ٹک ٹاک(tik tok)کا جنون!

(Maaz Bin Anwar, )

دورِحاضر میں ذندگی کی بھاگ دوڑ میں مصروف انسان مختلف طریقوں سے اپنے آپ کو سکون اور تفریح دینے کی کوشش کرتا ہے. لوگوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا استعمال کر کے اپنے آپ کو پرسکون محسوس کرتی ہے. حقیقت کے آئینے میں سوشل میڈیا جہاں مفید ہے وہیں دورِحاضر کا ایک نشہ بھی ہے. جب تک صارف ان سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال نہ کر لے اسے سکون نہیں ملتا. انہی ویب سائٹس میں سے ایک سائٹ "ٹک ٹاک" (tiktok) کے نام سے جانی جاتی ہے. جس نے گزشتہ چند ہی مہینوں میں فیسبک اور یوٹیوب سے بھی زیادہ مقبولیت حاصل کر لی ہے. اور پاک و ہند کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں تیزی سے مشہور ہوئی. 2017 تک ٹک ٹاک کو بہت کم لوگ جانتے تھے. لیکن 2018 کے آغاز میں یہ بہت تیزی سے مشہور ہونے لگی اور 2019 کے آغاز میں یہ دنیا میں تیسرے نمبر پر استعمال کی جانے والی سائٹ بن گئی.

آئیے جانتے ہیں اس کے پیچھے کیا راز ہے. انسان کی فطرت ہے کہ وہ خود نمائی کو بہت پسند کرتا ہے. ہر شخص دنیا کی نظر میں اچھا ہونے کی کوشش میں لگا ہوا ہے. درحقیقت ٹک ٹاک، خود نمائی اورشہرت کا آسان طریقہ ہے. جہاں صارف مختلف آوازوں اور میوزک پر اپنی ویڈیو بنا کر اپلوڈ کرتا ہے. اور لوگ اسے دیکھتے ہیں. پسند کرتے ہیں اور اس صارف کو فالو کرتے ہیں. اس طرح صارف کو جتنے ذیادہ لائکس ملتے ہیں اس کا اتنا ہی جنون اور حوصلہ بڑھ جاتا ہے. اور وہ پہلے سے دوگنی محنت کر کے وڈیوز بنانے میں مگن ہو جاتا ہے. یوزر ذیادہ لائکس اور فالورز کے چکر میں دن رات ویڈیوز بنانے میں لگا رہتا ہے. اور جب وہ جنون کی حد تک پہنچ جاتا ہے تو وہ کوئی دوسرا کام نہیں کر سکتا.اور اس چیز کا ہمارے معاشرے پر کیا اثر ہوا آئیے جانتے ہیں.

ہمارے معاشرے میں اس کا سب سے زیادہ اثر طالب علم نوجوانوں پر ہوا. ہماری بہنوں اور لڑکیوں پر بہت برا اثر پڑا.17سے 20 سال کی عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں نے جب ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنائیں تو منفی سوچ رکھنے والے افراد کو یہ ویڈیوز بہت پسند آئیں. اور ان لڑکوں اور لڑکیوں کو لائک اور فالو کرنے لگے. یہ دیکھ کر ان نوجوانوں نے مزید محنت کرنی شروع کر دی. اور جنون کی حد تک ویڈیوز بنانے لگے. اس طرح وہ نوجوان ٹک ٹاک کے نشے میں گرتے چلے گئے. ان حالات میں ایک طالب علم جس کا سارا فوکس ٹک ٹاک پر ہے، وہ پڑھائی کیسے کر سکتا ہے. اس کے علاوہ لڑکیوں کے ٹک ٹاک استعمال کرنے سے معاشرتی برائیوں میں اضافہ ہوا. ٹک ٹاک سے پہلے ہماری بہنیں اور طالب علم لڑکیاں، فیسبک اور واٹس ایپ کا استعمال کرتی تھیں لیکن کبھی پروفائل پر اپنی مکمل تصویر نہیں لگاتی تھیں. لیکن ٹک ٹاک نے ان سے ان کی غیرت چھین لی. اور وہی ہمارے معاشرے کی لڑکیاں جو کبھی اپنی تصویر نہیں لگاتی تھیں وہ کیمرے کے سامنے کھلے بالوں کے ساتھ گانوں پر ڈانس کر کے ویڈیوز پبلک سطح پر پوسٹ کرنے لگیں. اس طرح معاشرے کے منفی سوچ رکھنے والے افراد کو ایک نیا ذریعہ مل گیا. اور پھر یہ ویڈیوز صرف ٹک ٹاک تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں. اور والدین بے فکر ہو کر بیٹھے رہے.

جی ہاں اگر آپ نوجوان چاہیں تو اس ٹک ٹاک کا مثبت استعمال کر کے معاشرتی برائیوں کو ختم کر سکتے ہیں. ہر چیز کا ایک مثبت پہلو ہوتا ہے اور ایک منفی پہلو ہوتا ہے. آپ ٹک ٹاک ضرور استعمال کریں مثبت طریقے سے. آپ ٹک ٹاک کے زریعے اپنی پاک فوج کو سپورٹ کریں. زیادہ سے زیادہ آرمی کے گانے اپلوڈ کریں تاکہ نوجوانوں کا اس طرف رجحان بڑھ جائے. سپورٹس کی ویڈیوز اپلوڈ کریں. اس طرح ہم اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں. اور والدین اگر اپنے بچوں کو اس سے بچا کر رکھیں تو یہ بہت بڑا مسئلہ بہت آسانی سے حل ہو جائے گا انشاءاللہ..

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maaz Bin Anwar

Read More Articles by Maaz Bin Anwar: 4 Articles with 1385 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2019 Views: 453

Comments

آپ کی رائے