تعلیم, مدرسہ, حکومت اور ہم

(Babar Alyas, Chichawatni)

تعلیم تو ہر دور میں انسان کی ضرورت تھی لیکن موجودہ دور میں زندہ رہنے اور دنیا کی ترقی کا مقابلہ کرنے کے لیے اب تعلیم کے بیغر چارہ ممکن نہیں ھے
ملک پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان بھی ہے کہ
(1)علم حاصل کرو ماں کی گود سے لے کر گور تک.
(2) علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی جانا پڑے.

بدقسمتی سے پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد جس طرح اور بہت سارے مساہل کا مقابلہ آنکھ بند کر کے کرنا مناسب سمجھا گیا بالکل اسی طرح تعلیم کا نصاب ایک نہ ہونا تھا جسکی وجہ سے میرا ملک زبان, نسلی, عقیدے دلدل میں غرق ہوتا گیا.
سکول, کالج, یونیورسٹیاں, مدارس کیونکہ تعلیمی ماحول رکھتے ہیں, تعلیم کے ادارے ہیں, ملک کی آئندہ نسلوں کو تعلیم دیتے ہیں انکی تربیت کرتے ہیں لہذا میری بات اور سوچ سے بے شک کوئی اختلاف ہی کرے مگر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ سب قومی ادارے ہیں
مدارس کو اب قومی ادارے کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے تو وقت بتاۓ گا کہ یہ فیصلہ درست تھا لیکن ایک اہل علم گروپ
بلاوجہ دوسروں کی زندگی خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ جانتے ہیں کہ ایسا کرنے والوں کو خدا کبھی معاف نہیں کرتا.
مظلوم کی ہائےکبھی سکون سے رہنے نہیں دیتی. اللہ ہم سب کو ہدایت دے.
1947قیام پاکستان کے فوری بعد قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں ہونے والی پہلی تعلیمی کانفرنس کو ہی بنیاد بنا لیا جاتا تو بہت سارے مساہل حل ھو جاتے.
سرکار مدنیہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تو فرمان ہے کہ
علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد ؤ عورت پر فرض ھے
لیکن ہم نے اسکو عصری اور دینی تعلیم میں تقسیم کر کے ترقی کا خواب دیکھا جو اختلاف کا باعث بن چکا ھے
تعلیم ہر انسان اور معاشرے کا لازمی زیور اور ہمہ گیر عمل ہے جسکی بدولت فرد کو ماحول اور ثقافت سے روشناس ہو کر اس سے مطابقت اختیار کر سکے.
تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر شہری اپنے ملک کی فکری, سیاسی اساس, اسلامی نظریہ حیات کو ناصرف اچھے طریقے سے سمجھے بلکہ ملک سے محبت, دوسروں کی مدد ,عزت, حسن اخلاق ,حسن کلام کا ذریعہ بنتا ھے
تعلیم بنیاد ہے حق و باطل میں فرق کر کے چلنے کا اور ‏حق پر چلنے والا کبھی نہ کبھی تنہا اور اکیلا ضرور ہوتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اللہ سے اسکی محبت اور اللہ پہ اس کا بھروسہ اسے عظمت کا پہاڑ بنا دیتا ہے یا پھر دنیا کی محبت اور دنیا کا خوف اسے ریت کا گھروندہ ثابت کرتا ہے لہذا سکول ہو یا کالج, مدرسہ ہو یا یونیورسٹیاں سب کام حق کی اور انسانیت کی آواز بننا ھے تاکہ معاشرہ ترقی کی طرف گامزن ہو اور نفرت کئ جڑ کاٹ سے.
اگر ملک پاکستان کے کچھ اہل علم مدارس کو قومی تحویل میں آنے سے ڈرتے ہیں تو انکو سوچنا ھو گا کہ ستر سال کے بعد ایسا قدم اٹھایا جانا کیوں درپیش آیا کیا اس میں ہماری کوئی غلطی ہے ؟

اور میرے خیال میں غلطی ہے کہ ہم نے مدارس سے حافظ, قاری, عالم, مفتی بنا کر اپنی ذمہ داری پوری تصور کی جو ناکافی تھی ؟

کیا ہمارے مدارس سے منسلک کچھ لوگ ہی ہماری نسلوں کی تباہی ؤ بربادی کا باعث نہیں بنیں ؟
کیا ہمارے مدارس سے فارغ بچے مسجد میں امامت اور بچوں کو قرآن کے علاوہ تعلیم دینے کے قابل نہیں تھے؟
کیا ہمارے مدارس کے طالب علم ریاضی, فزکس, کیمسڑی, انگلش, کیمپوٹر کی تعلیم دینا تو دور ماننے سے بھی قاصر نہیں ؟
کیا ہمارے اہل علم ؤ دانش نے ہی تعلیم کو عصری ؤ غیر عصری تعلیمی ماحول میں تقسیم نہیں کیا ؟
کیا ہم نے ہی مولوی بنانا تو پسند کیا ناکہ یہ کوشش کی ہو کہ یہ مدارس سے فارغ طالب علم بھی ڈاکٹر, استاد, انجینر, سانئس دان, بن کر ہماری پہچان بنیں. ؟
کیا ہم نے ہی اپنی نسلوں فرقہ واریت میں تقسیم نہیں کیا ؟
کیا ہمارے ہی کچھ مدارس سے تم اعلی ؤ اچھا ہو, وہ کمزور ؤ نیچ ہے کا تعارف نہیں کروایا ؟
کیا ہمارے تعلیمی نظام میں کمی نہیں ھے ؟
کیا مدارس کے امتحانات میں نقل نہیں
ہوتی ؟
کیا ہم نے اپنے فارغ طالب علموں کی نوکری کے لیے حکومت سے رابطہ کیا ؟
کیا حکومت کو بتایا کہ انکا کوٹہ تعلیم کے مطابق, ڈگری کے مطابق طے کیا جاۓ ؟
کیا ہر سال حافظ, قاری, عالم, مفتی جو فارغ ہوتے ہیں ہم انکا تذکرہ تو کرتے ہیں کیا اس کے لیے ہمارے اہل علم ؤ فکر نے کوشش کی ہو, عملی طور پر قدم اٹھایا ہو, آواز بلند کی ہو کہ ہمارے مدارس کے بچے بھی پاکستانی ہیں انکو بھی موجودہ دور کے مطابق آگے بڑھنے کی ترغیب دی جاۓ, طریقہ تعلیم سے آراستہ کیا جاۓ ؟
اگر تو یہ سب ہم نہیں کر سکے تو براۓ مہربانی اب ان مدارس کے طالب علموں عصری ؤ غیر عصری تعلیمی پالیسی سے آزاد ہو کر صرف اور صرف تعلیم اور نئی منزلوں کا مسافر بننے دیں تاکہ یہ ہی افراد معاشرے کی تعمیر نو میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں.
مدارس کے اہل علم ؤ دانش کو چاہیے کہ وہ موجودہ اقدام پر حکومت وقت کے ساتھ معاملات طے کریں, نئی راہیں , نئی اصلاحات ,مساوی تعلیم نظام کا دائرہ کار طے کریں تاکہ مدارس سے نکلنے والے بچے بھی پاکستان کے کار آمد نوجوان بن جائیں , مولوی پن کی مخصوص صفت کا مقام اپنی جگہ ترقی یافتہ پاکستانی کا لقب ؤ خطاب حاصل کرنے والے بن جایں. شکریہ
نوٹ
(کسی کو میری بات ؤ سوچ سے اختلاف ہو تو معذرت)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90925 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
30 Apr, 2019 Views: 380

Comments

آپ کی رائے