روحانی ماہر

(Syed Talha Safdar, Karachi)
آج میرے ملک میں ہر دوسرا شخص روحانیت کی دکان کھولے بیٹھا ہے اور سادہ مزاج لوگوں کو بے سر پیر کے روحانی و نفسی علاج،
وظیفے و تسبیحات وغیرہ تجویز کررہا ہے.

ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں درستگی لائی جائے. انہیں تفرقہ کی آگ سے نکالا جائے اور انہیں قران حکیم سمجھنے پر راغب کیا جائے.

گھر سے آفس تک کے سفر میں مجھے اتنا وقت میسر ہوتا ہے کہ میں کسی نہ کسی علمی سرگرمی کو اپنا سکوں.
پھر چاہے وہ کتاب پڑھنا ہو،
کوئی لیکچر سننا ہو یا پھر کسی بات پر غور و فکر کرنا.
دوران سفر میں وقت نکال پاتا ہوں.
ایسی ہی ایک شب آفس سے گھر واپسی پر پیدل جا رہا تھا اور ذہن کسی خاص آیت قرانی پر غور میں مشغول تھا.
ایسی حالت میں جب مگن ہوتا ہوں تو کئی بار ایسا ہوا ہے کہ مجھ سے میرے جاننے والو نے شکوہ کیا کہ ہم آپ کو آوازیں دیتے رہے اور آپ نے سر اٹھا کر بھی نہ دیکھا.

خیر تو میں کہہ رہا تھا کہ میں کسی آیت پر غور کرتا ہوا خراماں خراماں گھر جارہا تھا
جب کسی نے بلکل سر پر آکر مجھے تحکمانہ انداز میں مخاطب کیا. …
“فکر نہ کرو ، جلد تمھاری مشکل آسان ہوجائے گی” ….
میں نے چونک کر اپنی داہنی جانب دیکھا تو کم و بیش میرا ہی ہم عمر ایک انسان مجھ سے مخاطب تھا.
شیو بڑھی ہوئی،
بال الجھے ہوئے،
کپڑے بے ہنگم
اور صحت خستہ.
میں نے اس سے مسکرا کر پوچھا ..
“آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟” ..
اس شخص نے اسی شاہانہ شان سے اثبات میں سر ہلایا اور دہرایا …
“فکر نہ کرو ،
جلد تمھاری مشکل آسان ہوجائے گی” ….
میں نے مسکراتے ہوئے تعجب سے پوچھا کہ
“کیسی مشکل؟” ..
اس نے کہا ..
“وہی زندگی کی مشکل جس کے بارے میں تم ابھی ابھی سوچ رہے تھے” …
میں نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا …
“میں تو کسی زندگی کی مشکل کے بارے میں نہ سوچ رہا تھا، بلکہ ایک آیت قرانی پر تدبر کررہا تھا” …
اب وہ سٹپٹایا ..
پھر سنبھل کے اسی تحکمانہ بھاری آواز میں کہا …
” فکر نہ کرو میں جانتا ہوں کہ تم بہت پریشان ہو،
تمہاری ساری پریشانیوں کا علاج ہے میرے پاس” …
میں دھیمے سے ہنسا اور بولا کہ …
“بہت شکریہ بھائی مگر میں تو الحمدللہ ذرا سا بھی پریشان نہیں بلکہ پوری طرح پرسکون ہوں” …
اب اس بھائی کے چہرے پر شدید الجھن کے آثار تھے،
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب مجھے کیا کہے؟
شائد یہ بات اس کے تصور میں بھی نہ تھی کہ اس کا مخاطب کسی بھی پریشانی اور تکلیف کا شکوہ نہیں رکھتا ..
کچھ دیر سوچ کر بولا ..
“مجھے روحانیت عطا کی گئی ہے اور میں تمہارے مسائل حل کرسکتا ہوں” …
میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے وہی جواب دہرا دیا کہ …
“میں تو پہلے ہی اللہ کی رحمتوں سے سرشار ہوں …
البتہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمھیں یہ کس نے بتایا کہ تمھیں روحانیت عطا ہوئی ہے؟” …
اب اس نے تفصیل بتائی جس کے مطابق ان کے گاؤں میں کوئی پیر صاحب تھے جنہوں نے اس کے سینے میں روحانیت منتقل کردی ہے اور اب وہ اپنا ہاتھ کسی کے بھی سینے پر رکھ کر اسے خوشی سے سرشار کرسکتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ اس نے پوری شدومد سے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر دبایا اور پھر اعتماد سے فخریہ پوچھا ۔۔۔
”کیسا محسوس ہوا؟”۔۔۔
میں نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔
“بلکل ویسا ہی جیسا آپ کے ہاتھ رکھنے سے پہلے محسوس ہورہا تھا”۔۔۔
میرے اس بھائی کے چہرے پر شدید بیچارگی تھی۔
.
میں نے اسے سمجھایا کہ روحانیت کوئی ایسی جادوئی شے نہیں جو عبادات و معاملات میں درستگی کے بغیر کسی پیر یا مولوی سے عطا ہوجائے.
میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اللہ کی کتاب کو سمجھ کر پڑھا ہے تو اس نے تذبذب سے نفی میں سر ہلادیا. میں نے سمجھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تم دین اسلام میں روحانیت کا حصول کرنا چاہو اور اس کلام کو کبھی سمجھو ہی نہیں جو تمہارے رب نے نازل کیا ہے؟
میں اسے کافی دیر سمجھاتا رہا.
اسے بھی میری باتیں کسی حد تک سمجھ آنے لگی تھیں مگر شاید ابھی بھی اس کا ذہن اپنے روحانی ماہر نہ ہونے کا اقرار نہ کرپارہا تھا.
لہٰذا بولا کہ میں تمھیں آیات قرانی کا ایک ایسا طاقتور وظیفہ دیتا ہوں جس سے تمھاری ہر مراد پوری ہوسکے گی.
یہ کہہ کر اس نے اللہ کے دو متفرق صفاتی نام بیان کرکے مجھے صبح شام اسے مخصوص تعداد میں پڑھنے کا تقاضہ کیا.
میں نے مسکرا کر کہا
کہ ٹھیک ہے میں انہیں پڑھ لوں گا مگر کیا تم مجھ سے وعدہ کرتے ہو کہ کتاب الہی سمجھ کر پڑھو گے؟
اس نے ارادہ کیا اور شائد چاہا کہ میں اسے مزید کچھ قران حکیم کے بارے میں بیان کروں.
میں دیر تک اسے قران کا پیغام سمجھاتا رہا.
جب بات مکمل ہوگئی تو ساتھ ہی اس نے خود پر چڑھی روحانیت کی نقاب بھی اتار پھینکی.
میں نے اس کے حالات پوچھے تو قریب قریب روتے ہوئے اس نے اپنی زندگی کی اذیتیں بتانا شروع کیں.
اس نے بتایا کہ کیسے کیسے اسے اس کے سگوں نے دھوکہ دیا اور ذلیل کیا.
یہ بیان کرتے ہوئے کبھی وہ نم دیدہ اور کبھی غصہ سے آگ بگولہ ہوجاتا.
اسی دوران جذبات میں اس نے پنجابی اور اردو دونوں زبانوں میں بھرپور تلفظ کے ساتھ ماں بہن کی گالیاں بھی دیں.
وہ شخص جو کچھ دیر پہلے میری ہر اذیت دور کرنے کا روحانی علاج بتانا چاہتا تھا اور جسے خود پر ایک کامل صوفی ہونے کا گمان تھا،
اس وقت مجھے شدید کرب میں مبتلا ایک ہارا ہوا انسان نظر آرہا تھا.
جاتے ہوئے اس نے میرا نمبر لیا اور رخصت ہوگیا.
دوسرے دن اس کی کال آئی اور اس نے پھر ملنے کی درخوست کی.
جس پر ہم ایک بار پھر ملے.
اس بار وہ بولنے سے زیادہ سننا چاہتا تھا.
یہ اس سے آخری ملاقات تھی.
اور مجھے امید ہے کہ وہ کم ازکم روحانی ہونے کے اس دھوکے سے باہر آگیا تھا
جس نے اس کے طرز تخاطب کو متکبرانہ بنا رکھا تھا.

افسوس ہے کہ آج میرے ملک میں ہر دوسرا شخص روحانیت کی دکان کھولے بیٹھا ہے اور سادہ مزاج لوگوں کو بے سر پیر کے روحانی و نفسی علاج،
وظیفے و تسبیحات وغیرہ تجویز کررہا ہے.

ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں درستگی لائی جائے. انہیں تفرقہ کی آگ سے نکالا جائے اور انہیں قران حکیم سمجھنے پر راغب کیا جائے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Talha Safdar

Read More Articles by Syed Talha Safdar: 7 Articles with 2420 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 May, 2019 Views: 379

Comments

آپ کی رائے