رمضان ‘ ہیٹ اسٹروک اور ہم

(شازیہ انوار, Karachi)

رمضان کا مہینہ اس سال بھی شدید گرمی کے ساتھ ہمارے سامنے ہے اور یہ سلسلہ ابھی کئی سال تک چلے گا‘ اس لئے ہمیں اس کی تیاریاں بھی ہر سال کرنا ہوں گی کیونکہ موسم بدل نہیں سکتے اور روزے چھوڑے نہیں جاسکتے۔

رمضان میں ہیٹ اسٹروک کا اندیشہ اس وقت اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے جب روزہ ہو اور باہر دھوپ میں کام بھی کرنا ہو۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ سر اور گردن کو کسی رومال سے لپیٹ کر رکھیں تاکہ سر اور گردن ڈائریکٹ دھوپ سے محفوظ رہیں۔ اللہ نے ہر انسان میں ایک قدرتی کولنگ سسٹم رکھا ہے جو جسم کے درجہ حرارت کو کم رکھتا ہے اور یہ نظام ہے پسینہ آنا۔ہیٹ اسٹروک کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے اور جسم کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کا سب سے بہترین طریقہ ہے احتیاط۔

رمضان میں سحر اور افطار میں پانی اور ٹھنڈی چیزوں کا استعمال زیادہ رکھیں۔ اللہ نے جو سبزیاں اور پھل گرمی میں پیدا کئے ہیں وہ اسی لئے ہیں کہ گرمی کا اثر کم کر سکیں جیسے تربوز میں92% ‘خربوزہ90%‘ آڑو88% اور کینو‘ موسمی87% پانی ہوتا ہے جبکہ سبزیوں میں کھیرا96%‘ ترئی اور چقندر95% اور ٹماٹر94% پانی سے بھرے ہوتے ہیں۔ افطار میں پکوڑوں کےساتھ ٹماٹر کی کچی چٹنی بنائیں ( ٹماٹروں کو بلینڈر میں بلینڈ کر لیں اور اس میں نمک ‘ مرچ‘ پسا ہوازیرہ اور پودینہ ملا لیں)

گرمیوں میں بچوں کو سحر ہو یا ا فطار جیلی بنا کر کھلا ئیں کیونکہ اس میں سارا پانی اور شکر ہی ہوتی ہے۔ دہی کا استعمال زیادہ سے زیادہ رکھیں۔ روٹی سے کھائیں‘ رائتہ بنا کر کھائیں یا لسی ّ بنائیں۔ گرمی میں اور خاص کر رمضان میں دہی ملنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ‘ قیمت بھی بڑھا دیتے ہیں‘اسلئے بہتر یہ ہے کہ ایک چھوٹا مٹی کا کونڈا خرید لیں اور گھر میں دہی جمائیں۔ ایک لیٹر نیم گرم دودھ میں 2کھانے کے چمچے دہی ملا کر کسی گرم جگہ پر رکھ دیں۔ گھر کی تازہ دہی کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے اور اگر میٹھی دہی جمانا چاہتے ہیں تو دودھ گرم کرتے ہوئے چینی ملادیں اور میٹھی دہی جما لیں۔ کھیرا پیاز ٹماٹر کے ساتھ دہی کا رائتہ صحت کےلئے بھی اچھا ہے اور جسم کا درجہ حرارت بھی کم کرتا ہے۔ باہر نکلتے ہوئے اگر تھوڑا سا پیاز کا عرق کان کے پیچھے اور سینے پر لگا لیں تو لو ُ لگنے سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔

گرمیوں میں کیری کا شربت جسے کیری کا پنا کہتے ہیں ‘بھی پیاس کو کم کرنے اور لو ُ لگنے سے بچاتا ہے۔ کیریوں کو چھلکے سمیت اُبال لیں اور جس پانی میں کیریاں اُبالی ہیں وہ بھی ایک گلاس میں الگ رکھ لیں‘ اُبلی کیریاں چھیل کر گو ُدا الگ کر لیں اور تھوڑی چینی‘ پودینہ اور کیریوں کے پانی کےساتھ یکجان کر لیں اور برف ڈال کر پینے سے پیاس کم لگتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب گھروں میں تخم بالنگا بہت استعمال ہوتا تھا‘ لسی ّ اورشربت میں ملا کر پیا جاتا تھا اور بطور خاص رمضان میں بہت ہی فرحت بخش محسوس ہوتا تھا ۔ اس سال آپ بھی تخم بالنگا خرید لائیں‘ ان چھوٹے سے کالے بیجوں کو پانی میں بھگوئیں تو پھول جاتے ہیں اور اندر سے سفید نظر آنے لگتے ہیں۔ پانی کے ساتھ ہی انہیں فرج میں رکھ دیں توکئی روز تک تازہ رہتے ہیں۔ اب لال شربت اور دہی کی لسی ّ بنائیں ‘اس میں تخم بالنگاملائیں اور برف ملاکر استعمال کریں۔ املی کی چٹنی اور املی کا شربت بھی گرمی میں ٹھنڈک پہنچاتے ہیں تو اس رمضان جمائےے گھر میں دہی‘بنائےے طرح طرح کی مزیدار لسی ّ‘ شربت‘رائتے ۔اللہ نے جو فصل گرمی کی بنائی وہ موسم کے حساب سے بنائی‘ اس پر اس کا شکر کیجئے اور استعمال کیجئے!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: شازیہ انوار

Read More Articles by شازیہ انوار: 168 Articles with 174490 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 May, 2019 Views: 278

Comments

آپ کی رائے