اپریل فول اور سوشل میڈیا

(Rohail Akbar, Lahore)

یکم اپریل کو جب میں یہ تحریر لکھ رہا تھا تو اس دن اپریل فول کے نام سے جھوٹ بول کر ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کی جاتی رہی اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جھوٹے پر اﷲ کی لعنت ہوتی ہے مگر ہماری سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا کے دوستوں نے جھوٹ اور سچ کا فرق ہی ختم کردیا ہے ہر ورکر اپنی پارٹی اور قائدین کو سچا ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے اور دوسری پارٹیوں کے انکی نظر میں سبھی غدار ہیں حب الوطنی ،غداری اور کافر کے سرٹیفکیٹ ہر وقت ہماری جیبوں میں موجود ہوتے ہیں جو ہماری نظر میں ناپسندیدہ کردار ہے اسے اسکی اہلیت کے مطابق کوئی نہ کوئی سرٹیفکیٹ جاری کردیتے ہیں اور پھر اپنے اس فیصلے کے دفاع پر ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کردیتے ہیں اگر ہم اس پر تھوڑا سا غورکریں تو آج ہم جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے آپس کے اختلافات بھلا کر عوام کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے ورنہ اسی لڑائی جھگڑے میں ہم نے 72سال گذار دیے اور ترقی کا منہ تک نہیں دیکھا ہماری آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گذار رہی ہے صاف پانی ہمیں میسر نہیں ،صحت کی کوئی سہولت نہیں ہے سرکاری ادارے تباہ ہوچکے ہیں پولیس کے تھانے عقوبت خانے بنے ہوئے ہیں ،جیلیں جرائم کی یونیورسٹیاں بن چکی ہیں اور ہم اتنے بے حس ہیں کہ اپریل فول جیسی واہیات رسموں کو بھر پور مناتے ہیں اپریل فول ہم مسلمانوں کے لیے ایک دردناک حقیقت ہے جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمین پر مسلمانوں کا اتنا خون بہا یا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتے تھیں جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کیساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجدادآئے تھے،قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر پھر بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں انکے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے جہاز آکر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا یا گیامسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چل دیے، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان، خواتین، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندرمیں ابدی نیند سوگئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دیدیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف۔آج بھی عیسائی دنیا اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے مناتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنایا جاتا ہے اس رسم سے نہ صرف ہمارے ان شہدا کی دل آزاری ہوتی ہوگی بلکہ ہم جھوٹ بول کر اﷲ تعالی کی ناراضگی بھی لے رہے ہیں اس لیے ہمیں ایسے فضول کاموں سے بچنا چاہیے جو ہماری روایت کے خلاف ہواجبکہ سوشل میڈیا کا جن جو ہم نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے بے قابوکیا ہوا ہے اسے بھی ہم ایک دوسرے کو باشعور بنانے کے لیے استعمال کریں تو ہم بہتری کی طرف جاسکتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہماری نوجوان نسل جو پاکستانی عوام کی پسماندگی اور ملک کی تاریکیوں پر پریشان ہے وہ ہمیں ان اندھیروں سے نکال سکتی ہے مگر اسکے لیے ضروری ہے کہ ہم آپس کے اختلافات ختم کرکے ایک دوسری کی بھلائی کے لیے کام کریں قیام پاکستان سے لیکر اب تک ہم نے بہت دکھ جھیل لیے بزرگوں کی قربانیاں ہمارے لیے تھیں اور ہماری جدوجہد نئی جنریشن کے لیے ہے اس لیے دوسروں کی رسم ورواج کو چھوڑ کر اسلام کے بہترین سنہری اصولوں پر چل کر ایک دوسرے کا سہارا بنیں ایک دوسرے کا بھلا کریں سب کی بھلائی کا سوچیں اﷲ تعالی ہمار بھلا خود بخود کردینگے یہی ترقی اور خوشحالی کا پہلا زینہ ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 184 Print Article Print
About the Author: rohailakbar

Read More Articles by rohailakbar: 394 Articles with 133507 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: