توہین مذہب پر سزا کا اختیار

(Mufti Muhammad Asghar, Faisalabad)

کسی بھی ریاست کے قیام کی پہلی اور بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ریاست اپنے اندر رہنے والے تمام لوگوں کے لئے ایک ضابطہ اخلاق تیار کرے اور سب کو اس کا پابند کرے اورتمام افراد واقوام کو ایک اجتماعی نظم اور قومی دہارے میں لائے اوران کے آپس کے معاملات کو حل کرنے کے لئے قانون سازی کرے, ان کے درمیان عدل وانصاف کے قیام کو یقینی بنائے ،ظلم وزیادتی کا خاتمہ کرے اور ان کے دینی ودنیاوی مذہبی ،سماجی معاشرتی اور سیاسی تنازعات کے تصفیے کے لئے بااختیار ادارے قائم کرےاور ان اداروں سے عدل وانصاف کے مطابق فیصلے صادر ہوں ۔

اسلامی ریاست میں یہ تمام اصول مزید اضافوں اورخوبیوں کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں ،اس تناظر میں دیکھا جائے تو اسلامی ریاست کی یہ ذمداری ہےکہ وہ اپنے اندر رہنے والے تمام لوگوں کوبرابر کے شہری حقوق عطاء کرے ،تمام افراد واقوام کی ذمداریوں کا تعین کرے ،ان کے حقوق کا تعین کرے اور ان حقوق کی ادائیگیوں سے عہدہ براہونے کے لئے ایک دوسرے کوپابند کرے ۔

اسلامی ریاست کی یہ بھی ذمداری ہےکہ وہ لوگوں کو اسلامی احکام پر عمل پیرا ہونےکے لئے پابند کرے ،منکرات اور جرائم کی روک تھام کے لئے قوانین وضع کرے اور ان قوانین پر عمل کروانےکے لئے موثر عملی اقدامات اٹھائے اور خلاف ورزی کی صورت میں جرائم پر سزاؤں کا نفاذ بھی کرے تاکہ عدل وانصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں اور ظلم وزیادتی کا خاتمہ ہو ۔

اسلامی شریعت میں دوقسم کےجرائم کے احکام تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں ،کچھ جرائم تووہ ہیں جن کی سزائیں شریعت اسلامیہ میں مقررشدہ ہیں جن کو حدود کہاجاتاہے ،کچھ جرائم ایسے ہیں جوحدود کے دائرے سے باہر ہیں جن کو تعزیرات کہاجاتاہے ،لیکن ان دونوں قسم کے جرائم کے مرتکبین کو سزا ئیں دینا اسلامی ریاست کی ذمداری ہے، ہرفرد بشرکو اس کا اختیار نہیں کہ وہ کسی پر ان سزاؤں کا اجراء کرے ،معاشرتی جرائم کا ارتکاب کوئی بھی کرے لیکن سزا دینے کا اختیار صرف اور صرف اسلامی ریاست کو حاصل ہے یا ریاستی اداروں کو حاصل ہے ۔فقہاء کرام کے مابین اس مسئلہ میں قریب قریب اتفاق پایا جاتاہےکہ حدود وتعزیرات کا نفاذ ریاستی اداروں کی ذمداریوں میں شامل ہے ،عام افراد کو اس کااختیار نہیں دیا جاسکتا ۔توہین رسالت کا جرم بھی ان جرائم میں شامل ہے جس کے ارتکاب پر مجربین کو ریاستی ادارے سزائیں جاری کرسکتے ہیں، کیوں کہ توہین رسالت کی سزا بطورشرعی حد کے بھی دی جاتی ہے جب کہ مجرم اس فعل سے قبل مسلمان ہو اور بطور تعزیر کے بھی یہ سزا دی جاتی ہے جب کہ مجرم ارتکاب جرم سے پہلے کا فر ہو اورحدود وتعزیرات دونوں قسم کی سزائیں دینا ریاستی ادارو ں کی ذمداریوں میں شامل ہے ،اس لئے توہین رسالت کے ارتکاب پر مجرم کو سزا جاری کرنا یہ بھی ریاست کی ذمداری بلکہ ریاست کا حق ہے ۔فقہاء کرامنے اس بات کی تصریح کی ہے کہ حدود وقصاص کا استیفاء حکمران کا حق ہے اور حکمران ہی حدود وتعزیرات کی سزائیں نافذ کرسکتے ہیں ۔

چنانچہ علامہ سرخسی ؒالمبسوط میں لکھتے ہیں :
,,حد كا استیفاء امام کا کام ہے لہذا کوئی اور امام کے سوا حدود نافذ نہیں کرسکتا ،،
امام ابو بكر جصاص نے بھی یہی بات بیان فرمائی ہےکہ حدود وتعزیرات کو نافذ کرنے کاحکم اور اختیار حکمرانوں کو ہے نہ کہ عام افراد کو ۔وہ لکھتے ہیں ۔

,,اہل علم میں سے جو شخص بھی یہ حکم سنتاہے وہ جان لیتاہے کہ اس حکم کے مخاطب عام لوگ نہیں بلکہ حکمران ہیں گویا یہ حکم دیا گیا ہےکہ حکمران اور حکام چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دیں اور حکمران اور حکام زنا کرنے والوں کو کوڑے لگائیں تمام اہل علم کے اتفاق سے یہ بات ثابت ہے کہ آزاد لوگوں پر حدود کے نفاذ پر حکمرانوں کو ہی مامور کیا گیا ہے ،،

صاحب ہدایہ علامہ علی بن ابی بکر نے حدود سے متعلقہ جرائم کے ارتکاب پر مجرمین کو سزا دینے کا اختیار امام کے لئے تسلیم کرتے ہوئے لکھاہے ۔

امام کے لئے مستحب ہے کہ زنا کے اقرار کرنے والے شخص کو رجوع کی تلقین کرے ،اس سے یوں کہے کہ شاید تونےاسے ہاتھ لگایا ہوگا یا شاید بوسہ لیا ہوگا کیوں کہ حضرت ماعز ؓ کو نبی اقدس ﷺ نے یہی فرمایا تھاکہ ماعز! شاید تونے اس عورت کو ہاتھ لگایا ہوگا یا تونے اس کا بوسہ لیا ہوگا اور مبسوط میں امام کے لئے یہ ہدایت بھی ہےکہ امام اقرار زنا کرنے والے کو رجوع کی تلقین ان الفاظ میں کرے کہ شاید تو نے اس عورت سے نکاح کیا ہوگا یا شبہ کی وجہ سے اس عورت سے مباشرت کی ہوگی؟ اور یہ بات مفہوم میں پہلی کے قریب قریب ہے ،،

اس عبارت میں حد زنا کے نفاذ میں امام کو شرع کی طرف سے مختلف ہدایات دی گئی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ حدود وتعزیرات جاری کرنے کا اختیار صرف حکمرانوں کو یا ریاستی اداروں کو حاصل ہے عام افراد کو حدود وتعزیرات قائم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ۔

حدود وتعزیرات یا توہین رسالت کی سزاکا اختیار حکام اور امام وقت کی بجائے عا م افراد کو دینے کی صورت میں بہت ساری خرابیاں جنم لے سکتی ہیں جو ریاست کے اندرونی نظام کو بلکہ ریاستی ڈھانچے کو ہی تباہ وبرباد کرسکتی ہیں، اس لئے عقل ودرایت کا تقاضہ ہےکہ اس نوعیت کے معاملات میں ہر شخص کوا زخود اقدام کرنے کا حق نہ دیا جائے ورنہ یہ چیز معاشرتی اور قانونی نظام کو درہم برہم کردے گی اور اس کے نتیجے میں ایسی لاقانونیت وجود میں آئے گی کہ انصاف اورظلم کے درمیان عملًا کوئی فرق باقی نہیں رہ جائے گا ۔چنانچہ ملک العلماء علامہ کاسانؒی نے اس عنوان پر تفصیل سے کلام کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ حدود وتعزیرات جاری کرنے کا اختیار ریاست کے حکام کی بجائے عام افراد کو دینے کی صورت میں بہت ساری حکمتیں اور اہم مصلحتیں فوت ہو سکتی ہیں ۔مثلا یہ کہ عدالت عالیہ کو ریاست کی تمام مشینر ی کی معاونت حاصل ہوتی ہے ،تمام انتظامی ادارے ریاست کی پشت پر ہوتے ہیں اس لئے عدالت یا قاضی کو مجرم کی طرف سے معارضہ کرنے یا جوابی کاروائی کرنے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا اوروہ مجرم کی طرف سے بالکل بے فکر ہوکر عدالتی کاروائی کوپورا کر سکتاہے اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچا سکتاہے جب کہ عام افراد کے حق میں یہ سہولیات میسر نہیں ہیں ۔اگر عام افراد کو حدود وتعزیرات نافذ کرنے کا اختیار دیدیا جائے تو اس کا سو فیصد امکان موجود ہے کہ مجرم سزا نافذ کرنے والے کو جانی یا مالی نقصان پہنچادے یا سزا کے نفاذ میں مزاحمت کرے اور یہ خدشہ بھی موجود ہےکہ سزا نافذ کرنے والا مجرم سے جانبداری کا مظاہرہ کرے او ر مداہنت سے کام لیکر مجرم کو سزا سے بری کردے ، جب کہ یہ چیز حکام اور قاضی کے حق میں موجود نہیں کیوں کہ عام طورپر جانبداری یا مداہنت کے اسباب قاضی یا امام کے حق میں کم پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ عموما ًحق وانصاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی فیصلے جاری کرتے ہیں، مزید برآں قانون ِشریعت کی رو سے عدالتی کاروائی کے لئے اور بھی بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے مثلا مجرم کو سزا دینے سے قبل اس کے جرم کی حقیقت تک پہنچنا ،اس کو پورا پورا صفائی کا موقع دینا ،شہادت کی بنیاد پر ہونے والے فیصلوں میں گواہی سننا ،اور گواہوں کے سچ اور جھوٹ کو پرکھنا ۔جھوٹی گواہی دینے کی صورت میں گواہوں کو سزا دینا ،شہادت سے رجوع کی صورت میں یا حدود میں شکوک وشبہات پیدا ہونےکی صورت میں مجرم کو فائدہ پہنچانا اور اس طرح کے دیگر بہت سارے معاملات ہوتے ہیں جن کو ایک بااختیار عدالت ہی سمجھ سکتی ہے ،عام افراد کی سمجھ سے یہ چیزیں ماورا ہوتی ہیں ، اس لئے بہت سی حکمتوں اور اہم مصالح کے پیش نظر حدود وتعزیرات قائم کرنے کا اختیار ریاست یا ریاست کے نمائندے قاضی یا امام کو دیا گیا ہے عام افراد کو نہیں ۔
حدود وتعزیرات سے متعلق فیصلوں میں نبی اقدس ﷺ نے حکمتوں اور مصلحتوں کا لحاظ رکھا ہے اس لئے ریاست کے نمائندوں کو بھی اس کا لحاظ رکھنا چاہیے مثلا حد زنا کے ثبوت کے لئے جب چار گواہوں کی شہادت کا حکم نازل ہواتوبعض صحابہ کو اس پر اعتراض ہوا ،نبی اقدس ﷺ نے حکمت وبصیرت سے ان حضرات کی تسلی اور تشفی فرمائی، امام بخاری ؒ نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے ایک روایت ذکر کی ہے جس میں آپ نے اس طرح کی حکمت کو واضح فرمایا :
,,حضرت مغيره ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حد زنا ثابت کرنے کے لئے چار گواہوں کی گواہی کا قانون نازل ہواتو حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے کہاکہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھوں گا تو سیدھاتلوار کے وار کرکے اس کا کام تمام کروں گا یہ تبصرہ نبی اقدس ﷺ تک پہچا تو آپ ﷺ نے فرمایا :تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتےہو، اللہ کی قسم ! میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے، اس نے غیرت ہی کی وجہ سے بےحیائی کے کھلے اور چھپے کاموں کو حرام کیا ہے، لیکن بات یہ ہےکہ اللہ سے بڑھ کرکسی کو یہ بات پسند نہیں کہ مجرم کوصفائی پیش کرنے کاموقع دیا جائے ،،

اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہواکہ حدود کے فیصلےذاتی پسند ونا پسند اور غیرت وعدم غیرت کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے دیے ہوئے قانون کےمطابق ہوتے ہیں اور قانون الہی کی زیادہ پاسداری ریاست کے نمائندے قاضی یا امام ہی کرسکتے ہیں عام افراد سے اس کی توقع نہیں ،وہ تو ذاتی پسند وناپسند کی بنیاد پر ہی فیصلے کریں گے اور یہ بات حدود اللہ کے نفاذ کے خلاف ہے ۔اس حدیث کی شرح کرے ہوئے حافظ ابن حجر عسقلانی امام قرطبی کے حوالے سے یہی بات نقل کرتے ہیں :
نبی اقدس ﷺ نے یہ فرمانے کے بعد کہ اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں ، یہ بات فرمائی کہ مجرم کو صفائی پیش کرنے موقع دینا بھی اللہ سے بڑھ کر کسی کو پسند نہیں ۔اس کا مقصد یہ تھاکہ سعد کو تنبیہ کی جائے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست نہیں اور انہیں اس شخص کو قتل کرنے سے روکا جائے جسے وہ اپنی بیوی کے پاس موجود پائیں ،گویا کہ آپ نے یہ فرمایا کہ جب اللہ تعالی تم سے زیادہ غیرت مند ہونے کے باوجود مجرم کو دفاع کا موقع دینا پسند کرتے ہیں اور اتمام حجت کے بغیر مواخذہ نہیں کرتے تو تم اس حالت میں کیوں کر قتل کا اقدام کرسکتے ہو،،

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مکہ میں جب مسلمانوں کے پاس اقتدار اور حکومت نہیں تھی، تو قبائلی رسم ورواج کے مطابق وہاں ہر شخص کو معاشرتی لڑائی جھگڑوں میں اپنا بدلہ خود لینے کی اجازت تھی، لیکن ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت قائم ہوگئی اور اسلامی ریاست وجود میں آگئی توپھر انہیں اپنے تنازعات میں از خود بدلہ لینے اور انتقام لینے سے روک دیا گیا اور انہیں ریاست کے حکام سے رجوع کرنے کا پابند کیا گیا ۔اور جو شخص حکمران یا امام کے پاس جائے بغیر اپنا انتقام خود ہی لے گاوہ گناہ گار اور حد سے تجاوز کرنے والا ہے ، اس نے جاہلیت کی حمیت پر عمل کیاہے لیکن اللہ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوا ،،۔

حضرت عبد اللہ بن عباس کے اثر سے واضح ہواکہ حدود وتعزیرات کے سلسلہ میں از خود کوئی اقدام کرنے کی بجائے حکمران یا امام سے رجوع کیا جائے اللہ کا فیصلہ اور اس کے نبی کا فیصلہ یہی ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے نبی کے فیصلوں کو نظر انداز کرکے از خود کوئی کاروائی کرتاہے ،تو وہ گناہ گار اور حد سے تجاوز کرنے والا ہے ۔

امام ابن شہاب زہری سے پوچھا گیا کہ اگر کسی آدمی کو اپنی بھائی کے قاتل پر قدرت حاصل ہوجائے اور اسے خوف لاحق ہوکہ قاضی یا حکمران تک پہنچے سے پہلے وہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا تو کیا اسے خود ہی قتل کردینے سے وہ اللہ تعالی کے ہاں گناہ گا ر شمار ہوگا یا نہیں ؟ امام زہری نے جواب دیا کہ یہ سنت چلی آرہی ہےکہ امام یا قاضی کے علاوہ کوئی شخص از خود کسی کی جان لینے کا اقدام نہ کرے ۔

امام بیہقی نے فقہاء مدینہ کا موقف بھی یہی بیان کیاہے کہ وہ امام کے بغیر حدود سے متعلقہ سزاؤں کو نافذ کرنے کے قائل نہیں تھے ۔ابن ابی الزناد اپنے باپ سے فقہاء مدینہ کا موقف بیان کرتے ہیں کہ وہ بغیر امام کے کسی کے لئے بھی حدود نافذ کرنےکو جائز نہیں سمجھتے تھے، البتہ غلاموں اور لونڈیوں کے مالکو ں کو ان پر حد زنا جاری کرنےکی اجازت دیتے تھے ۔

حدود وتعزیرات اور توہین رسالت کی سزا کے متعلق شریعت کا مزاج اور فقہی وقانونی پہلو کو واضح کرتے ہوئے دور حاضر کے عظیم محدث اور فقیہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدسرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی رائے بھی یہی ہے ،چنانچہ فرماتے ہیں ۔

,,حدود وتعزیرات کے جتنے بھی احکام ہیں یہ افراد کے لئے نہیں ہیں، قرآن پاک میں آتاہے السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیہما چورمرد اور چور عورت،پس تم ہاتھ کاٹ دو ان کے ۔عام آدمی میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہےکہ چور کو پکڑ کر اس کے ہاتھ کاٹ دے ۔غیرشادی شدہ مردوعورت زنا کریں تو ان کو کوڑے مارنے کا حکم قرآن میں مذکور ہے ۔مگر حکومت کے بغیر کسی کو حق نہیں ہےکہ وہ کوڑے مارے ،یہ حکومت کاکام ہے اسی طرح یہود ونصاری اور دیگر کافروں سے لڑنا انفرادی کام نہیں ہے ،یہ اجتماعی طور پر حکومت کاکام ہے ،گویا کہ مسلمانوں کے پاس اتنا اقتدار ہوناچاہیے کہ جس اقتدار کے ذریعے کافروں کی سرکوبی کریں ،اگر ہم ایسا کریں گے تو گناہ گار ہوں گے ،اس لئے غلط فہمی کا شکار نہ ہونا ، یہ حکومت کاکام ہے ،تمہیں زبان سے سمجھانے کا حق ہے ،، ۔

اس کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے مولانا محمد عمار خان ناصر لکھتے ہیں :
اسلامی شریعت کی روسے دوسرے تمام جرائم کی طرح توہین رسالت کے جرم پر سزا دینے کا اختیار بھی صرف عدالت کے پاس ہے جو جرم کے ثبوت ،اس کی نوعیت کی تعیین اور اس پر مناسب سزا تجویز کرنے کے ضمن میں ان تمام تقاضوں کو پورا کر سکے جو عدل وانصاف کی رو سے ضروری ہیں ،اس سے ہٹ کر کسی ایسے طرز فکر یا رجحان کی تائید نہیں کی جا سکتی جس کے نتیجے میں ہر شخص اپنے آپ کو اس اقدام کے لئے آزاد سمجھے اور مسلمانوں کا معاشرہ تہذیب نظم وضبط اور شرعی واخلاقی حدود وقیود کی پابندی کے بجائے ،تمہی قاتل ،تمہی مخبر ،تمہی منصف ٹھہرے ،، کا منظر پیش کرنے لگے، اس اصول کے مطابق توہین رسالت کی سزا کے نفاذ پر بھی وہ تمام حدود وقیود وشرائط لاگو ہوتے ہیں جن کا اطلاق دوسری شرعی سزاؤں پر ہوتاہے اور جنہیں اسلام کےضابطہ حدود وتعزیرات کا حصہ سمجھا جاتاہے ،چنانچہ کوئی شخص یا گروہ اپنی انفرادی حیثیت میں توہین رسالت کے مجرم کے لئے سزا کا اعلان کرنے یا اسے سزا دینے کا مجاز نہیں اور دوسرے تمام جرائم کی طرح یہاں بھی جرم کے اثبات اور مجرم کو سزا دینے کے لئے باقاعدہ عدالتی کاروائی ضروری ہے ،،۔

اسلامی ریاست میں توہین رسالت کے مرتکب شخص کو سزا دینے کے معاملے میں قرآن وسنت اور فقہی مذاہب کی روشنی میں جو صورت حال اور پوزیشن واضح ہوتی ہے وہ یہی ہےکہ حدود وتعزیرات اور توہین رسالت یا توہین مذہب کی سزا دینےکی ذمداری حکومت یا ریاستی اداروں پر ہے ،قانونی طریقہ کار کےمطابق ملزم کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کی جائے پھر مجاز عدالت میں ملزم پر کیس چلے ،جج کے سامنے گواہیاں پیش ہوں ۔ گواہوں کا تزکیہ کیا جائے ،ان کی شہادت کی سچائی یا تکذیب کو پرکھا جائے ،تمام قانونی مراحل طے کرنے کے بعد اگر جرم ثابت ہوجائے تو ریاست اس مجرم پر سزا جاری کردے اس دوران کسی عام فرد کو شرعا اجازت نہیں کہ وہ اس سلسلہ میں ازخود اقدام کرکے عدالتی کاروائی کو نظر انداز کرتےہوئے مجرم کو سزا دے ،ایسی صورت حال میں سزا دینے والا اسلامی اور ریاستی قانون کی نظر میں خود مجرم قرار پائے گا ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 170 Print Article Print
About the Author: Mufti Muhammad Asghar

Read More Articles by Mufti Muhammad Asghar: 10 Articles with 5529 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ