ہیپی مزدور ڈے

(Afshan Sher Kalyar, Silanawali Road, Sargodha)
یوم مزدور پر بھی کام کرتے ہوئے مزدوروں کے نام

یوم مزدور جو کہ جن کےلیے ہے ان کو منانا نصیب ہی نہیں ہے۔

یکم مئی کو مزدور کے علاوہ باقی سب مزدوروں کا عالمی دن مناتے ہیں جسے عرف عام میں لیبر ڈے بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کا المیہ یہ ہے کہ اس دن مزدوروں کے علاوہ باقی سب کو چھٹی ہوتی ہے۔ مزدور کے حقوق کی بات تو ہم سب کرتے ہیں مگر اس کو وہ حقوق ملتے بھی ہیں یا نہیں اس کی بات کوئی نہیں کرتا۔ اس دن کو ہم سب بس ایک چھٹی کا دن سمجھتے ہیں اور اس کی اصل روح سے واقفیت حاصل کرنے کا ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے حتی کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن سے پوچھا جائے کہ آج کونسا دن ہے تو وہ ناواقف ہوں گے۔ حتی کہ مزدور جس کےلیے یہ دن مخصوص ہے اس کو بھی نہیں پتا کہ یہ اس کا خاص دن ہے۔ ایک مزدور سے جب کہا گیا کہ کل تمھیں لیبر ڈے کی وجہ سے چھٹی ہے تو اس نے دل چیر دینے والی بات کہی کہ صاحب مجھ پر اتنا ظلم نہ کرو میرے بچے ایک دن بھوکے کیسے گزاریں گے۔ ائیر کنڈیشنڈ آفسز میں بیٹھ کر کام کرنے والے اور مہنگی کاروں میں سفر کرنے والے جب اپنے لگثری گھر میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اس مزدور کے نام کی چھٹی مناتے ہیں جو کہ اس دن بھی تپتی دھوپ میں جھلس رہا ہو اور صرف بس کا کرایہ بچانے کی خاطر کئی میل پیدل چل کر آیا ہو تو دل میں ایک درد سا اٹھتا ہے کہ اگر اس دن بھی مزدور کو چھٹی نہیں اور اگر ہے تو اس کے گھر فاقہ ہے تو پھر اس دن کو مزدور کا عالمی دن کہنے سے کیا حاصل؟

کئی جگہ مزدور کا استحصال ہوتا ہے اس کو مزدوری کم اور کام زیادہ دیا جاتا ہے مگر تب کوئی نہیں بولتا۔ کیا ہماری ذمہ داری صرف یہ ہی ہے کہ ہم ایک چھٹی منا لیں۔ کیا کبھی ہم میں سے کسی نے کسی غریب مزدور اس دن بھی کام کرتے دیکھ کر یہ کیا کہ اس کو اس کی مزدوری اور کھانے کے پیسے دے کر کہا ہو کہ آج آپکا دن ہے آپ آرام کریں۔ شاید کسی نے ایسا کیا ہو مگر زیادہ سے زیادہ کتنے لوگوں نے؟ اگر ہم اس دن کے مقصد کو سمجھ کر مزدور کے ساتھ اچھا سلوک کریں اس کا حق اسے فوراً ادا کریں جیسا کہ ہمارے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ اگر اس فرمان پر ہی عمل کر لیا جائے تو اس قوم کی مشکلات کافی حد تک کم ہو جائیں جسے ہم مزدور کہتے ہیں۔ اگر سوچا جائے تو ہمارے گھر کے ملازمین بھی ایک طرح کے مزدور ہی ہیں جو کہ کچھ پیسوں کی خاطر سب کی جھڑکیاں کھاتے ہیں۔ ان کے حقوق کے بارے میں ہمارے پیارے نبی پاک(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ جو خود پہنیں انہیں پہنایا جائے اور جو خود کھائیں انہیں کھلایا جائے اور ان کی غلطیوں سے درگزر کیا جائے۔ خود سوچیں ہم میں سے کتنے لوگ یہ کر رہے ہیں، اپنے جیسا کھلانا اور پہنانا تو ایک طرف ان کی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے آور ایک چھوٹی سی غلطی پر بھی انسانیت سوز سلوک کیا جاتاہے۔ ابھی پچھلے ماہ کی ہی بات ہو گی جب عظمٰی نامی گھریلو ملازمہ کو اس کی مالکن جو کہ ایک اچھے خاصے پڑھے لکھے گھرانے سے تھی نے اس جرم میں جلا ڈالا کہ اس نے اس کی چھوٹی بیٹی کی پلیٹ سے کھانا کیوں اٹھایا۔ اب اس نے کھانا اٹھایا بھی تھا یا نہیں، یا یہ صرف اپنے اندر کی فریسٹریشن اپنے سے کمزور پر نکالنے کا بہانہ تھا اس کی سچائی کوئی نہیں جانتا۔ ذرا سوچئے کہ کیا ایسے لوگ بھی مزدوروں کے دن کی چھٹی منانے لائق ہیں۔

مزدور ہمارے ہاں کا ایسا طبقہ ہے جس کی عزت نفس و خود داری نام نہاد اونچے طبقے کے پاس گروی رکھی ہے۔ اور اس کا جی بھر کر فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس یوم مزدور کچھ پل نکال کر سوچئے کہ کبھی آپ نے بھی تو کسی مزدور کا استحصال نہیں کیا، کبھی آپ بھی تو اس کی عزت نفس مجروح کرنے میں پیش پیش تو نہیں رہے، اگر ہاں تو کیا آپ اس چھٹی کے حقدار ہیں؟
آخر میں ہیپی مزدور ڈے ٹو گھر پر آرام کرتی عوام۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afshan Sher Kalyar

Read More Articles by Afshan Sher Kalyar: 5 Articles with 3492 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 May, 2019 Views: 715

Comments

آپ کی رائے