آزادکشمیر میں تعلیم کا معاشرتی زوال چہرہ ۔۔۔۔۔اور بوریاں قسط ۳

(Tahir Farooqi, Muzaffarabad)
آزادکشمیر میں تعلیم کا معاشرتی زوال چہرہ ۔۔۔۔۔اور بوریاں

ڈسٹرکٹ تعلیمی بورڈز نے سرکاری تعلیمی اداروں کے پانچویں تا آٹھویں امتحانات کیلئے اسی طرح پابند ہیں جس طرح کشمیر بنک میں سرکاری محکمے زبردستی اکاؤنٹس کھلوانے کے مجبور ہو جاتے ہیں ورنہ کشمیر بینک کا بھی بُرا حال ہے ایسے میں بین الاقوامی قومی تعلیم کیلئے تعاون کرنے والے غیر سرکاری اداروں ‘ تنظیموں پر پابندی کے بعد کیا رہ جاتا ہے ‘ ماسوائے اس کے پورے ملک میں مشروبات و دیگر مصنوعات کا ڈھنڈورہ کر کے نام فروخت کرنے والے اداروں کی طرح تعلیم نام کی فرنچائز کے رنگ میں باامر مجبوری ڈھل کر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا اپنا اپنا رنگ برنگی نصاب ‘کتابوں ‘کاپیوں ‘ یونیفارم شوز ‘ سویٹرز ‘ کوٹ سمیت سب کچھ الگ الگ مرضی کے داموں پر خریدنے پھر طلبہ کو مختلف بین الاقوامی قومی مقامی ایام پروگرامات کھیلوں اور ٹیسٹوں کے نام پر کپڑوں ‘ چیزوں ‘ ٹیسٹوں ‘ گوند ‘ پنسل ‘ اسٹیکرز ‘ پھول نہ جانے کیا کیا لکھ کر فہرستیں تھما دی جاتی ہیں یہ سب کچھ لیکر آؤ ‘ سکول میں رنگوں سے چہروں ‘ ہاتھوں کو رنگ دو سب کچھ بنا کر توڑ دو گھر جا کر پڑھو یا ٹیوشن کا اضافی خرچہ برداشت کرو ‘ بڑے بڑے ناموں والے سیاست کاروں یا آفیسرز کی معیشت کی محافظ فرنچائز کی رنگینیوں نے باقی پرائیویٹ سکولز کی آنکھوں کو بھی چندھا دیا ہے جس کے باعث ان بورڈز کے دبے کو دباؤ اور فیسوں کے ملبوں نے طلبہ کے ذریعے والدین کو بلیک میل کرنے کی ریت چلا دی ہے جیسے پرائیویٹ بنک والے اپنے ملازموں کو اکاؤنٹ کی تعداد بڑھانے موبائل کمپنیاں سم فروخت کرنے اور میڈیا کے کاروباری نمائندوں کو اشتہار لانے پر مجبور کرتے ہیں کام آتا ہے یا نہیں آتا ہے بس نوٹ دکھاؤ موڈ بناؤ چاہے اس کے لیے زلالتوں کی گندگی میں ڈوب جاؤ جس کی کیچڑ سے دو وقت کی دال روٹی پر قناعت کرنے والوں کے علاوہ سب ادارے شعبہ جات بھرے ہوئے ہیں مگر کم از کم تعلیم پر ترس کھایا جائے خصوصاً بچوں کو بیگوں میں کتابیں ‘ کاپیاں بھر کر کھوتے جتنا بوجھ اُٹھوا کر انسان کے بجائے جانور بنانے سے بچایا جائے ‘ تعلیم صرف اور صرف اچھا بُرا کا فرق کرنے کا تصور جگانے کیلئے ہوتی ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے وہ سب مقامی پرائیویٹ تعلیمی ادارے جو پانچ سو ہزار پندرہ سو فیس لیتے ہیں ‘ زلزلے کے بعد بحالی میں ان کا نامساعد حال میں نمایاں کردار ہے تو تعلیم اور روزگار کے حوالے سے حقیقی معنوں میں معاونت ثابت ہو رہے ہیں ان کو بدرنگی بننے سے بچاتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو معاشی کیفیات حالات کو پیش نظر رکھ کر قابل عمل متفقہ ضابطہ و طریقہ کار اختیار کیا جائے ‘ پرائیویٹ سکولز فاؤنڈیشن بننے سے خزانہ سرکار سے کچھ نہیں جائے گا ‘ اس سمیت وہ تمام اقدامات جو بغیر عقل اور خرچے کے محض سادہ سمجھ بوجھ کے ساتھ انتظامی سطح پر اعتماد تعاون کی بنیاد پر سلجھائے جا سکتے ہیں ان کے حل کیلئے نو قلی تیرہ میٹ کا جنجال ختم کیاجائے بلکہ سرکار سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارات کو اپنی ملکیت میں رکھتے ہوئے ان کے طلبہ سمیت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے سپرد کرتے ہوئے بدلے میں تعلیمی معیار کے معاہدے کے تحت ان طلبہ کی فیسوں یونیفارم نصاب کا خرچہ اپنے ذمے لے تو تعلیمی بجٹ کا تنخواہوں مراعات انتظامات پر اربوں کا خرچہ بچ جائے گا ‘ برطانیہ کے اداروں سے معاہدوں اور بڑی بڑی باتوں کابورڈز سمیت نتیجہ صفر برائے صفر ہے افسوس کہ خزانہ سرکاری سے منسلک اونچے منصب ‘ بڑے گریڈوں والے ایک ہی رٹا رٹا یا جملہ اُڑاتے ہیں آزادکشمیرشرح خواندگی میں پورے ملک میں پہلے نمبر پر ہے ‘ کاش یہ بین الاقوامی قومی سرکاری غیر سرکاری اداروں کی رپورٹس پڑھتے رہنے والے ہوتے سفارتکاری میں ایک ایک بات کی ذمہ داری سے جانکاری کرتے ہوئے مضبوط ‘ ٹھوس بنیادوں پر بات کی جاتی ہے یہ تجربہ رکھنے والے بھی رٹا رٹایا جملہ کہہ رہے ہوں پھر کام تمام ہے ۔ سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر نے اس خوفناک سچائی حقیقت کا برملا اظہار کر کے کہ پچاس فیصد ٹیچرز سکولز میں نہیں جاتے ہیں بہت ہمت کی ہے اب حقیقتوں کا ادراک کر کے فرسودہ سوچ اور سلسلوں کو توڑنے کا وقت آ گیا ہے ‘ بلکہ پاکستان بھارت دونوں ملکوں کے ایٹم بم کی برکت سے نام کشمیر گونج رہا ہے اس کے پرامن حل کی شدت محسوس کی جارہی ہے اللہ کرے ایسا ہو جائے مگر یہاں آزادکشمیر والوں کو اس کی پہلے سے تیاری کر لینی چاہیے ورنہ وہاں کا تعلیمی معیار نصاب اور یہاں کا زبانی جمع خرچ بہت بڑا زمین آسمان کا فرق ہے ایسی صورت میں شاید میرا جیسا شخص بھی صفحے کالے نیلے کرنے کے بجائے تھڑے پر کتابیں کاپیاں فروخت کرنے پر مجبور ہو جائے آپ منصب گریڈ والے ایک کمرے سے دوسرے کمرے ایک ضلع سے دوسرے ضلع جانے سے بھاگتے ہیں چلو کشمیر کے حل میں لداخ جموں نہیں ہوتا اس سے تو بچ گئے مگر سری نگر ‘ پلوامہ جانا پڑ گیا تو بڑی رسوائی ہو گی؟

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 170 Print Article Print
About the Author: Tahir Farooqi

Read More Articles by Tahir Farooqi: 186 Articles with 45977 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: