تعلیم یافتہ عورت اعلیٰ پرورش کی ضمانت

(Faria Afzal, )

عورت اور مرد معاشرے کے اہم ستون ہیں اور معاشرے کی بقا کے لئے دونوں کا کردار بہت اہمیت کے حامل ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے تعلیم لازمی ہے۔تعلیم ایک زیور ہے۔ تعلیم انسان کو حیوانیت سے نکال کر اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرتی ہیں۔ ہمارے مذہب میں تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا"جو شخص علم کے حصول کے لئے کسی راہ کا مسافر ہوا اللہ تعالی اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردیتے ہیں۔اسلام نے عورت کو معاشرے میں عزت کا مقام دیا ہے اور اس کے ساتھ عورتوں کی دینی و دنیاوی تعلیمکے حصول پر زور دیا گیا ہے -

اس کے باوجود ہمارے اپنے ملک میں آج بھی کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پر یہ روایات دیکھنے کو ملتی ہیں کہ عورت کا تعلیم حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور اسے تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جبکہ تعلیم تو ذہن کے بند دروازوں کو کھولنے کا اہم ذریعہ ہے اور انسان کو صحیح اور غلط کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ لڑکی کو تعلیم کیوں دلوائی، لڑکی پر پیسہ خرچ کیوں کیا لڑکیاں صرف باورچی خانے کے کاموں کے لئے ہی بنی ہیں اور انہیں آگے جاکر یہی سنبھالنا ہیں۔ وہی لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہی لڑکی آگے جاکر کسی کی نسل کو آگے بڑھاتی ہے اور اپنی گود میں نسلوں کو پروان چڑھاتی ہے۔ اس لیے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ عورتیں ہی نسلوں کو آگے سنوارتی ہیں اور یہی اپنے بچوں کی پرورش کی ذمہ دار ہوتی ہیں اگر انہیں ہی تعلیم حاصل کرنے سے روکا جائے گا تو آنے والا دور بھی جاھل ہوگا۔اب جس نے نئی نسل کو قابل بنانا ہے کہ وہ آگے چل کر اس معاشرے کو سنبھال سکے جب وہ خود کسی قابل ہوگی تو ہی اس معاشرے کی مضبوط بنیاد رکھ پائے گی۔ سب سے بہترین درسگاہ ماں کی گود ہے۔ اگر عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے دیا جائے گا تو اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ انہیں اپنی آنے والی زندگیوں میں ہر چھوٹے مسائل کے لئے اپنے مردوں کو پریشان کرنے کی ضرورت نہ ہوگی جب وہ خود با شعود ہوگی تو اپنے گھر کو بھی باآسانی سنبھال سکیں گی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ایک مرد کی تعلیم صرف اسے فائدہ دیتی ہے جبکہ ایک عورت کی تعلیم اس کے اپنے ساتھ ساتھ پورے خاندان کو فائدہ دیتی ہے۔ عورتوں کی تعلیم کے بغیر ایک اچھے معاشرے کا تصور کرنا ناممکن ہے۔

ہمارے ہاں تو عورتوں کی بڑی تعداد بنیادی تعلیم تک سے محروم ہے۔ دنیاوی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے انہیں دینی تعلیم حاصل کرنے سے بھی روکا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں لڑکیوں اور خواتین کے لیے اسکولوں کی کمی کے علاوہ اعلی تعلیم کے مواقع بھی کم ہیں۔ ایسی سماجی اقدار جو خواتین کو آگے بڑھنے سے روک تے ہیں انہیں بدلنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم حاصل کرنے سے عورت کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور اسے خود پر بھروسہ ہوتا ہے۔ انیسویں صدی کے شروع تک،عورتیں اور بچیاں صرف گھریلو غیر رسمی تعلیم تک محدود تھی مگر اب معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آئی ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی بچیوں کی تعلیم پر بھی توجہ دے رہے ہیں جو اس معاشرے کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 410 Print Article Print
About the Author: Faria Afzal
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: