سرکاری سکولوں کی حالت زار

(Wisal Khan, )

خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کوبرسراقتدارآئے تقریباً چھ سال کاطویل عرصہ بیت چکاہے گزشتہ انتخابات میں اس پارٹی کوایک مرتبہ پھرتاریخی کامیابی ملی جس کے بعد سوات سے محمودخان کووزیراعلیٰ نامزدکیاگیاپرویزخٹک کی حکومت میں وزارتِ تعلیم موجودہ سینئروزیرعاطف خان چلارہے تھے ان پانچ برسوں کے دوران صوبے میں تعلیمی انقلاب کے بلندبانگ دعوے ہوئے جن کے پیش نظر توقع کی جارہی تھی کہ موجودہ حکومت میں بھی گزشتہ ’’بہترین‘‘پالیسیوں کاتسلسل برقراررکھنے کی خاطروزارت تعلیم کاقلمدان عاطف خان کوہی سونپاجائیگامگرانہیں غیرمتوقع طورپرسینئروزارت کیساتھ سیاحت کاقلمدان سونپ دیاگیاجبکہ تعلیم کیلئے تاحال کسی وزیرکے تقررکی ضرورت محسوس نہیں کی گئی لے دے کے ایک مشیرصاحب ہیں جن کی کارکردگی حسبِ سابق بیانات تک محدودہے اس اہم وزارت کیلئے باقاعدہ وزیرکی عدم تقرری کاواضح مطلب یہی لیاجاسکتاہے کہ تعلیم میں مزیدکسی کام کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی اورجتناکام ہوناتھاوہ گزشتہ دورِ حکومت میں انجام کوپہنچ چکاہے حالانکہ ایسابالکل نہیں گزشتہ دورمیں بھی تعلیم کے حوالے سے خالی خولی نعرے لگے ، تعلیمی انقلاب کے دعوے ہوئے، ہزاروں بچوں کے پرائیویٹ سکولزچھوڑکرسرکاری سکولوں میں داخلے کی جھوٹی نویدیں سنائی گئیں، اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے سطحی اقدامات اٹھائے گئے ،نصاب کی جانب مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی،بھوت سکولوں کیساتھ بھوت داخلے منظرعام پرآئے اورروایتی طورطریقوں سے سرکاری سکولوں کی حالت مزیدخراب کی گئی پینتیس ہزارنفوس پرمشتمل ایک شہری آبادی کی حالت یہ ہے کہ آج کے اس جدیددورمیں جماعت پنجم کے تقریباً تین سو بچے سرٹیفکیٹ ہاتھ میں لئے ادھرسے ادھربھٹکتے پھررہے ہیں اس آبادی کاسب سے پرانااورتاریخی پرائمری سکول گزشتہ چاربرسوں سے زیرتعمیرہے یادرہے یہ وہ تاریخی پرائمری سکول ہے جس نے سینکڑوں بچوں کوملک کے مختلف شعبوں تک پہنچایاان میں سینکڑوں آج اساتذہ ہیں ، انجینئرزہیں،ڈاکٹرزہیں ، وکیل ہیں ،شاعرہیں ،ادیب ہیں،صحافی ہیں اوراہم مناصب پرفائزہیں اس سکول کی اساتذہ کے فہرست میں متعددبڑے نام موجودہیں قاضی ملاجیسے لیجنڈفنکار،سیدحبیب استاذ،واحدگل استاذ،گل نظیراستاذ،رحم دل استاذاوران گنت ناموراساتذہ کے لگائے گئے پودے آج تناوردرخت بن چکے ہیں موٹروے ایم ون پشاورسے پچاس کلومیٹرکے فاصلے پررشکئی انٹرچینج رشکئی نامی قصبے ہی کی مناسبت سے ہے اسکے مین بازارمیں واقع گورنمنٹ پرائمری سکول کی عمارت تقریباًچارسال سے زیرتعمیرہے جس کے کم ازکم چھ سوبچے ایک کلومیٹردورکرائے کے ایک زیرتعمیرمکان میں پسلیوں سے پسلیاں ملاکرتعلیم حاصل کرنے پرمجبورہیں اس عمارت کی پلسترجزوی طورپرہوئی ہے رنگ کاتوسوال ہی نہیں بجلی ،روشنی ،ہواوغیرہ ناپیدہے گرمی سردی سے بچاؤکاکوئی انتظام نہیں ریلوے پارکاپرائمری سکول نامعلوم وجوہات کی بناء پرصرف چارجماعتیں پڑھاتاہے اسکے پانچویں جماعت کے بچے سرٹیفکیٹ لیکراسی کرائے کے مکان والے سکول میں داخلے کیلئے پہنچتے ہیں جہاں پانچویں کے اپنے ڈیڑھ سوکے لگ بھگ بچے موجودہیں ان حالات میں پونے سات کروڑروپے کی خطیررقم سے زیرتعمیرسکول کی عمارت چارسال سے تکمیل کامنتظرہے قصبے کے تین ویلیج کونسلزسمیت تحصیل اورضلع کونسل کے ممبران بھی یاتوحالات کی اس سنگینی سے واقف نہیں یاپھروہ بے بس ہیں یہاں کے ممبرصوبائی اسمبلی ابراہیم خٹک اورممبرقومی اسمبلی انکے والدگرامی پرویزخٹک ہیں مگران میں سے کسی نے چاربرس تک اس سکول کادورہ تک کرنے کی زحمت گوارانہیں فرمائی یہ ہیں تعلیم کاوہ انقلاب جس کے خواب دکھائے گئے اورتسلسل کے ساتھ دکھائے جارہے ہیں ایک ایسی نمایاں آبادی میں سرکاری سکولوں کی یہ حالت ہے توگاؤں دیہات کااﷲ ہی حافظ ہے گزشتہ دورِ حکومت ہویاموجودہ، تعلیم پرتوجہ دی ہی نہیں گئی اس قصبے کے ہائیرسیکنڈری سکول میں سائنس لیبارٹری روم پانچ سال سے زیرتعمیرہے جب ایک کمرہ پانچ سالوں میں تعمیرنہ ہوسکے اورتعمیرمیں ناقص مٹیریل کااستعمال دھڑلے اورسینہ زوری سے ہورہاہو یہ سب نااہلیاں برسرِزمین موجودہیں اوران کامشاہدہ کیاجاسکتاہے محکمہ تعلیم کے کرتادھرتایاتواپنے فرائض سے واقف نہیں یاپھروہ مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں یہ کیاتعلیمی نظام ہواکہ پانچویں اورآٹھویں جماعت کے بچوں سے دودوامتحانات لئے جارہے ہیں ایک امتحان یونین کونسل کاہائی سکول لیتاہے جبکہ اسکے دس روزبعدبورڈامتحان لیتاہے جس میں من پسندافرادٹی اے ڈی اے سے بھرپوراستفادہ فرماتے ہیں بورڈکے اس امتحان کااصل مقصدبھی یہی نظرآتاہے جس سے بچوں کوذہنی اذیت کیساتھ ساتھ سرکاری وسائل کوبھی بے دردی سے ضائع کیارہاہے آٹھ دس سال کے بچے کوایک مہینے میں دوامتحانات سے گزارکرنجانے کس ارسطونے افلاطون اور آئن سٹائن بنانے کی سوچی ہے بہترین عمارتیں ، اعلیٰ تعلیمیافتہ اورکوالیفائیڈاساتذہ اوران اساتذہ کی اچھی خاصی تنخواہیں ہونے کے باوجودسرکاری سکولوں کاکوئی بچہ بورڈامتحانات میں ٹاپ نہیں کررہاعمارتوں کی تعمیرسست روی کاشکارہے، ان گنت خستہ حال عمارتیں موجودہیں جوجانی نقصان کاباعث بن سکتی ہیں،سرکاری عمارتوں پرلوگ قابض ہیں ان مسائل کے خاتمے کیلئے مانیٹرنگ کاکوئی قابل عمل نظام وضع نہیں کیاجاسکاضلعی سطح پرایک ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرہوتے ہیں جوساراسال دفترمیں تشریف فرمارہتے ہیں حالانکہ اگریہی ڈی ۔ای۔ او۔ روزانہ کسی نہ کسی سکول کادورہ کریں زیرتعمیرعمارتوں کاجائزہ لیں، کنٹریکٹرسے معلومات لیکر اعلیٰ حکام تک پہنچائیں، سہولیات کی کمیابی کانوٹس لیں ،موقعے پراحکامات جاری کریں توبہت سے مسائل پیداہونے سے قبل ہی ختم ہوسکتے ہیں جس سے قومی وسائل کاضیاع بھی رک سکتاہے اورعوام کوتعلیم کی بہترسہولتیں میسرآسکتی ہیں قابل افسوس امریہ ہے کہ شعبہء تعلیم کوکمائی کاذریعہ بنایاجاچکاہے مختلف قسم کی مافیاؤں کے خونی پنجے اس قدرگہرائی تک اترچکے ہیں جس کاتصورکرنامحال ہے حکومت کوحالات کادرست ادراک کرکے چشم پوشی کاروئیہ ترک کرناہوگا سرکاری سکولوں کی حالت زارسطحی اقدامات کانہیں سنجیدہ توجہ کامتقاضی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wisal Khan

Read More Articles by Wisal Khan: 80 Articles with 33624 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Apr, 2019 Views: 417

Comments

آپ کی رائے