مجھے اپنے لیڈر پہ اعتماد ہے!

(Mehwish Ahsan, )

ناظرین! آج کا موضوعِ گفتگو وہی ہے کہ تمہارا کتا کتا ہمارا کتا ٹومی۔معذرت کے ساتھ‘بس کیا کہیں اب بات ہے ہی کچھ ایسی کے تھوڑا اس طرح کی عجیب مثال دینی پڑی دراصل بات وہی پرانی ہے سیاست۔یہ ملک کرپشن‘ پی ٹی آئی‘ نون لیگ اورملکی سیاست نے ہمیں اس طرح کی مثالیں دینے پہ مجبور کر دیا ہے جب کچھ مخلتف کچھ ہٹ کر لکھنے کا سوچو تو نہیں قلم ساتھ ہی نہیں دیتا مطلب کے سیاست کا یہ پنجہ اتنا مظبوط ہے کے ہم قلم کار ہو کے بھی اس کے شکنجے سے نکل نہیں پا رہے تو باقیوں کا تو یقینا اﷲ ہی حافظ ہے۔آپ نے کبھی ترک لوگوں کے متعلق جاننے کی کوشش کی ہے ترکی بہت کم گو اور انتہائی ملنسار ہوتے ہیں دوسرے ممالک سے آئے لوگوں سے بہت محبت سے پیش آتے ہیں مگر کبھی اپنے ملک یا حکمرانوں کے خلاف نہیں بولتے نا ہی کوئی لفظ کسی کے منہ سے سن سکتے ہیں اچھائی برائی ہر جگہ ہوتی ہے جس طرح صنف نازک کے متعلق ہے عورت کو جیسا کہو گے وہ ویسی ہوتی جائے گی۔ ایسا ہی حال ہے ہمارے وطن کی سرزمین کا اسکا جتنا ڈھنڈھورا پیٹو گے یہ اتنی ہی کمتر اور ناپاک ہوتی جائے ۔حق اور سچ سے تمہیں کسی نے نہیں روکا پر ہر وقت کی تنقید بھی کہاں اچھی ہے وہ ایک بھلے مانس کا قول ہے کہ ہر وقت ہتھوڑی ہاتھ میں رکھنے والے کو ہر مسئلہ کیل نظر آتا ہے اسطرح کی باتوں سے خدارا باہر نکلئے۔

اچھا تو بات شروع کچھ اسطرح سے ہوئی ہے کے فیس بک کے نوٹیفیکیشن فولو کرتی میں ایک پوسٹ پہ پہنچی جہاں یہ ووٹنگ ہو رہی تھی کہ خان کو ووٹ دے کے کیا آپ خوش ہیں یا نہیں سو لوگ نا خوش سو خوش وہی سو لوگ گالیاں دے رہے ہیں اور سو اس سے بھی برے القابات نکال رہے ہیں میں جو کہانی لکھنے والی تھی میرا زہن کہانی سے ہٹ کر یہی الجھ کے رہ گیا۔ایک صاحب کا کمنٹ مجھے تھوڑا سہی لگا۔وضاحت کمنٹ سے پہلے دیتی چلتی ہوں کیوں کہ میں فتوی پسند نہیں..

جب ہم نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے تو ہمیں صبر سے کام لینا چاہیے کوئی مصیبت زبردستی نہیں آتی ہر شے ہمارے اپنے ھاتھوں کمائی ہوتی ہے ۔دور نون لیگ کا ہو پی ٹی آئی کا یا پیپلز پارٹی کا یہ شکوے کبھی ختم نہیں ہونے ۔بس تو پانچ سال تھوڑا صبر سے کام لیں اور توکل کا دامن نا چھوڑیں یہی توکل تھا جس نے سمندر کے بیچ راستہ بنا دیا یہی امید تھی جس نے آگ کو گلشن کر دیا۔’’وہ جو رب ہے وہی سب ہے!‘‘کچھ فیصلے اس پہ بھی چھوڑ دیا کریں۔ہم کبھی اس بات کا شکر نہیں کرتے کے فلاں فلاں چیز ہے ہمارے پاس ہم صرف اس بات کا رونا روتے ہیں جو نہیں ہے۔شکر کم اور ناشکری زیادہ ہے ہم میں یہی وجہ ہے ہم پستیوں میں ہیں۔خیر وہ اپنی اپنی سوچ ہے سب کی میں آپ سب پہ اپنی سوچ مسلط نہیں کر سکتی..

وہ کمنٹ یہ تھا کہ ایک لڑکا پولیس والے کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور دور سے ہی کہنے لگا۔ سر جی ساتھ والی گلی میں میرے ابو جی کو ایک شخص مار رہا ہے،پولیس والا فوری ساتھ گیا دونوں کو چھڑوایا۔ تھوڑی تفتیش سے پتا چلا کہ لڑائی تو کافی دیر سے ہورہی تھی،تب ذرا رعب سے لڑکے کو بولا۔ ابے تو پہلے کیوں نہیں آیا تھا میرے پاس؟سرجی وہ بات دراصل یہ ہے کہ پہلے میرے ابو جی اسے مار رہے تھے، لڑکے نے جھجکتے جواب دیا۔

تو بات دراصل یہ ہے کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ پہلے بھی تھی، پٹرول پہلے بھی مہنگا ہوتا، روپے کی قدر پہلے بھی کم ہوتی رہی، ڈالر نے ساٹھ سے نوے اور نوے سے ایک سو بیس پر اڑان بھری،گردشی قرضے زیرو سے تیرہ سو ارب تک گئے،ہر پاکستانی سوا لاکھ کا مقروض ہوگیا، قرضے چھ ہزار ارب سے تیس ہزار ارب تک پہنچ گئے، تجارتی خسارہ بیس ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، اسٹیل مل، پی آء اے ریلوے ہماری آنکھوں کے سامنے منافع بخش اداروں سے سفید ہاتھی بن چکے،انڈر میٹرک / جعلی سند یافتہ پائلٹس بھرتی کرلیے گئے، رینٹل پاور کرپشن میں تحقیق کرنے والا نوجوان آفیسر اپنے کمرے میں پنکھے سے لٹکتا ملا،ٹین پرسنٹ کی داشتہ کے پرس سے منی لانڈرنگ کی رقم برآمد کروانے والے ایماندار انسپکٹر کو اسکے گھر میں نامعلوم حملہ آور قتل کرگئے، ماڈل ٹاؤن کو کون بھولا ہوگا؟پاکستان تمام مثبت و فلاحی انڈیکیٹرز میں آخری نمبروں پر چلا گیا

ہمارا صدر کسی حکمران سے ہاتھ ملاتا تو اس ملک کے اخبارات میں سرخی لگتی ’’پرائم منسٹر ہاتھ ملانے کے بعد اپنی انگلیاں لازمی گن لینی تھیں‘‘۔پانامہ لیکس آئی تو عالمی اخبارات میں ہمارے حکمرانوں کو بحری قزاق لکھا گیا،سٹنگ پرائم منسٹر امریکی ائیرپورٹس پر کپڑے اتراواتا پایا گیا، کونسا قابل شرم واقعہ چشم فلک نے ماضی میں نا دیکھا ہو؟اب چھوٹی چھوٹی بات پر غیرت دکھا کر واویلہ مچانے والے پٹواری، مجلسی و جیالے پہلے کسی نے چیختے دیکھے؟امام سیاست کبھی اتنا بے چین نظر آیا؟اب حکمرانوں کی نشست و برخاست بولنے و کھانے تک پر عقابی نظریں رکھنے والے پہلے ستر سال تک بھنگ پی کر کیوں سوئے رہے؟

وجہ صرف وہی‘ اوپر بیان کردہ معصوم لڑکے والی کہ عمران خان سے پہلے انکے ابو جی کی حکومت جو تھی۔تم چالیس سال چوروں کو ووٹ دے کر مایوس نہیں ہوئے تو میں ایک ایماندار شخص سے آٹھ ماہ میں مایوس ہو جاؤں؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مایوسی کا۔الحمداﷲ مجھے اپنے لیڈر پر پورا اعتماد ہے.

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 179 Print Article Print
About the Author: Mehwish Ahsan

Read More Articles by Mehwish Ahsan: 8 Articles with 1865 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: