پنجابی ہماری مادری زبان

(Malik Tahir Shehzad, Hafizabad)
مادری زبان کی اہمیت

دنیا کے تمام حصوں میں انسان بستے ہیں۔ تمام علاقوں کی اپنی زبان اور ثقافت ہوتی ہے۔ لوگ اپنی زبان اور ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر انسان جس علاقے میں پیدا ہوتا ہے وہ اس سے محبت کرتا ہے۔تمام لوگ اپنی ماں بولی سے اعلی درجے کی وابستگی رکھتے ہیں۔

ہم لوگ پنجاب میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہ ہمارا دیس ہے۔ ہم پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ لیکن ہماری مادری زبان پنجابی ہے۔ ہمیں اپنی مادری زبان سے کتنی محبت ہے اس اندازہ لگانا بھی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ہم تقریبا اس زبان کو اپنی تہذیب سے نکال چکے ہیں۔ ہم اس کو اپنی تعلیمی زندگی سے بھی بے دخل کر چکے ہیں۔ سنا ہے کہ علم انسان کو آزادی دیتا ہے۔ یہ کسطرح کی آزادی ہے کہ ہم اپنی ماں بولی کو بھی ذاتی ذندگی میں بھی اپنا نہیں سکتے ۔

تہذیب کے اجزاء میں زبان کی ایک اہم مشیت رہی ہے۔ ہم بھی اپنی مثال آپ قوم ہیں۔ ہم اپنی گفتار اور افکار میں ہر طرح کی بد تہذیبی کا مظاہرہ تو کر لیتے ہیں لیکن کبھی بھی ہم اس کو قابل اعتراض بات نہیں سمجھتے۔ ہمارے بچے چھوٹی عمر میں شرارت کر سکتے ہیں۔ ہمارے تمام قابل اعتراض کاموں کی پیروی کر سکتے ہیں۔ حسب عمر ہر طرح کی چیزوں کو خراب کر سکتے ہیں۔ پڑھائی سے عدم توجہی اور شرعی احکام سے لاپرواہی کر سکتے ہیں۔ لیکن پنجابی بولنے سے ساری کی ساری تہذیب خراب ہو جاتی ہے۔
عجیب معیار اور سوچ پیدا ہوگئی ہے کہ آپ جو مرضی کریں آپ مہذب ہیں۔ آپ من الحیث القوم سچ کا گلہ گھونٹ دیں جائز ہے۔ رواداری کو بھول جائیں ۔ جائز ہے۔شرعی اور ملکی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کریں کوئی بات نہیں ۔سارے کا سارا ملک لوٹ کر کھا جائیں کوئی بات نہیں۔ جو مرضی فیصلہ کر دیں کوئی بات نہیں۔ آپ دنیا کی ہر بے قاعدگی کر سکتے ہیں لیکن آپ اور آپ کے بچے پنجابی بولیں گے تو بہت ہی ناپسندیدہ بات ہو گی۔

اس کو آپ احساس کمتری کہیں یا احساس برتری،ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ علمی ترقی ہو یا مادی ترقی اس کا تعلق مادری زبان کے بولنے یا نہ بولنے سے نہیں ہوا کرتا۔ ہمیں اپنی کوشش،طریقہ تدریس ، سمجھ کا معیار اور کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے بارے میں سوچ بچار اور غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ پنجابی زبان کو شجر ممنوعہ سمجھنے سے ہمارے حالات و واقعات میں خود بخود بہتری نہیں آ سکتی ۔

اللہ تعالی ہمیں ناکامیوں کے اسباب تلاش کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کیونکہ
"تہذیب تو گفتار اور کردار کی بلندی کا نام ہے"
" زبان تو محض گفت و شنید اور ابلاغ کا ایک ذریعہ ہوتی ہے"
اس سلسلے میں ہماری ترویج کا ذریعہ پنجابی زبان ہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Tahir Shehzad
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Apr, 2019 Views: 160

Comments

آپ کی رائے