کے باہمی تعاون و اتحاد کے سو ا اور کوئی چارہ نہیں۔ ہماری تمام کامیابیوں کا راز اسی جہاد عظیم سے وابستہ ہے اگر ہم اس عظیم جہاد میں کامیاب ہو گئے تو پھر سمجھ لیں کہ ہر میدان میں کامیابی ہماری ہے۔ سب مسلمان مل کر معاشرہ کے خلاف جہاد اور عالم اسلام کو متحد کرنے کا عزم کریں پھر دیکھیں کہ اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کس طرح ہماری مدد کو آتے ہیں ، کس طرح ہمیں دنیا میں کامیابیاں و کامرانیاں حاصل ہوتی ہیں اور کس طرح ہم پوری دنیا پر غالب آتے ہیں۔
ہم اسلام کے نام پر آزاد ہوئے ، ہمارا ماٹو تھا کہ ہم آزاد ہو کر پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے لیکن ہم نے آزاد ہوکر اب تک اسلام کو سوائے بدنامی کے اور کچھ نہیں دیا۔ جو شیطانی کام تھے اور اسلام کے اندر ناجائز و حرام تھے ان کو ہم نے پاکستان کے اندر اسلام میں جائز کر کے دیکھا یا کہ یہ یہ کام بھی اسلام میں جائز ہیں ، ہم نے اسلام کے منہ پر ایک بہت بڑا دھبہ لگایا۔ کیا یہ فحاشی ، عریانی ، بدکاری و بد اخلاقی ، بے حیائی و بے پردگی ، موسیقی ، ڈرامہ و فلم سازی ، ڈاکہ زنی ، غنڈہ گردی ، دھوکہ بازی، فراڈ،فریب، سود خوری، رشوت ستانی، فرقہ بازی وغیرہ اسلام میں جائز ہیں؟ کرپشن، بد عنوانی کا کونسا طریقہ ہے جو ہم نے اس ملک میں ایجاد نہیں کیا۔ ہم نے پاکستان کے اندر ، ایک اسلامی معاشرہ میں اور مسلمان ہوتے ہوئے ان سب چیزوں کو جائز کر دیا ہے۔ پاکستان کے اندر اللہ عزوجل کے گھر تو کم لیکن شیطان کے گھر زیادہ ہیں، ہمارے ایک محلہ میں ، ایک قصبہ میں صرف ایک مسجد ہے جبکہ ہزاروں شیطان کے گھر (ویڈیو اور آڈیو سنٹر ) ہیں بلکہ اب تو تقریبا ہر گھربلکہ ہر فرد ویڈیو و آڈیو سنٹر بنا ہوا ہے۔ اگر ہمیں یونہی رہنا تھا ، یہی کام کرنے تھے ، یونہی اسلام کو بدنام کرنا تھا، اسلام کے ماتھے پر برائیوں اور بداخلاقیوں کا سہرا لگانا تھا تو ہم ہندؤستان سے کیوں علیحدہ ہوئے یہ کام تو ہم ہندؤستان میں رہ کر بھی کر سکتے تھے۔ اگرہم ہندوستان میں رہ کر یہ کام کرتے تو کم از کم اسلام تو بدنام ہونے سے محفوظ رہتا، جو کچھ ہوتا ہندؤستان (غیر اسلامی ریاست) کی تاریخ کے ماتھے پر لکھا جاتا۔جب تک ہمارے آزاد ہونے کا مقصد پورا نہیں ہوتا ہم کہیں فلاح نہیں پا سکتے اور نہ ہی اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی نظروں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 200 Print Article Print
About the Author: Allah Bakhash Fareedi

Read More Articles by Allah Bakhash Fareedi: 75 Articles with 32756 views »
For more articles & info about Writer, Please visit his own website: www.baidari.com
[email protected]
اللہ بخش فریدی بانی و مدیر بیداری ڈاٹ کام ۔ ہ
.. View More

Reviews & Comments

Language: