قسمت کے کھیل

(Azhar Iqbal Mughal, LAHORE)

تقسیم پاکستان کے وقت ایک قیامت سا سما تھا ہر طرف ایک بھگڈر سا مچاہوا تھا سب لوگ بھاگ رہے تھے۔پاکستان سے ہندو بھاگ کر انڈیا رہے تھے اور وہاں سے مسلمان پاکستان کی طرف ڈور رہے تھے ہر طرف بھی لوٹ مار مچی ہوئی تھی لیکن کم کوئی ادھر بھی نہیں کر رہا تھا۔ادھر بھی کچھ مسلمان مال و اسباب لوٹ رہے تھے۔ایسے حالات میں امر ناتھ اپنی بیوی بچوں ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ ہجرت کر کے انڈیا جارہا تھا ۔اس کی بیوی شانتی نے دو بچے اپنی گود میں اٹھا رکھے تھے باقی جس کے ہاتھ اس وقت جو آیا اٹھا کر اپنے ساتھ لے جارہے تھے۔امرناتھ اور اس کے گھر والے آگے نکل گئے لیکن شانتی اپنے دونوں بچوں کے ساتھ پیچھے رہ گئی تھی۔شانتی سے بھاگا نہیں جا رہا تھا کیونکہ دو بچوں کے ساتھ بھاگنا بہت مشکل تھا۔اس لیئے وہ کافی پیچھے رہ گئی تھی ایسے میں شانتی کے لیئے بھاگنا بہت مشکل تھا۔ ہ وہ ایک ٹیلے پر چڑھ رہی تھی کہ اس کا بیٹا اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور نیچے کھائی میں جاگرا شانتی نے چیخنا شروع کردیا لیکن اس کی کی چیخ و پکار سننے وا لا کوئی نہ تھا وہ بے ہوش ہو کر گر گئی اور اس اس کی بیٹی پاس بیٹھی رو رہی تھی چنخ کی آواز سنی اور امر ناتھ مڑ کے آیا اور اپنی بیٹی کو اٹھا کر بھاگ گیا کیوں کہ ایسے حالات میں اپنی بیوی کو اٹھا لے جانا ممکن نہ تھا ۔امر ناتھ اپنی بچی کو لے کر بھاگ رہا تھا کہ کسی نے اس پر وار کیا اور وہ بری طرح زخمی ہو گیا اور ہمت کر کے اپنے لوگوں کے ساتھ جا ملا اور انڈیا جاتے ہوئے بری طرح زخمی ہونے کی وجہ سے امرناتھ کا کافی خون بہہ چکا تھا جس کی وجہ سے وہ دم توڑ گیا۔جب شانتی کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ایک بڑے سی حویلی میں پایا۔کافی عورتیں اس کے اردگرد جمع تھیں آپس میں باتیں کر رہی تھیں ایک عورت چلائی چوہدری صاحب اس اجنبی عورت کو ہوش آ گیا۔اتنے میں ایک خوبرو نوجوان شانتی کی طرف آتا دکھائی دیا یہ نوجوان دیکھنے میں تو اچھا انسان ہی لگتا تھا لیکن اس کے باوجود شانتی سہم سی گئی،کیونکہ جس قرب سے شانتی گزر کر آئی تھی کسی قیامت سے کم نہ تھا۔اس نوجوان جس کا نام چوہدری محمد علی تھا شانتی کو کو مخاطب کرتے ہوئے بولا ڈرو نہیں کوئی تمہیں یہاں کچھ نہیں کہے گا ۔ اپنے بارے میں کچھ بتاؤ لیکن شانتی اس سے پہلے کہ کچھ بتاتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔بہت سارا مجمع اس کے گرد جمع تھا ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور کہنے لگا یہ ایسے نہیں بتائے گی یہ مجھے لبا س اور شکل سے ہندو لگتی ہے-

اس کا زندہ رہنا ٹھیک نہیں اسے مار ہی دینا چاہیئے کیونکہ ان لوگو نے ہم مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں،میری بیوی بچے سب ان لوگوں نے مار دئیے ہیں میں بھی اس عورت کو زندہ نہیں چھوڑو ں گا جان سے مار دوں گا۔چوہدری محمد علی نے اسے آگے بڑھ کر روکا اور کہنے لگا کہ تم لوگوں کی وجہ سے ہی یہ سارا کہرام مچا ہے۔اگر ہماری جانیں ضائع ہوئی ہیں تو ہم لوگوں نے بھی کوئی عقلمندی کا ثبوت نہیں دیا اس کو میں بڑی مشکل سے بچا کر یہاں لایا ہوں اس لیئےمیری ہوتے ہوئے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، تمہیں شرم آنی چاہیئے ایک عورت پر ہاتھ اٹھا رہے ہو پتہ نہیں اس بچاری کے ساتھ کیا ہوا ہے اوپر سے تم اسے پریشان کر رہے ہو محمد علی نے اسے چپ کرا دیا۔اور سب کو جانے کو کہا۔یہ کہنا تھا کہ سب لوگ آپس میں باتیں کرتے ہوئے حویلی سے باہر آگئے چوہدری نے نوکرانی سے کہا کے اس وقت یہ بہت ڈری ہوئی ہے اس کو اندر لے جاؤ ۔نوکرانی اسے اندر لے گئی۔ اندر لے جا کر نوکرانی تم فکر مت کرو چوہدری صاحب بہت اچھے انسان ہیں ان کے ہوتے ہوئے تمہارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تم اب آرام کرو میں چلتی ہوں اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو آواز دے لینا شانتی ایک بستر پر لیٹ گئی اور نوکرانی کے جانے کے بعد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔بار بار اس کے ذہن میں وہی خیال آرہا تھا کہ اس کی بچی کا کیا ہوا ہو گا ،اتنے میں چوہدری محمد علی اندر آیا تو شانتی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی چوہدری نے اسے دلاسا دیتے ہوئے پوچھا کہ تم کون ہو اور کیا ہوا تمہارے ساتھ کچھ بتاؤ میں تمہاری مدد کروں گا کسی طرح کی فکر مت کرو شانتی اس وقت ایک عجیب سی ذہنی کیفیت میں مبتلا تھی بھلا کیا بتاتی۔ چوہدری نے اسے دوبارہ کہا دیکھو اگر تم کچھ بتاؤ گی نہیں تو میں تمہاری کیسے مدد کروں گا میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں ضرور تمہاری مدد کروں گا چوہدری کی باتیں سن کر شانتی کو کچھ حوصلہ ہوا۔ اور سسکیاں لیتے ہوئے شانتی نے چوہدری کو ساری کہانی سنائی ۔چوہدری محمد علی تم فکر مت کرو جیسے ہی حالات ٹھیک ہوتے ہیں میں تمہارے گھر والوں کا پتہ کر کے تمہیں ان تک پہنچا دوں گا تم کچھ کھا پی لو اور اپنے آنسو پونچھ لو۔یہ کہہ کر چوہدری باہر آیا اور اپنی نوکرانی سے فرزانہ سے آکر کہا کہ اس کو کچھ کھانے کو دو میں جا رہا ہوں مجھے پنجائیت میں بلایا ہے یہ کہہ کر چوہدری باہر نکل گیا فرازنہ جب اندر گئی تو شانتی ایک کونے میں سہمی ہوئی بیٹھی تھی ۔ فرزانہ کو دیکھ کر چونک گئی فرازانہ لو کھانا کھا لو شانتی مجھے بھوک نہیں ہے فرازانہ آخرکب تک بھوکی رہو گی مجھے نہیں پتہ تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن جو ہونا تھا ہو گیا۔اب تم کھانا کھا لو اور پریشان نہ ہو چوہدری صاحب کے ہوتے ہوئے۔شانتی نے اپنی ساری کہانی اس کو سنائی تو فرزانہ کی آنکھیں بھی بھر آئی میں بھی سمجھ سکتی ہوں تمہارا دکھ میں بھی ماں ہوں تم کھانا کھا لو شانتی کھانا کھانے لگ گئی اور فرزانہ واپس آگئی چوہدری محمد علی جب پنجائت میں پہنچا تو سب گاؤں والے وہاں اس کا انتطار کر رہے تھے ۔ گاؤں کے ایک بزرگ جس کا نام اللہ یار تھا نے کہا محمد علی ہم سب تمہاری بہت عزت کرتے ہیں۔لیکن جو کام تم نے کیا ہے ٹھیک نہیں کیا کہ ایک ہندو لڑکی کو گھر میں لا کر بیٹھا دیا ہے یہ سب ہمیں قبول نہیں جتنی جلدی ہوسکے اسے گھر سے نکالو چوہدری محمد علی نے کہا میں بھی آپ لوگوں کا بہت احترام کرتا ہوں آپ میرے بزرگ ہیں آپ کا حکم میرے سر آنکھوں پر لیکن وہ ایک دکھی لڑکی ہے جو کہ اپنے گھر والوں سے بچھڑ گئی ہے اپنے بچوں سے بچھڑ گئی ہے اس کے آنکھوں کے سامنے اس کا بچہ کھائی میں گر کے مر گیا کیا ہمارا دین یہی سکھاتا ہمیں وہ ہندو ہے یا جو بھی ہے آخر ایک انسان ہے۔اور اسلام ہمیں انسانیت کی خدمت کرنا ہی سکھاتا ہے جیسے ہی حالات ٹھیک ہوتے ہیں میں اسے بھیج دوں گا لیکن فی االحال اس کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے،جو کہ میں بخوبی نبھاؤں گا اتنا کہنا تھا کہ پنجائت میں کھسر پھسر شروع ہو گئی لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا یہ سب دیکھ کر اللہ یار نے سب کو خاموش کرایا اور کہا کہ محمد علی ٹھیک کہہ رہا ہے ایک عورت ان حالات میں کہاں جائے گی اور محمد علی کو ایک پندرہ دن کا وقت دیا کہ پندرہ دن تک اسے گھر سے نکال دو گے چوہدری نے کہا مجھے منظور ہے ہو سکتا ہے اسے پہلے ہی اس کے والوں کے پاس چھوڑ آؤں ،یہ کہہ کر محمد علی گھر آگیا ۔چوہدری محمد علی 30 سال کا جوان تھا خاندانی رئیس تھا کافی زمین کا مالک تھا اور اپنی جائیداد کا اکلوتا وارث تھا اس وجہ سے بھی لوگ کافی حد تک اس سے جلتے تھے۔چوہدری محمد علی ان لوگوں میں تھا جن کے بزرگوں انگریزوں کی کافی خدمت کی تھی جس کے بدلے میں ان کے بزرگوں کو کافی زمیں انعام میں ملی تھی والد کی وفات کے بعد سب کی نظر اس کی زمین پر تھی اس گاؤں کے بڑے بڑے چوہدری محمد علی سے رشتہ داری کے خواہشمند تھے لیکن محمد علی میں کوئی چوہدریوں والی بات نہیں تھی بہت ہی خدا ترس بندہ تھا۔سب گاؤں والے اس کی تعریف کرتے تھے،محمد علی سے صرف ان ہی لوگوں کو مسئلہ تھا جو کہ لوگوں کو دبا کر رکھنا چاہتے تھے اور فرعون بنے ہوئے تھے اور ظالم لوگ تھے لیکن ان کی نسبت چوہدری نیک دل انسان تھا۔غریبوں کی مدد کرنے والس سب کو انسان سمجھنے والا انسان تھا ۔غریب لوگ چوہدری محمد علی سے بہت خوش تھے اس نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا تھا چوہدری محمد علی نے گھر پہنچتے ہی شانتی کا پوچھا کہ وہ کیسی ہے۔اس نے کچھ کھایا کہ نہیں ،تو فرزانہ نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں ہے ،چوہدری جب شانتی کے کمرے میں پہنچا تو وہ سو رہی تھی۔شانتی کو سوتا دیکھ کر چوہدری واپس لوٹ آیا لیکن یونہی چوہدری پلٹا اس کی نظر شانتی کے خوبصورت چہرے پر اٹک گئی ۔ شانتی بہت خوبصورت لڑکی تھی اس سے پہلے محمدعلی کو کبھی کوئی لڑکی پسند نہیں آئی جتنی کہ اسے شانتی پسند آئی تھی چوہدری اسے گھور ہی رہا تھا کہ فرزانہ نے آ کر اسے چونکا دیا۔چوہدری صاحب ابھی سو گئی ہے کھانا کھا کر وچاری بہت دُکھیاری ہے چوہدری محمدعلی چونک کر بولا ٹھیک ہے نورے سے کہو میرے لیئے بھی کھانا لگا دے چوہدری اپنے کمرے میں چلا گیا اپنا پرنا ایک طرف رکھ رکر شانتی کے بارے میں سوچنے لگا چوہدری کے لیئے بہت رشتے آتے لیکن چوہدری کو آج تک کوئی لڑکی پسند نہیں یا چوہدری نے کبھی کسی عورت کو اتنی غور سے دیکھا ہی نہ آج واقعی محمد علی کو اپنے مرد ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔اور وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کاش کوئی شانتی جیسی عورت اس کی زندگی میں آ جائے شانتی نے آ کر چوہدری کے اندر کے انسان کو بیدار کر دیا تھا اس کا دل چاہنے لگا تھا کہ اس کا بھی کوئی گھر ہو بیوی ہو ا سکو لگ رہا تھا کہ وہ واقعی ایک عورت کے بغیر ادھورا ہے انہی خیالوں میں گم تھا کہ نورا کھانا لے کر آگیا چوہدری صاحب کھانا لگ گیا ہے چوہدری تم چلو میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں چوہدری نے کھانا کھایا اور آرام کرنے چلا گیا اگلے دن جب صبح محمد علی اٹھا ناشتہ کر کے فارغ ہوا تو شانتی شرماتی ہوئی اندر آئی اور شرمائی ہوئی آواز میں بولی میں آپ کی احسان مند ہوں آپ نے میر ی مدد کی اور میری جان بچائی .محمد علی کوئی ایسی بات نہیں یہ تو میرا فرض تھا تم کچھ دن صبر کرو میں تمہیں تمہارے گھر والوں سے ملوا دوں شانتی بولی آپ کا بہت شکر یہ جی آپ انسان نہیں دیوتا ہیں میں تو بہت ڈر گئی تھی کہ پتہ نہیں میرے ساتھ ادھر کیا سلوک ہو مجھے مسلمانوں نفرت تھی لیکن اب اس لیئے نفرت نہیں کہ سب مسلمان ایک جیسے نہیں ان میں آپ جیسے دیوتا انسان بھی ہیں چوہدری آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہو میں تو ایک خاکسار سا انسان ہوں بات دراصل یہ ہے اچھے بڑے لوگ تو ہر مذہب میں ہی ہوتے ہیں اور رہی نفرت کی بات تو یہ نفرت ہم لوگوں میں تھی نہیں ایک سازش کے تحت پیدا گئی ہے عرصہ دراز سے ہم لوگ اکھٹے رہ رہے ہیں اس طرح کبھی نہیں ہوا جو اب ہو رہا ہے۔میں نے آج نورے کو بھیجا ہے کہ پتہ کرے جا کر تاکہ آپ کو جلد آپ کے گھر پہنچا دوں شانتی جی ٹھیک ہے۔لیکن جی پتہ نہیں میں اتنے دنوں سے یہا ں ہوں میرے گھر والے مجھے قبول کریں گے یا کہ نہیں۔وہ مجھ سے پوچھیں گے کہ میں کہاں رہی میں جانتی ہوں میں پاوتر ہوں لیکن کون یقین کرے گا۔کیسے کروں گی میں لوگوں کی نظروں کا مقابلہ اور میں اپنے خاندان والوں کے بغیر رہ بھی نہیں سکتی ایک عجیب سی الجھن میں پھنس گئی ہوں۔کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کروں کیا نہ کروں۔ چوہدری میں سمجھاؤں گا تمہارے خاندان والوں کو سب ٹھیک ہو جائے گا تم فکر نہ کرو۔ٹھیک ہے اب تم جاؤ جیسے ہی نورا کوئی خبر لے کر آتا ہے میں بتا دوں گا،باتیں کرتے کرتے چوہدری نے کئی بار شانتی کی آنکھوں میں دیکھا شانتی نے ہر بار شرما کر نظریں جھکا لیں ۔شانتی کے جاتے ہی چوہدری محمد علی ایک گہری سوچ میں ڈوب گیا نہ چاہتے ہوئے بھی چوہدری آج کل شانتی کے خیالوں میں گم رہتا تھا۔چوہدری کو ڈر تھا کہ اسے کہیں کوئی ایساکام نہ ہو جائے جس کا پچھتاوا عمر بھر اسے چین سے جینے نہ دے اس لیئے چوہدری چاہتا تھا کہ شانتی جلد از جلد اپنے گھر چلی جائے پھر گاؤں والوں نے بھی چوہدری سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ شانتی کو جلد از جلد اپنے گھر والوں کے پاس بھیج دے اور چوہدری کے سارے خاندان والے چوہدری محمدعلی سے ناراض تھے کہ اس نے ایک ہندو لڑکی کو گھر میں پناہ دے رکھی ہے ۔لیکن چوہدری نے سب کی پرواہ کئے بغیر شانتی کو پناہ دی تھی چوہدری ایک نیک دل انسان تھا اور انسانیت کو سب مذاہب سے بھر کر مانتا تھا۔لیکن اسے پتہ نہیں تھا کہ یہ دُنیا انسانیت کی نہیں رسم ورواج اور ذات پات کی غلام ہے پورے گاؤں میں چوہدری محمد علی اور شانتی کے بارے میں باتیں ہو رہی تھی کہ ہ چوہدری اکیلا بندہ ہے۔اور ایک جوان عورت کو کس ناطے سے گھر میں رکھا ہوا ہے آخر کیا رشتہ ہے اس عورت سے چوہدری کا ۔اب چوہدری کے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا کیوں کہ کوئی بھی شانتی کو اپنے گھر رکھنے کو تیار نہیں تھا کسی میں لوگوں کی اتنی باتیں سنے کی ہمت نہیں تھی ہندو مسلم فسادات نے ایک دوسرے کے خلاف اتنی نفرت بھر دی تھی کہ دونوں طرف ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے جارہے تھے صدیوں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والے آج ایک دوسرے کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے ا یسی صورت حال نے چوہدری محمد علی نے بغاوت کر کے شانتی کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے ذمہ لی تھی جو کہ اسے بہت مہنگی پڑ سکتی تھی ۔شام کا وقت تھا چوہدری دوستوں میں بیٹھا ہوا تھا کہ نورا آیا اور اس نے آ کر بتایا کہ چوہدری صاحب بہت مشکل سے پتہ کر کے آیا ہوں اس کے گھر والا تو مارا گیا تھا اور اس کے گھر والوں نے کہہ دیا ہے کہ ہماری طرف سے یہ مر گئی جس کے ساتھ اس کا رشتہ تھا وہ نہیں رہا تو یہ ہماری کیا لگتی ہے چوہدری ٹھیک ہے تم جاؤ نورے کے جانے کے بعد چوہدری سوچ میں پڑ گیا کہ اب کیا ہو گا ۔کیونکہ چوہدری پنجائت میں وعدہ کر کے آیا تھا کہ کچھ دنوں تک شانتی کو اس کے گھر بھیج دے گا،اس طرح صورت حال بدل جائے گی چوہدری نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ساری رات چوہدری کی سوچتے گزر گئی کہ اب کرنا کیا ہے نہ جانے کب چوہدری کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گیا۔جب صبح چوہدری جاگا تو ناشتہ کرنے کے بعد سیدھا شانتی کے کمرے میں گیا جو سر جھکائے بیٹھی کچھ سوچ سوچ رہی تھی چوہدری نے کھانستے ہوئے شانتی کو اپنے آنے کی اطلاع دی شانتی ایک دم چونک گئی، شانتی کو دیکھتے ہی چوہدری کئے دِل کی ڈھرکن تیز ہو گئی چوہدری کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے بات شروع کرے چوہدری نے ہمت کر کے کہا شانتی اس سے پہلے کہ کچھ مزید کہتا شانتی کی انکھوں میں آنسو بھر آئے اور کہنے لگی میں فرزانہ سے سب سن چکی ہوں جو میرے گھر والوں نے کہا ہے مجھے اتنا دکھ اپنے پتی کے مرنے کا نہیں ہوا جتنا ان کے گھر والوں کی باتوں سے ہوا ہے۔میں بہت زیادہ ٹوٹ چکی ہوں سمجھ میں نہیں آرہا کیا کروں میری آپ سے بینتی ہے مجھے کچھ دیر اکیلا چھوڑ دیجئے چوہدری مزید کچھ کہتا باہر آگیا چوہدری کے جاتے ہی شانتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔چوہدری اسے روتا چھوڑ کر باہر نکل گیا وہ اسے کس رشتے سے چپ کراتا کیا لگتا تھا وہ اس کا ایک پل چوہدری کا دل چاہا کہ شانتی کو رونے سے روکے لیکن چوہدری کہ ہمت نہیں پڑی یہ سوچ کر چلا گیا کہ رونے سے اس کے دل کا غبار ہلکا ہو جائے اور چوہدری اپنی جگہ بہت پریشان تھا جو ٹائم اس کو پنجائت نے دیا تھا ختم ہونے کو تھا۔اب چوہدری بُری طرح پھنس چکا تھا ایک طرف زمانہ تھا دوسری طرف انسانیت اب چوہدری کو دونوں میں سے ایک کو اپنانا تھا یا تو چوہدری اس دُنیا کی طرح بے حس ہو کر شانتی کو گھر سے نکال دیتا در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیئے کیوں کہ اب اس کا کوئی نہیں تھا آخر وہ جاتی تو کہاں جاتی بہت سوچ بچار کے بعد چوہدری نے فیصلہ کیا کہ وہ شانتی کو لیکر خود اس کے گھر والوں کے پاس جائے گا ہو سکتا ہے کوئی صورت نکل آئے اگلے دن چوہدری نے شانتی سے کہا کہ وہ خود اسے اس کے گھر چھوڑ کر آئے گا وہ تیار ہو جائے تو شانتی نے کہا جی کوئی فائدہ نہیں میں اپنے خاندان والوں کو جانتی ہوں وہ پتھر دل لوگ ہیں ان پر کوئی اثرنہیں ہوگا ۔ لیکن چوہدری نے کہا کہ میں مجبور ہوں میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں میں نے پنجائت میں وعدہ کیا ہے میں اپ تمہیں اپنے گھر نہیں رکھ سکتا میری مجبوری کو سمجھو اس پر شانتی نے کہا کہ میں خود ہی چلی جاتی ہوں آپ کو میرے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں چوہدری تم کہاں جاؤ گی شانتی کہیں بھی چلی جاؤں گی یہ دُنیا بہت بڑی ہے جہاں قسمت لے جائے شانتی نے اپنے کپڑے اٹھائے اور جانے کیلئے اٹھ گئی ۔تو چوہدری نے اسکو روکنا چاہا لیکن شانتی بضد تھی کہ اسے جانا ہی ہے چوہدری نے شاتنی کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکنا چاہا چوہدری محمد علی نے یہ سب بے دھیانی میں کیا تھا شانتی کو چھونے کا اس کا بالکل ارادہ نہیں تھا ۔لیکن چوہدری کے چھوتے ہی شانتی کے جسم میں ایک بجلی کی سی لہر ڈور اٹھی وہ بُری طرح چونک گئی اور حیرت سے چوہدری کو دیکھنے لگی چوہدری نے فوری شانتی کا ہاتھ چھوڑ دیا۔شانتی خاموش ہوگئی۔شانتی کو چھونے کے بعدتو چوہدری کا بلکل دل نہیں چاہ رہا تھا کہ شانتی ادھر سے جائے چوہدری نے شانتی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم چاہو تو اس مسئلے کا ایک حل ہوسکتا ہے۔ شانتی جی کیا چوہدری نے جھجکتے ہوئے کہا کہ کیوں نا ہم دونوں شادی کر لیں اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو کیوں کہ تمہیں تمہارے خاندان والے قبول نہیں کریں گے،اور میں نہیں چاہتا کہ تم کہیں اور جاؤ اور کوئی ایسی جگہ ہے بھی تو نہیں جہاں تم جا سکو شانتی لیکن آپ کے لوگ مجھے قبول کر لیں گے چوہدری وہ میرا مسئلہ ہے میں سمجھا لوں گا ۔کل تک کا وقت ہے تمہارے پاس مجھے سوچ کر بتا دینا یہ کہہ کر چوہدری چلا گیا-

چوہدری کے جاتے ہی فرزانہ آگئی شانتی نے سارا ماجرا فرزانہ کو سنایا تو فرزانہ نے کہا کہ چوہدری جیسا بندہ تمہیں نہیں مل سکتا اگر تم واقعی چوہدری کے احسانوں کا بدلہ چکانا چاہتی ہو تو ہاں کہہ دو اور اب تمہارا اس دُنیا میں کوئی ہے بھی تو نہیں شانتی لیکن میری بچی فرزانہ کیا وہ لوگ تمہیں بچی دے دیں گے۔جب ان لوگوں نے کہہ دیا ہے کہ ان کا تم سے کوئی تعلق نہیں تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے تم پر قسمت مہربان ہوئی ہے ایسے موقعے روز روز نہیں ملتے چوہدری جیسا شریف اور نیک دل انسان تمہیں شائد نہ مل سکے اگر قسمت نے تمہارے دروازے پر دستک دی ہے تو اسے واپس مت لوٹاؤ یہ سب کہہ کر فرزانہ چلی گئی شانتی رات بھر سوچتی رہی بار بار چوہدری کے ہاتھ پکڑنے والا سین شانتی کی آنکھوں کے آگے کھومنے لگتا اور وہ شرما جاتی صبح ہوئی تو چوہدری کی ہمت نہ پڑی کہ وہ شانتی کے کمرے میں جائے کیونکہ چوہدری کو ڈر تھا کہ اگر شانتی نے شادی سے انکار کر دیا تو اس کے خوابوں کی کشتی سمندر میں غرق ہوجائے گی اس لیئے اس نے فرازانہ سے ہی پوچھنے کو کہا فرازانہ جب شانتی کے کمرے میں پوچھنے آئی تو شانتی نے کہا جو قسمت کو منظور فرزانہ نے کہا اچھی طرح سوچ لو مجھے ہاں نہ میں جواب دو اس پر شانتی نے شرما کر ہاں میں سر ہلا دیا جب فرزانہ نے چوہدری کو آکر شانتی کی مرضی بتائی تو چوہدری کی خوشی کی انتہا نہ رہی مولوی صاحب کو بلا کر شانتی کو مسلمان کیا گیا شانتی کا نام مریم رکھا گیا اور چوہدری اور مریم کا نکاح بھی مولوی صاحب نے ہی پڑھایا۔شادی کے بعد مریم نے سارا گھر سنبھال لیا۔ اپنے اخلاق سے سب کے دل جیت لیئے۔چوہدری محمدعلی نے شانتی مریم سے سے شادی کر کے جو انسانیت کی مثال قائم کی اس کی مثال نہیں ملتی ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 136 Print Article Print
About the Author: Azhar Iqbal Mughal
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: