فلم و ڈرامہ انڈسٹری اور معاشرہ

(Ashir Ali, Sialkot)
ترقی ایک مکمل قومی یکجہتی کا نام ہے

ایک وقت تھا جب ہمیں فلم اور ڈرامہ کے ذریعے محتلف سبق آموز واقعات سے روشناس کروایا جاتا تھا ہمیں ہماری تہذیب اور ثقافت کی درست معنوں میں پیروی کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا ہمیں ہماری ابتداء اور انتہا کے بارے معلومات فراہم کی جاتی تھیں ہمیں ہمارے آباؤ اجداد سے واقفیت کےلیے محتلف اقدام کیے جاتے تھے لیکن پھر ہم نے ترقی کر لی پھر ہم خود کو ماڈرن کر لیا پھر ہم نے خود کو مغرب سے ملانا شروع کر دیا اور باقی سب کا سب خاک میں ملتا گیا اور پھر ہم نے اپنی کامیابی اور خوشی کا باعث مغربی تہذیب کو سمجھ لیا اور یہی وجہ ہے کہ ہماری فلم اور ڈرامہ انڈسٹری نے معاشرہ میں ایک بے سکونی کی سی کیفیت طاری کر دی اصل میں فلم اور ڈرامہ انڈسٹری اپنا کردار بھول گئ ہے جب کے حقیقت میں دیکھا جاۓ تو فلم اور ڈرامہ ہی تو وہ ذریعہ تھا جو معاشرہ میں تھکے لوگوں کو سکون فراہم کرنے کے لئے کام کرتا تھا ہمیشہ مثبت پہلوؤں کو ہی اجاگر کرتا تھا جبکہ آج کی حقیقت اس کے بلکل بر عکس ہے ہم جس ترقی کو حاصل کرنے کے لئے دن رات لگے ہوئے ہیں یہ حقیقت میں ہماری تباہی اور صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے غیروں کی چالیں ہیں جس میں ہم جکڑتے جا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کے فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے ذریعے ہمارے معاشرے میں بے امنی پیدا کی جا رہی ہے آج ہمارے معاشرے میں خودکشیاں ، طلاق ، بدتمیزی، جادو اور سکول کالج یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات کا بگاڑ سب کا سب آج کی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کی عطاء ہے لیکن ہم پھر بھی اسے بہتر کرنے یا اس کی بہتری کے لئے آواز اٹھانے سے قاصر ہیں ہماری نسلیں تباہ و برباد ہوتی جا رہی ہیں لیکن ہمیں کوئی پرواہ نہیں آج فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے لکھاری بھی سستی شہرت پانے کے لئے غیروں کے الفاظ اور انداز بیان کرتے ہیں اور ہم بیچارے واہ واہ کرتے ہیں اور بعد میں سب کچھ ہاتھ سے گنوا بیٹھتے ہیں اور رہی سہی کسر اداکار خضرات نکال دیتے ہیں ان کا انداز فن بھی مذہب ، تہذیب اور ثقافت سے بلکل برعکس ہوتا ہے آج ہمارے معاشرے کا بچہ بچہ سر سے لے کر پاؤ تک فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے مطابق اپنا لائف سٹائل بنائے ہوئے ہیں جس کا نقصان یہ ہے کہ مذہب سے دوری اختیار کرتا جارہا ہے اور اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے زبان درازی ، بدتمیزی اور تعلقات میں تناؤ کے نت نئے طریقے بھی ہماری ڈرامہ اور فلم انڈسٹری ہی کی ایجاد ہےآج چھوٹے بڑے کے آداب بھی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کی زد میں آ کر تباہ و برباد ہوتے جارہے ہیں ۔

لہذاہ میں آج اپنی قلم کے ذریعے ایسے تمام حضرات جو بلواسطہ یا بلاواسطہ اس انڈسٹری سے جوڑے ہوئے ہیں سے التجا ہے کے خدارا اس انڈسٹری کو زبو حالی سے بچانے کے لئے اپنے اصل کردار کو پہچانو اور اپنا اصل کردار ادا کرو تا کہ معاشرہ مثبت چیزوں کی جانب گامزن ہو امن کی ، ایمان کی ، اتحاد کی ، اور یقین کی فضاء پیدا ہو۔ اور میری دعا ہے کہ خدا تعالی میری اس عرض پاک کو نظر بد سے بچائے اور دن دگنی اور رات چگنی ترقیاں عطا کرے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 149 Print Article Print
About the Author: Ashir Ali

Read More Articles by Ashir Ali: 9 Articles with 1967 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

MERAY BHAEE........BARAY AFSOS KA MAQAM HAI KE HUM MUSALMAN HO KAR BHI FILMON AUR DARAMON SE APNA IKHLAQ AADAAT AUR TARZ-E-ZINDAGI BANANA CHAHTAY HAIN......HALANKAY ISS QURAN SE NON MUSLIMS NE WO KUCH SEEKHA HAI AUR WO RESEARCH KI HAI KE BANDA HERAAN REH JATA HAI.........TV AUR FILM ENTERTAINMENT AUR TIME PASS KI HAD TAK THEEK HAI BUS.........INKO SAR PE CHARHANA AUR DILL MEIN SAMANA THEEK NAHIN .....
By: MUHAMMAD MUSHTAQ, Rawalpindi on May, 16 2019
Reply Reply
0 Like
Language: