*احساس ہے رمضان*

(Rabia Rizvi, Karachi)

نیکی، محبت، بھائی چارہ، اخوت، اپنائیت یہ تمام الفاظ بظاہر الگ الگ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں اور انفرادی اہمیت کے حامل ہیں۔۔۔لیکن دیکھا جائے تو ان سب کا تعلق فقط ایک لفظ سے دیکھا گیا ہے۔۔وہ ہے
" احساس" جو ایک نعمت خداوند ہے۔۔۔یہ پانچ حروف پر مبنی جذبہ انسانی زندگی کو پر سکون اور خوشگوار بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔۔۔خدا کی اس خوبصورت نعمت سے پوری دنیا رنگین ہے۔۔🌸

پس اس "احساس" کا عملی مظاہرہ اسی دنیا کی ایک چھوٹی سی بستی میں دیکھنے کو ملا۔۔جب چند دنوں پہلے میں نے اس بستی میں جانے کا ارادہ کیا تھا۔۔۔یونیورسٹی سے واپسی میں روز نظروں سے گزرنے والی یہ بستی بظاہر خستہ حال اور غربت کا منہ بولتا ثبوت تھی لیکن اس غربت ذدہ زندگی میں رہتے اُن زندہ دل بچوں کا کھل کر ہنسنا،کھیل کود میں مگن رہنا ہمیشہ سے مجھے اُس بستی کی طرف کھینچتا تھا۔۔۔ کیا تھا اس بستی میں۔۔۔؟💫
یونیورسٹی کی دن بھر کی تھکن، پوائنٹ میں لگتے دھکّوں اور گھٹن میں وہ بستی جب نظروں سے گزرتی تو لمحے بھر کو میرےاندر عجیب سی کیفیت اجاگر کرجاتی تھی۔۔وہ کیفیت کیا تھی میں اسے خود کوئی نام نہ دے سکی لیکن وہاں کی پرجوش زندگی مجھے ایک سکون کا احساس دیتی تھی۔۔۔🌾

یہ رمضان سے چند روز پہلے کی بات ہے جب ہمیشہ سے میری توجہ کا مرکز رہنے والی اُس بستی کو میں نے بڑے قریب سے دیکھا تھا۔۔✨

مجھے آتا دیکھ کر وہاں کھیلتے ہوئے بچے میری طرف آئے تھے۔۔۔عجیب کیفیت تھی۔۔شاید بری کیفیت۔۔!😶
منہ اٹھاکر اس بستی میں آنے سے پہلے میں نے کیا سوچا تھا۔۔۔؟ میرے ذہن میں برے خیالات کی مشین چل پڑی تھی۔۔۔ کیوں آئی ہوں ادھر؟ پتہ نہیں کیسے لوگ ہوں؟ ہر اٹھتا قدم ذہن میں ایک سوال اٹھا رہا تھا۔۔💥یا خدا۔۔۔! شاید کچھ غلط کردیا ہے۔۔۔ابھی نہیں تو گھر جاکر ضرور شامت آنی ہے۔۔۔

"باجی۔۔!! آپ وہ راشن والی باجی ہو نا۔۔۔؟ آپ کو آبی جان سے ملنا ہے۔۔؟"

بچوں کے ہجوم سے نکل کر سوال کرنے والا وہ بارہ سال کا ایک بچہ تھا۔اس کا پوچھنا ایسا تھا جیسے وہ کسی خاتون کا منتظر ہو جو وہاں راشن دینے آتی تھیں۔۔۔

میں نے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔

مجھے وہ بستی دور سے جتنی اچھی لگتی تھی قریب جاکر اتنی ہی عجیب لگی تھی۔۔۔میں واپسی کے لئے پلٹی تھی۔۔۔🍂

"پھر آگئی مسلمان باجی۔۔" اداسی اور کچھ غصّے کی ملی جلی کیفیت میں بولا گیا یہ جملہ میری سماعت سے ٹکرایا تھا۔۔۔"⚡

یہ جملہ بول کر جیسے وہ بچی خود سٹپٹا گئی تھی۔۔۔میرے قدم رک گئے تھے۔۔ ان بچوں سے کچھ بات کرنے کا دل کرا تھا۔۔سکوت بھرا ماحول ٹوٹا تھا۔۔میں ساتھ پڑے ہوئے لکڑی کے تنے پر بیٹھ گئی تھی اور اپنے بیگ سے چاکلیٹ کا ڈبّا نکال کر بچوں کی طرف بڑھایا تھا۔🥀

"نہیں۔۔میں تو تم لوگ سے ملنے آئی ہوں۔"

سب بچے ارد گرد بیٹھ گئے تھے۔۔۔میں نے اس بچی سے مسلمان باجی سے ناراضگی کی وجہ دریافت کی تھی۔۔اور ساتھ میں اس نے جو ان خاتون کا نام رکھا تھا اسکی تعریف کری تھی۔۔۔"مسلمان باجی" 🙃

وہ شرمائی تھی اور میرے پوچھنے پر جواب دیا تھا۔۔۔

"ہر سال رمضان میں سب کو اچھے اچھے کھانے ملتے ہیں۔ ۔عید پر پیسے اور نئے کپڑے بھی ملتے ہیں۔۔مجھے اور کماری کو تو نہیں ملتے۔۔! کیونکہ ہمارے بابوسا کا نام راشن والی فہرست میں نہیں ہوتا۔۔۔"💔

اگر وہ بچی کماری نام نہ لیتی تو میرا اگلا سوال "کیوں" پر مبنی ہوتا۔۔۔میں سمجھ گئ تھی کہ معاملہ مسلم اور غیر مسلم کا تھا۔۔اور راشن مسلمان گھروں میں تقسیم ہوتا ہوگا۔۔۔

دل عجیب ہوگیا تھا۔۔۔دکھ ہوا تھا۔۔😞 مدد کرنے والی خاتون کی بےحسی پر شدید غصّہ آیا تھا۔کیسی نیکیوں کی ٹوکری تیار کر رہی تھیں جس میں ساتھ میں سراخ بھی تھا۔۔۔۔!!🤷🏻‍♀جہاں وہ ایک طرف ثواب سمجھ کر مدد کر رہی تھیں وہاں دوسری طرف وہ سراسر احساس کے جذبے کا قتل کر رہی تھیں۔یہ تو اسلام کی تعلیمات نہیں ہیں۔۔۔!!😶

میرا سکوت بچوں کے شور سے ٹوٹا تھا۔۔ایک کہہ رہا تھا میں تو اپنی آدھی عیدی اسکو دیتا ہوں۔۔۔تو دوسرا اپنے نئے کپڑے اسکو دیکر خود پرانے پہننے کی بات کر رہا تھا۔۔۔کوئی کھانے کا سامان انکو دینے کو تیار تھا۔۔۔🌸

پس میں نے "احساس" جیسے خوبصورت جذبے کو ان بچوں میں دیکھ لیا تھا۔۔یہ خوبصورت جذبہ اس بستی کے ہر فرد میں تھا۔۔۔💐

میں واپس آگئی تھی۔ ۔پر ایک عجیب سا دکھ تھا جو اس غیر مسلم بچی کی باتوں نے دیا تھا۔۔۔اسلام نے تو انسانیت کی خدمت کا درس دیا ہے۔۔۔وہ خدا جو اسے بھی دیتا ہے جو اسکی واحدانیت کا قائل ہو اور اسے بھی نوازتا ہے جو اسکے علاوہ کسی اور کو مانتا ہو۔۔وہ تو اپنی ہر مخلوق کو نوازتا ہے پھر اسکا ماننے والا مذہب دیکھ کر خدمت انجام دے۔۔۔؟ میرے لئے یہ بات قابل قبول نہ تھی۔۔۔💔

دو دن بعد وہ بچی مجھے بس اسٹاپ پر ملی تھی اور بڑے خوش ہوکر بتایا تھا کہ مسلمانوں کی پوری ٹیم آئی تھی ہمیں بھی راشن،اور نئے کپڑے دیکر گئے ہیں۔۔

اسکی خوشی ناقابل بیان تھی۔۔❣

میری گھٹی ہوئی کیفیت باحال ہوئی تھی۔۔۔انسانیت زندہ تھی۔۔احساس زندہ تھا۔۔۔قوم و مذہب سے بالا تر انسانیت کی خدمت کرنے والے زندہ تھے۔۔۔🍃مسلمانوں کی نہیں بلکہ انسانوں کی خدمت کرنے والے زندہ تھے۔۔۔⭐آخر احساس نے بےحسی کو ٹھوکر مار کر اپنے آپ کو منوالیا تھا۔۔انسانیت ایک بار پھر اپنے پورے وقار کے ساتھ قدم جمائے کھڑی تھی۔۔۔🌾اسلامی تعلیمات جیت گئی تھیں۔۔۔مسلمان سرخرو ہوگئے تھے۔۔۔💓

اب مجھے ماہ رمضان کا انتظار تھا۔۔۔اس ماہ کا جو احساس کے جذبے سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور ہر سال کی طرح اپنی برکتوں کا سایہ ہم پر کرنے آرہا ہے۔۔۔

احساس نہ ہو تو نیکی و اخلاق ایک طرف۔۔۔
خوشبو اُڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabia Rizvi

Read More Articles by Rabia Rizvi: 2 Articles with 3566 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2019 Views: 801

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ