کیا ہم آزاد ہیں ۔۔؟؟

(Zarmeen Yousuf Khan, )

ہم آزاد ہیں۔۔۔۔۔ہم سے مراد پاکستان میں جیتا جاگتا سانس لیتا ایک ایک انسان ۔اور آزاد سے مراد بے خوف لیکن ہمارے سروں پر تو ہر وقت خوف کی تلواریں منڈ لاتی ہیں ۔آزاد سے مراد خود مختار لیکن ہمارے حکمران ہاتھوں میں کشکول لئے امریکا جیسے ملک سے بھوک و افلاس اور تراقیاتی کاموں کے نام پر اربوں کھربوں روپے بھیک مانگتی ہے ۔آزاد سے مراد کسی کے تابع نہ ہونا لیکن ہم آج بھی انہی جاگیرداروں، لٹیروں ،وڈیروں ،جابر ،اور انہی ظالم ،بے بس اور بے حس حکمرانوں کے تابع ہیں تو میں اس بات کو بالکل مسترد کرتی ہوں کہ ہم اصل معنوں میں آزاد ہیں ۔

اور یہ لوگ کس آزادی کی بات کرتے ہیں جس ملک میں افسوس کہ ساتھ واٹر کولر کہ ساتھ لٹکے ہوے پانی کے گلاس کو بھی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے ۔جس ملک میں غریب کے ٹوٹے ہوئے گھر کے سامنے اسکے بوسیدہ سے ٹھیلے کو بھی زنجیروں میں جکڑ کر قید رکھا جاتا ہے تو اس ملک میں انسان کیا خاک آزاد ہوں گے ۔۔۔؟؟؟؟

جس ملک کے سیاستدانوں کی ترقی کا یہ عالَم ہو کہ ان کی دولتوں میں دن دگنی رات چگنی ترقی ہو رہی ہو ۔جس ملک کے سیاستدانوں کا نام پاناما لیکس میں لیک ہوتے ہو۔اس ملک کو میں کیسے کہوں کہ ہم آزاد ہیں اور شور مچنے پر فقط معصوم عوام کو لیپ ٹاپ ،اور دیگر اسکیم کا لولی پوپ دے دیتے ہیں تو میں کیسے کہوں کہ اس ملک کا بچہ ،بوڑھا ،اور ہماری نوجوان نسل آزاد ہیں ۔۔۔۔۔!!!!!

آزادی کی ہم بات کرتے ہیں ہری جھنڈیوں کی ہم بات کرتے ہیں جب تک یہی جھنڈیاں ہمارے پیروں کے نیچے آکر روندی جائیں گی اور کوئی انھے اٹھانے والا نہ ہو گا ۔تو پھر میں ان سے پوچھوں گی ارے ۔۔کون سی آزادی ۔۔۔!!!!
جب کشمیر میں ہمارے بھائیوں کو مار مار کر انکا بھرکس نکال دیا جاتا ہے ۔تو ہم اس وقت میں بھارتی فلموں کو پاکستان میں سب سے مقبول ترین بنانے میں مصروف تھے۔جب بارڈر کے پاس ہمارے فوجی نوجوانوں کو بے دردی سے گولیوں اور دھماکوں سے بے دردی سے شہید کیا جا رہا تھا تو اس وقت ہماری حکومت مودی سرکار کو آموں کی پیٹیا ں اور ساڑھیاں تحفے میں دے رہے تھے ۔

آزادی کے نام پر ہنسی آتی ہے ۔آزادی ہم پاکستانیوں کو نہیں بلکہ آزادی اس ملک کے دهشتگردوں کو حاصل ہے جب دل چاہے مار دیتے ہیں اور بڑی آزادی سے آکر بیان دیتے ہیں کہ ہاں ۔۔۔۔!!!! ہم نے ذمہ داری قبول کی ہے اور ہمارے سیاست دان فقط مذمت پہ مذمت ،مذمت پہ مذمت کرتے نظر آتے ہیں ۔

میں پوچھتی ہوں کہ کونسی آزادی جس دیس کہ ہر ایک سمت میں بربادی کے سائے ہو ۔۔۔۔جس دیس کہ ہر ایک سمت میں ظلم و جبر کہ بادل چھائے ہو۔۔۔۔تو میں کیسے خود کو آزاد تصور کرلوں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟جہاں خود کو ہم کو ہم کہتے ہوے زبان لڑکھراتی ہے افسوس کہ ساتھ میں اس دیس کی باسی ہوں جہاں موت خوشی سے آتی ہے ۔

شاید ایک پاکستانی ہونے کے تحت آپکا دل میری ان کڑوی حقیقتوں کو تسلیم کرنے سے گھبراتا ہے مگر آج اگر ہم 72 سال بعد بھی سو رہے ہیں تو آخر ہمیں کون جگائے گا ۔

لفظ آزاد بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے یہ لفظ بس ان وڈیروں اور سیاست دانوں پر جچتا ہے جو جو اپنی بیس بیس گاڑیوں کے پروٹوکول کے نیچے نو سالہ بچے کو رونڈ کر چلے جاتے ہیں اور اپنی لمبی گاڑیوں کے پروٹوکول کی وجہ سے راستے میں پھسی ایمبولینس میں بیماروں کو چھوڑ دیتے ہیں ۔آزاد تو وہ حکمران ہے جو یہاں کا پیسہ کھا کر باہر ممالک میں اوف شور کمپنیاں بناتے ہیں ۔ہم آزاد نہیں ہم اب تک غلام ہیں آزادی کا لبیل لگانے سے کوئی ملک آزاد نہیں کہلاتا ۔آزادی کا مطلب ہم زہنی طور پر آزاد ہوں لیکن ہم تو غلام ہیں اس فرقہ واریت کہ جو ہمیں ایک دوسرے کے جو ہمیں ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے نہیں دیتی ہم غلام ہیں تو اپنی گھٹیا سوچ کہ جو غیرت کہ نام پر سرے بازار قتل کر دیتی ہے ۔سب سے اہم بات یہ کہ ہم غلام ہیں تو اس آدھے ادھورے دین کے جو کسی کو بھی گستاخ رسول کا ٹھپا لگا کر اسے فورا موت کی وادیوں سے ملا دیتے ہیں ۔جہاں ہم اپنی ماؤں بیٹیوں بہنوں کو گھر سے باہر نکلنے میں بے خوف محسوس نہیں کرتے ۔ہم آزاد کیسے ہو سکتے ہیں جب بچہ صبح مدرسہ جانے کہ لیے گھر سے نکلتا ہے ہے تو ماں کا دل پل پل تڑپتا رہتا ہے کہ اس کہ لال خیریت سے گھر کو واپس آئیگا بھی یا نہیں ۔۔۔۔میں اس ملک کو آزاد کیسے مان لوں جب گھر سے چھوٹی بچی کھیلنے کے لئے نکلتی ہے اور واپسی میں اسکی ذیادتی شدہ لاش ماں باپ کے حوالے کردی جاتی ہے ۔میں اس ملک کو آزاد کیسے مان لوں جہاں ایک فیملی کو دہشت گرد کا نام دے کر انکی گاڑی کو گولیوں کی بھوچار سے انکے ساتھ خون کی ہولی کھیلی جاتی ہو ۔تو تب میں پوچھوں گی ارے۔۔!!کونسی آزادی۔۔!!۔۔۔۔۔

جب میں یونیورسٹی جانے کے لئے گھر سے نکلتی ہوں تو میں دیکھتی ہوں کہ جگہ جگہ پولیس رینجرز کی گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اگر ہم آزاد اور محفوظ ہیں تو یہ دن رات ہماری حفاظت کے لئے چوکننا کیوں رہتی ہیں ۔وہ ملک جہاں روڈوں اور سڑکوں پر جاتے شہریوں کو نقد اور موبائل فون نہ دینے پر انکی قیمتی جانوں کو ضیا کرنے میں چند منٹ نہیں لگاتے ۔۔۔تو میں کیسے خود کو آزاد مان لوں ۔۔۔؟؟؟؟
ہماری سوچ ،ہمارے راستے ہمارے ارادے آزاد نہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zarmeen Yousuf Khan

Read More Articles by Zarmeen Yousuf Khan: 6 Articles with 3215 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Apr, 2019 Views: 445

Comments

آپ کی رائے