"ماں جیسا کوئی کہاں"

(Afshan Sher kalyar, Silanawali Road, Sargodha)
ماؤں کے عالمی دن پر، دنیا کی سب ماؤں کو ایک بیٹی کی طرف سے خراج عقیدت

اولاد کی خاطر اپنی زندگی وقف کرنے والی ہستی کے نام

ماں ایک ایسی ہستی کا نام ہے جو کہ اپنے بچوں کے لئے اپنے جوانی کے دن حتی کہ بڑھاپا تک تیاگ دیتی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق ایک عورت جب ماں بنتی ہے تو اس کی یاداشت ہر بار تھوڑی تھوڑی کم ہوتی جاتی ہے، ایک عورت جب ماں بننے کے مرحلے سے گزر رہی ہوتی ہے تو موت کا فرشتہ اس کے سرہانے کھڑا ہوتا ہے۔چالیس دن تک عورت موت اور زندگی کے درمیان لٹکتی ہے تب ہی تو اس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔ ایک 21،22 سال کی لڑکی جس کا دل ہزاروں امنگوں سے بھرا ہوتا ہے، جو اپنے ماں باپ اور بھائیوں کی بے انتہا لاڈلی ہوتی ہے، وہ جس کی نیند رات بھر سو کے بھی پوری نہیں ہوتی اور جو اپنے گھر میں ہل کر پانی تک نہیں پیتی، وہ ہی لڑکی جب ماں جیسے عظیم رتبے پر فائز ہوتی ہے تو سب لاڈ اور سکھ اپنی اولاد کے لیے اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتی ہے اور ایک ذمہ دار گرہستن کا روپ دھار لیتی ہے۔ وہ لڑکی جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی آنسوؤں کے دریا بہا دیا کرتی تھی وہ ماں بن کر بہت سے دکھ ہنس کر جھیل جاتی ہے۔ اپنی اولاد کے لیے اپنی ہستی کو فراموش کر دیتی ہے۔ جس لڑکی کی جامہ زیبی خاندان بھر میں مقبول ہوتی ہے جب اس کی اولاد پر کوئی دکھ آتا ہے تو کئی کئی دن کپڑے بدلنے کا ہوش نہیں رہتا، وہ لڑکی جو بھوک کی اتنی کچی ہوتی ہے کہ کھانے میں ذرا سی دیر پر طوفان اٹھا دیتی ہے، وہ ماں بن کر سب سے آخر میں کھاتی ہے، اس کو ہمیشہ یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ پتا نہیں اس کی اولاد نے اچھے سے کھایا بھی ہے کہ نہیں۔ جب اولاد بیمار ہو تو ماں کے دل میں کوئی جھانک کر دیکھے، اس کا بس نہیں چلتا کہ اپنی اولاد کے سارے دکھ اپنے پر لے کر اس کو ٹھیک کر دے۔ جیسا کہ کسی سے منقول ہے کہ ایک رات موت کا فرشتہ میرے پاس آیا اور کہا کہ میں تیری ماں کو لینے آیا ہوں، میں نے اس سے کہا کہ میری ماں کو چھوڑ کر مجھے لے جاؤ، فرشتے نے کہا میں لینے تو تجھے ہی آیا تھا مگر تجھ سے پہلے تیری ماں نے سودا کر لیا۔ ماں وہ ہستی ہے جس کی مثال اللہ تعالی نے انسان سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے پسند فرمائی۔ دنیا میں وہ رشتہ ماں ہے جو آپ سے محبت بنا کسی غرض کے کرتا ہے۔ ماں کی آپ سے محبت ایسی ہے جس میں وہ بس دینا جانتی ہے، ماں کی یہ خوبی اللہ تعالی کی اپنی خوبیوں میں سے ودیعت کردہ ہے۔ آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، ماں کی دعا کے حصار میں رہیں گے، اولاد چاہئے کتنی ہی نافرمان کیوں نہ ہو ماں کے دل سے اس کے لیے کوئی بد دعا نہیں نکلتی، اگر کبھی غصے میں بد دعا دے بھی دے تو اگلے لمحے اولاد کی خیر کی دعائیں مانگ رہی ہوتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ماں کے بنا گھر ایک قبرستان کی مانند ہے، جب تک ماں ذندہ ہو انسان کہیں بھی جائے اس کا دل گھر کی طرف کھینچتا رہتا ہے اور جب ماں نہ رہے تو گھر میں چاہئے جتنی بھی رونق کیوں نہ ہو، گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ ماں وہ واحد ہستی ہے جو سراپا ایثار و قربانی ہے، اس کی قربانی اولاد کی پیدائش کے وقت ہی شروع ہو جاتی ہے۔ ہم پوری دنیا کے خزانے بھی ماں کے قدموں کی نظر کر کے اس کی اُس رات کا قرض نہیں اتار سکتے جب وہ خود ہمارے گیلے بستر پر اس ڈر سے سوئی کہ میرے بچے کو ٹھنڈ نہ لگ جائے۔ ماں وہ نعمت ہے جس کا ہم ہزار ہا شکر کریں پھر بھی شکرگزاری میں کمی رہے گی۔ ماں تو مرنے کے بعد بھی اپنی اولاد کے لیے دعا گو رہتی ہو گی۔ جیسا کہ کسی نے پوچھا کہ میری ماں کی وفات کے بعد کون میرے لیے دعا کرے گا تو بہت خوبصورت جواب ملا کر دریا اگر سوکھ بھی جائے تو مٹی میں نمی رہتی ہے ماں کی دعا بھی اسی طرح ہے۔ ماں ایک ایسا مزدور بھی ہے جو بنا کسی صلے کی تمنا کے سال کے 365 دن کام کرتاہے۔ اولاد بیمار ہو تو ماں دن رات ایک کر دیتی ہے اور خود موت کے کنارے پر بھی اپنی اولاد کے آرام کی فکر کرتی رہتی ہے۔ خود آدھی کھا کر اولاد کو پوری کھلاتی ہے اور جب بچے کہیں کہ اور بھی کھا لیں تو بھوک نا ہونے کا بہانہ بناتی ہے۔ ماں تو جھوٹ بھی اپنی اولاد کے لیے بولتی ہے۔ دنیا میں اگر اللہ نے ماں نہ بنائی ہوتی تو یہ دنیا ایک ویرانہ ہوتی۔ آپ سب سے گذارش ہے کہ اپنی ماں کا خیال رکھیں اس عظیم ہستی کی قدر کریں، کیونکہ جب یہ نہیں رہے گی تو آپ کے پاس پچھتاوا رہ جائے گا۔ بابا محمد بخش نے کیا خوب کہا ہے۔

ماں مرے تے پیکے مُک گئے، ویر ٹُرن کنڈ خالی
ماواں بعد محمد بخشا، کون کرے رکھوالی

اللہ تعالی سب کی ماؤں کو سلامت اور ان کے دم سے گھر کو آباد رکھے۔ جن کی مائیں اس دنیا میں نہیں ہیں ان کی ماؤں کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afshan Sher kalyar

Read More Articles by Afshan Sher kalyar: 5 Articles with 3428 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 May, 2019 Views: 1588

Comments

آپ کی رائے