آزادی صحافت کی تو ……

(Hafeez Usmani, )

جب تحریک آزادی کے نمائندہ اخبار روزنامہ زمیندار کے دفتر سے اخبار کا بورڈ گراکر زمیندار ہوٹل کی تختی آویزاں کی جارہی تھی تو اسی عمل کا حصہ بننے اور ارد گرد تماشہ دیکھنے والوں کی بے بسی کو میں محسوس کرسکتا ہوں لیکن اس کرب دکھ اور اذیت کو لفظوں کا لبادہ پہنانے سے قاصر ہوں ۔ عمر بھر آزادی کا پرچم تھامنے والے اردو صحافت کے امام مولانا ظفر علی خانؒ آج اسی آزادی کی بھینٹ چڑھ رہے تھے جس کی ایک جھلک کیلئے انہوں نے چودہ سال جیل کی چکی پیسی ، مصائب و الم کی بھٹی سے گزرے اور صحافت کو دفاتر کی تنگ و تاریک راہداریوں سے نکال کر اکھاڑے میں لا کھڑا کیا ۔

1903 سے شروع ہونے ولا یہ دلیرانہ سفر نصف صدی کے بعد اس روز اختتام پذیر ہوا جب حکومت وقت نے زمیندار کی صحافت کو ملکی وفاداری کے منافی قراردیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ڈیکلریشن منسوخی کی ہدایت کردی ،روزنامہ زمیندار کا اجازت نامہ منسوخ ہوگیا چشم فلک بھی حیرت سے سبھی کرداروں کو دیکھ رہی تھی آج تحریک آزادی کی جنگ لڑنے والا اخبار زمیندار، اس کا مجاہد مالک مولانا ظفر علی خان اپنی نیک نیت صحافتی ٹیم سمیت مشکوک ٹھہرا دیا گیا اس کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگ گئے جس ڈپٹی کمشنر نے اجازت نامہ منسوخی کا حکم جاری کیا وہ بھی یقینا ایک جونیئر افسر کے طور پر اس وقت انگریز سرکار کی وفاداری نبھارہا ہوگا جب مولانا ظفر علی خان یونین جیک کے پرخچے اڑارہے تھے ۔

تین مئی کو ہم نے ایک بار پھر آزادی صحافت کا عالمی دن منایا ہے اس روز ماضی اور حال کے کئی زخم دوبارہ تازہ ہوگئے ہیں ہم نے حکمرانوں کو یاد دلایا ہے کہ آزادی صحافت بھی جمہوریت کا ایک بنیادی جزو ہے اور پاکستان کے اہل قلم بے پناہ قربانیوں کے باوجود ابھی تک اس آزادی کی گرد کو بھی چھو نہیں پائے ہیں مجید نظامی کی بیٹی رمیزہ نظامی خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے وقت ٹی وی کو تالے لگائے تو وجہ وسائل کی کمی بنی ان کی صحافتی تاریخ کٹہرے میں نہ آئی ان کے والد کی عظمت کو کسی نے داغ دار نہ کیا ان کی نیک نیتی اور خلوص پر شبہات کے سایے نہ منڈلائے البتہ ان کے دیگر اخبارات کی حالت زار بھی اس قدر پتلی ہے کہ مجھے خدشہ لاحق ہے کہ قوم ان دفاتر پر بھی تختیاں بدلنے کے مناظر جلد دیکھے گی ۔ ملک کے سب سے بڑے اخباری گروپ کے مالک میر شکیل الر حمن کا بھی حوصلہ ہے کہ وہ تند و تیز آندھیوں میں قدم جمائے ہوئے ہیں ورنہ ان کے دفاتر پر جھولتے تالے دیکھنے کی تو باقاعدہ خواہش ہے ۔

جب ہم تین مئی 2019 کو آزادی صحافت کیلئے ریلیاں نکال رہے ہیں تو یہ وہ کڑا وقت ہے جب ملک کے کئی نامور صحافیوں کو متنازعہ بنانے کی مہم جاری ہے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی مچا ہوا ہے حامدمیر ،ثنابچہ ، نجم سیٹھی ، عمر چیمہ ،مطیع اﷲ جان ، اعزاز سید ، رضا رومی ، وسیم عباسی ،حفیظ عثمانی جیسے صحافیوں پر تو کئی سوالیہ نشان لگادیے گئے ہیں ماروی سرمد اور گل بخاری جیسی سوشل بلاگرز بھی ان چھینٹوں سے بچ نہیں پائی ہیں اور باقی لوگ بھی رہی سہی عزت بچائے پھر رہے ہیں کیونکہ کوئی خبر نہیں کب ان کیلئے بھی کوئی نئی بھبتی تخلیق کرلی جائے کب ان کی بھی شامت آجائے ۔

جب ہم آزادی صحافت کا عالمی دن منارہے ہیں تو صورت حال یہ ہے کہ حکومتی پالیسیاں سینکڑوں اخبارات کو نگل چکی ہیں بے شمار اخبارات وینٹی لیٹر پر ہیں ،کئی نیوز ایجنسیاں بند ہوچکی ہیں مالکان سکتے میں ہیں کارکنان کے گھر کا چولہا بجھ گیا ہے اور وہ مختلف دفاتر کے سامنے احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں ، دس ہزار سے زائد میڈیا انڈسٹری سے جڑے لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں مالکان اور صحافتی تنظیمیں گروپ بندی کا شکار اور عملا مفلوج ہوگئی ہیں اخبارات کو اشتہارات کی اکسیجن فراہم کرنے والے سب سے بڑے ایڈور ٹائزر انعام اکبر ڈیڑھ سال سے نیب کے مضحکہ خیز مقدمہ میں پابند سلاسل ہیں باقی اشتہاری کمپنیوں کو بھی آئے دن نت نئی انکوائریوں کے نام سے دھمکایا جارہا ہے ایک حشر بپا ہے اور حکومتی چھنگاڑ اور لاکھوں کارکنان کی دبی دبی چیخوں کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا یہ تو شکر ہے کہ وزارت اطلاعات کا قلمدان بدل گیا فردوس عاشق اعوان معقول سوچ کی حامل خاتون ہیں ورنہ عالمی یوم صحافت پر بھی صحافیوں کے حصے میں فواد چوہدری کی ڈانٹ ہی آنا تھی ۔

پیمرا نے کچھ نئے ٹی وی چینلز کے لائنسس بولی پر مہنگے داموں بیچے ہیں اور حکومت اس پر کامیابی کے شادیانے بجارہی ہے کہ اس ڈھول ڈھمکے کا مقصد شاید اس ارمان کا پورا ہونا ہے کہ صحافتی اداروں کی باگ دوڑ مولانا ظفر علی خان ،مجید نظامی ، میر خلیل الر حمن جیسے نظریاتی صحافیوں کے ہاتھ میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ مالکان کوئی تیل والا ، کپڑے والا ، کباڑوالا سرمایہ دار ہونا چاہیے آزادی صحافت کا جھنڈا زمین کے دلالوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے امام صحافت نے شاید کسی ایسے ہی موقعہ پر کہا تھا۔
دل ضبط ، جگر ضبط ، زبان ضبط ، فغاں ضبط
سب ساز عیاں ضبط ہے سب سوز نہاں ضبط
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez Usmani

Read More Articles by Hafeez Usmani: 56 Articles with 22363 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2019 Views: 159

Comments

آپ کی رائے