ریما اور راوینہ

(Iftikhar Chaudhry, )

اور اگر نائن الیون ہو چکا ہوتا تو سچ پوچھئے کہ قائد اعظم بھی ہزار بار سوچتے کہ پاکستان بناؤں یا نہ بناؤں متعد د بار تو علامہ اقبال اور چودھری رحمت علی سے میٹینگز کر چکے ہوتے رحمت علی خود پریشان ہوتے کہ نام دوں یا نہ دوں اور اقبال کا خواب جہ نیل کے پانیوں سے تا بخاک کاشغر تو شدید دہشت گردی کے زد میں آ جاتا۔کیوں کہ قبل از نائن الیون کی دنیا اور تھی اور بعد از کی اور۔

اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ویلے سے مسلمانی اختیار ہو گئی تھی ورنہ تازہ واردات ہوتی تو لمیاں پا لیا جاتا کہ جبری مسلمان کیوں ہوئے ہو۔میں چوہان ہوں اور اوپر سے گجر ویسے ہی اوکھے لوگ ہیں ہم۔پرتھوی راج چوہان کی ال سے مسلمان ہونا کوئی سوکھی گل تھی وہ آگ کا دریا بزرگوں نے پار کیا اور اس نبیﷺ کا کلمہ پڑھا جو دو جہانوں کا والی دو جہانوں پر رحمت کرنے والا ہے ورنہ افتخار چودھری تیری جو حالت ہونی تھی کچھ نہ پوچھ جیتے جی مندروں کی ٹلیاں بجانی پڑتیں زندگی میں جل بھون کے جینا تو تیرے نصیب میں تھا ہی مرنے کے بعد سوا من لکڑیاں لا کر چربی ڈال کر جلتا تو پترا تجھے سمجھ آ جاتی۔کیا وقت ہو گا جب بزرگوں نے کلمہ طیبہ پڑھا ہو گا میرے نبی ﷺ نے ویسے ہی نہیں کہا تھا کہ مجھے ہند کی جانب سے خوشبو آ رہی ہے وہ خوشبو اسی وقت آئی ہو گی جب اس دھرتی پر کوئی پہلا مسلمان ہوا ہو گا۔اﷲ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے پہلے بہت پہلے مسلمان کر دیا اس وقت جب اولیاء اﷲ کی برکات سے دل بدلے ورنہ چھ فٹا چودھری افتخار گجر انہی تاریکیوں میں رہتا جس میں انڈیا کے بہت سے لوگ رہ رہے ہیں کتنا کرم ہے مولا ورنہ میں بھی بابری مسجد پر کدال چلاتا اگر گجرات میں ہوتا تو اپنے مت کو نا مننے والوں کی گردنیں مارتا۔اور تو اور مودی کی طرح ایک ایسا حواس باختہ شخص ہوتا جس کو ہمسائے کا لحاظ نہیں اپنے ہم وطن کا پتہ نہیں۔مجھے پورا یقین ہے دنیا کی اس آگ میں جلستا ہوا افتخار گجر مرنے کے بعد کی زندگی میں جل بھون جاتا۔

کیسے فیصلے تھے کیسے لکھا گیا نصیب کہ نہیں جاؤ اس کے دل کو موم کرو اسے مسلمان ہو جانے دو ورنہ میں کیا میرا شوربہ کیا۔رب ذوالجلال تیرا شکریہ کہ قیام پاکستان سے پہلے بہت پہلے تو نے میرے بزرگوں کے ذہن میں ڈال دیا کہ آ سیدھے راتے پر وہ راستہ جن پر چل کر لوگوں پر انعام ہوا سچے بادشاہ نے بدل دیا یہ بڑے کرم کے تھے فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات تھی ورنہ میں کون سا مکے سے آنے والے سید گھرانے کا فرد تھا۔

کیا ساعتیں ہوں گی نہ غم نہ دکھ نہ چنتا کسی نے تحقیقی کمیشن نہیں بنایا ہو گا کہ جاؤ جا کر پوچھو یہ بندہ مسلمان کیسے ہوا۔اس وقت تو اﷲ ا کبر کی صدا بلند ہوتی ہو گی کہ دیکھو وہ مسلمان ہو گئے اﷲ کے پیارے نبی ھضرت محمد ﷺ نے دو عمر نامی اشخاص کے بارے میں دعا کی کہ اﷲ ان میں سے ایک مسلمان کر دے اﷲ نے عمر ابن خطاب کے حصے میں لکھ دیا اور عمر بن ہشام ابو جہل بن گئے۔مولا تیرے صدقے اﷲ تجھ پر واری کہ میرے اجداد کو مسلامن کیا۔گرچہ ایک بے عمل مسلمان مگر تیرے حبیب کے صدقے واری قربان جانے والا مسلمان۔جو تحریک ختم نبوت میں دو بار لڑا جس نے تیرے نبی کے کلمے کا نام بلند کرنے کی تا حیات کوشش کی۔

میں ڈر سا گیا کہ اگر میرے بابا میرے دادا یا پردادا یا پھر ان ک بھی پردادا مسلمان نہ ہوتا تو میں کافر جہنمی ہو کر رہ جاتا۔اور اگر مجھے آج یہ وقت نصیب ہوتا تو مجھ پر کیا گزرتی میرے مسلمان ہونے پر اﷲ اکبر کی آوازیں بلند ہونے کی بجائے کوئی دوسرے ملک کا وزیر ٹویٹ کرتا کہ اسے جبری مسلمان کیا گیا ہے اسے ہائی کمشنر دیکھو کہ اس کی اس تبدیلی کے پیچھے راز کیا ہے کیوں اس نے کلمہ پڑھ لیا ہے اور کیوں اسلام دین اختیار کیا ہے۔کیوں نہ ہوتا کیا کشمیری میں نہیں آئے روز مسلمان مارے جاتے کیا ہولی والے دن مسلمانوں پر قیامت نہیں ڈھائی گئی ۔میرے ساتھ بھی یہی ہوتا اور مجھے بھی قریبی تھانے میں لے جا کر تفتیش کی جاتی کہ سنا سٹھیائے ہوئے شخص اس آخر عمر میں کیا خاک مسلمان ہوئے ہو اور اگر ہوئے ہو تو کیوں اس کے پیچھے کون ہے کیا سازش ہے؟

افسوس صد افسوس یہ وقت بھی آنا تھا کہ کہ دو لڑکیوں کے مسلمان ہونے پر تحقیقاتی ایجیسیاں متحرک ہوئیں۔سندھ میں دو ہندو لڑیوں کے مسلامن ہونے پر پاکستان کے وزیر اعظم کو دنیا کو بتانا پڑا کہ میں تحقیقات کروں گا فواد چودھری کو مجبور ہونا پڑا کہ اقلیتیں محفوظ ہیں۔کہتے ہیں لسے جنے دن رن جنے کنیں دی بھابی۔ہم دنیا کے نقشے پر ایک کمزور ملک ہیں ہمارے حکمرانوں نے ہمیں زلیل و رسوا کر کے رکھ دیا آج معاشی طور پر تگڑے ہوتے تو ہم سے کوئی یہ پوچھ سکتا تھا کہ پاکستان میں سورج مشرق سے کیوں طلوع ہوتا ہے ہم اتنے کمزور ہو گئے کہ دنیا سے یہ بھی نہ کہہ سکے کہ سورج تو مشرق سے آپ کے ملک میں بھی نکلتا ہے۔

عمران خان اکیلا بے چارہ کہاں کہاں صفائیاں دے گا۔اسے علم ہے کہ دنیا اس کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ کہاں غلطی کرتا ہے اور اگر ایک بار کرے تو سہی۔اس پر حملہ ہوا اس نے منہ توڑ جواب تو دیا لیکن پائلٹ کو واپس کیا کہ دنیا یہ نہ کہے کہ پاکستان زیادتی کر رہا ہے۔

زیریں سندھ میں دو ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کیا تو تو ایک آفت مچ گئی انڈیا کو تکلیف ہوئی اس نے واویلا مچا دیا ۔اور پاکستان کے علماء پر الزام دھر دیا کہ انہیں جبری مسلمان کیا گیا ہے۔ہمارے لبرلز اور ایک ایسا طبقہ جو نصف صدی پہلے غیر مسلم قرار دیا گیا ہے یہ لٹھ لے کر دوڑ پڑے کی زیادتی ہو گئی ہے میں بھرچونڈی شریف کے میاں مٹھا کو جانتا ہوں ہماری زمینیں میر پور متھیلو میں ہیں ہمارا ان سے کبھی دوستانہ تعلق نہیں رہا بلکہ میرے تایا کی شہادت میں ان کا نام بھی آیا جو قرانی جرگے پر ختم ہوا لیکن دل میں تلخیاں موجود ہیں ۔ان کے ہاں

یہ دو ہندو لڑکیاں اسلام قبول کرنے آئیں انہوں نے مسلمان لڑکوں سے شادی کی۔اس میں کون سی قیامت توٹ گئی کل جب نرگس نے سنیل دت سے شادی کی تو کون سی قیامت توٹی تھی کئی مسلمان لڑکیاں اسی طرح ہندوؤں سے شادی کر گئیں جو اسلام میں سرا سر حرام ہے لیکن حکومتیں تو نہیں ہلیں۔آج یورپ میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے لوگ تبلیغ کر رہے ہیں وزیر اعظم نیوزی لینڈ کو ایک مسلمان نوجوان نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ہے۔اس پر کوئی آسمان نہیں توٹا۔اس سارے رولے گولے میں دعوت تبلیغ کے کام کو روکنے کی جو بات ہو رہی ہے اس پر کہہ دوں کہ یہ قوم نہیں مانے گی۔رمیش کمار جی آپ محترم ہیں لیکن خیال رکھئے گا کہ پی ٹی آئی پھر بعد میں ہو جائے گی پہلے پھر محمد عربی ﷺ کے جیالے ہوں گے۔کوئی ایسا بل جو تبدیلی مذہب کو روکنے کے لئے اسمبلی میں لایا گیا تو پھر خیر کم اور شر زیادہ ہو گا۔

لا اکراہ فی الدین یہ بلکل صاف شفاف بات ہے اس پر ہم سب ایمان رکھتے ہیں کوئی جبر نہ ہو کوئی زیادتی نہ ہو۔ہم پاکستانی ہیں مجھے رمیش جی یہ بتائے کہ پاکستان میں شدھی اور سنگھٹن جیسی کوئی تحریک ہے۔اس بات پر تو آپ کو شاباش دیتا ہوں کہ آپ نے انڈیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ منہ سنبھال کے رکھے لیکن آپ مہربانی کریں پاکستان کے آئین اور قانون کو چھیڑنے کی کوشش نہ کریں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ہماری حکومت پوری طرح تسلی کرے گی کہ وہ زبردستی تھی یا رضا و رغبت اور پھر اس کے مطابق فیصلہ ہو گا یہی بات فواد چودھری نے کی ہے ان کا کہنا ہے کہ وزارت انسانی حقوق اس معاملے کو دیکھے گی۔

نیٹ پر ایک بوڑھا باپ لوٹ پوٹ ہو رہا ہے لبرلز پوسٹ کر رہے ہیں کہ وہ مظلوم شخص ہے جس کی بچیاں اغواء کر لی گئیں ۔اس بابے کو یہ نہیں معلوم کہ اس ملک میں کتنی عورتیں اپنے بچوں کو چھوڑ کر آشناء کے ساتھ فرار ہو جاتی ہیں۔اس ملک میں مسلمان مسلمان سے بیزار ہے کسے یہ مصیبٹ پڑی ہے کہ وہ کسی کو جبری طور پر مسلمان کرتا پھرے اور تو اور ہمیں اس سے ہی فرصت نہیں کہ مسلمان کو کافر بنانے میں جتے ہوئے ہیں وہ کافر یہ کافر فلاں کافر تو ہم بد نصیبوں کو گہوٹکی کی دو ہندو لڑکیوں کو جبرا دین میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔ہم تو مفتی تقی عثمانی کو قتل کی کوشش کرنے والے مسلمانوں کے گھیرے میں ہیں۔ہم سے یہ امید نہ رکھیں کہ ریما اور راوینہ کو جبری طور پر ڈہرکی لاکر مسلمان کریں گے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 576 Print Article Print
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 381 Articles with 122025 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More

Reviews & Comments

Very very interesting that the writer Iftikhar Chaudhry Sahib wrote that he believes in La Ikra Ha Fe Deen but I think up to majority Muslims only, not for all sects and particularly not for minority sects and most particularly for Ahmadis. Do you agree that we (Ahmadis) are not allowed to practice what is our belief??? But by majority of so called registered and constitutional Muslims we are forced not use Islamic terminologies, like Assalam O Alikum, Kalma Tayyaba, Azan, We can’t say Mosque, We can’t say Azan, we can’t perform Haj, We can’t sacrifice goats, No literature printing, No Tableegh etc. and if any Ahmadi will use above than directly he will be put behind bars with no option even for bail under C-295 blasphemy act.
This is your La Ikra Ha Fe Deen???? You people are hypocrites. In case of these innocent Hindu girls to whom these Muslim boys kidnapped and forced to accept Islam is not the first case these forced marriages and change of religions happened everyday by majority sects and goes under carpet because minorities don’t have rights in Pakistan. No any Ahmadi can get a decent job in Pakistan till he give in writing that he is not Ahmadi but Muslim and moreover he will have to put curses on to whom he believes and this is your La Ikra Ha Fe Deen???
Till 1984 there were our annual gathering in Rabwah and after 1984 there is no permission to hold our annual convention (Reasons is Islam get danger) and terrorist Mullahs are free to do whatever they want, where ever they want and against whom they want and this is your La Ikra Ha Fe Deen??? Just for the record purpose nearly 350 Ahmadis are in Pakistani jails for the punishment to use Islamic terminologies.
Hum Tou Douaa He Kar Saktay Hain Baqi Hum Ap Say Kiseey Achhee Bait Key Tawaqa Naheen Rakhtay Bus Apnay Allah Say Zaroor Duaa Kartay Hain Kay Es Pakistani Qoum Per Reham Farma Ta Yay Quran Kay Ehkamat La Ikra Ha Fe Deen Per Amal Kar Sakain.Ameen
Love for all hatred for none.
By: Sheikh Saeed Ahmed, Calgary-Canada on Apr, 04 2019
Reply Reply
0 Like
CHAUDHRY......... YOU ARE GREAT....!!!
By: MUHAMMAD MUSHTAQ, Rawalpindi on Mar, 30 2019
Reply Reply
0 Like
Language: