ماں دنیا کا آخری کنارا ہے

(Aslam Lodhi, Lahore)
مدر ڈے کے حوالے

’’ماں‘‘ کا لفظ زبان پر آتے ہی انسانی ذہن میں گھنی ٹھنڈی چھاؤں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ماں کی محبت اور بے لوث چاہت زندگی کے تپتے صحرا میں ایک محفوظ پناہ گاہ کی مانند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو ذرا بھی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کی زبان سے بے ساختہ ’’ماں‘‘ کا لفظ ہی ادا ہوتاہے۔ اسلامی معاشرے میں ماں کواہم مقام حاصل ہے یہ لفظ ایثار محبت اور چاہت کا سرچشمہ ہے۔ خود اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے۔ ماں انسان کی ہو یا جانور کی۔ اپنی اولاد سے اس کی بے لوث محبت کو دنیا کے کسی پیمانے پر ماپا نہیں جاسکتا۔ایک بادشاہ نے خوبصورت بچوں کو اپنے دربار میں بلا کر ایک عورت سے پوچھا کہ ان بچوں میں سب سے خوبصورت کونسا ہے۔ بادشاہ کو توقع تھی کہ یہ عورت سب سے خوش لباس‘ خوبصورت اور توانا بچے کی جانب ہی اشارہ کرے گی۔ لیکن جب فیصلے کی گھڑی آئی تو اس عورت نے تمام بچوں پر ایک نظر دوڑا کر اپنے بچے کی جانب دیکھا جس نے پھٹے پرانے کپڑے پہن رکھے تھے ‘ ناک بہہ رہی تھی ‘ بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے کہا بادشاہ سلامت ‘ بچے تو سبھی پیارے ہیں لیکن مجھے اپنا ہی بچہ سب سے خوبصورت نظر آتا ہے بادشاہ کو وزیر کی یہ بات ماننی پڑی کہ ماں کو اپنی اولاد سے زیادہ کوئی بچہ خوبصورت دکھائی نہیں دیتا۔اگر آج بھی دنیا میں کوئی چیز خالص ملتی ہے تو وہ ماں کی محبت ہے۔ دنیا کی تمام محبتیں اور چاہتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ کہاجاتاہے کہ ماں اور رب کے درمیان صرف ایک پردہ ہے۔ اس لئے کسی بھی ماں کی بددعا سے بچنا چاہئے۔میڈیکل سائنس کے حوالے سے چند ڈاکٹروں نے جانوروں میں ماں کی ممتا جاننے کے لیے ایک انوکھا تجربہ کیا۔انہوں نے اپنے اس تجربے کا محرک ایک مرغی اور اس کے چوزوں کو بنایا سب سے پہلے مرغی کا تفصیلی میڈیکل چیک کیا گیااور تمام ڈاکٹر زاس بات پر متفق نظر آئے کہ مرغی بالکل صحت مند ہے اور اس کا تمام تر اندرونی نظام نارمل حالت میں ہے۔ پھراس مرغی کا ایک بچہ اٹھا کر اس کی نظروں سے اوجھل کر دیاگیا ۔ مرغی نے ایک بچے کو غائب پا کر بے تابی اور بیقراری سے نہ صرف ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا بلکہ اپنی چیخ و پکار سے آسمان اٹھالیا۔ جب مرغی مایوس ہو کر ایک جگہ بیٹھ گئی تو ڈاکٹروں نے اس مرغی کو پکڑ کر پھر طبی معائنہ کیا وہ حیران ہوگئے کہ دل کی کئی شریانوں میں خون منجمد ہو چکا تھا اور دل کی دھڑکن بھی پہلے کی نسبت بے ترتیب تھی کچھ دیر بعداٹھایا ہوا چوزہ چھوڑ دیاگیا جو دوڑتاہوا مرغی کے پاس جا پہنچا۔ مرغی نے جیسے ہی کھوئے ہوئے چوزے کو دیکھا چند لمحوں میں ہی اس کی رگوں میں منجمد ہونے والا خون رواں ہو گیا۔ جب دوبارہ طبی معائنہ کیا گیا تو ڈاکٹر حیران رہ گئے کہ اب مرغی کا اندرونی سسٹم بالکل ٹھیک حالت میں تھا دل کی دھڑکن بھی نارمل ہوچکی تھی ۔ ڈاکٹراس نتیجے پر پہنچے کہ انسانوں کی طرح جانوروں میں بھی ماں کی ممتا کا عنصر غالب ہے۔حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عورت جو ایک کتیا کے سبب اﷲ کے ہاں مقبول ہو گئی۔ وہ عورت جنگل میں کہیں جا رہی تھی۔ راستے میں کتیا کے بچے پیاس کے مارے بلک رہے تھے اس عورت نے ادھر ادھر پانی تلاش کیا آخر کچھ دور ایک کنواں دیکھا لیکن کنویں سے پانی نکالنے کیلئے نہ تو رسی ملی اور نہ ہی ڈول چنانچہ عورت نے اپنے دوپٹے کو رسی بنا کر کنویں سے پانی نکالا اور کتیا کے بچوں کی پیاس بجھائی۔ کتیا نے پانی پی کر آسمان کی طرف دیکھا اور ایک آواز نکالی گویا اس نے دعا کی جو رحمت خداوندی میں اسی وقت مقبول ہو گئی۔ اس طرح کتیا اور اس کے بچوں کو پانی پلانے والی عورت مقبول بارگاہِ الٰہی ہو گئی۔سچ تو یہ ہے کہ وہ گھر جنت کا روپ دھار لیتا ہے جہاں ماں جیسی عظیم ہستی موجود ہوتی ہے اور جب جنت ارضی کا کوئی گوشہ ماں کی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے تو جنت ارضی کا وہ ٹکڑا بھی صحرا اور ویرانوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔کسی نے پوچھا ماں کیا ہے؟ سمندر نے کہا ماں ایک ایسی ہستی ہے جو اولاد کے لاکھوں راز اپنے سینے میں چھپا سکتی ہے۔ بادل نے کہا ماں ایسی دھنک ہے جس میں ہر رنگ نمایاں ہوتا ہے شاعر نے کہا ماں ایک ایسی غزل ہے جو سننے والے کے سینے میں اتر جاتی ہے۔ مالی نے کہا ماں گلشن کا وہ دلکش پھول ہے جس میں خوبصورتی نمایاں ہوتی ہے۔ بیٹے نے کہا ممتا ایسی انمول داستان ہے جو ہر دل پر قربان ہے۔ رائٹر نے کہا ماں وہ ہستی ہے جس کی تعریف کیلئے دنیا میں الفاظ نہیں ملتے۔ دعا نے کہا ماں وہ شخصیت ہے جو ہر وقت اپنی اولاد کی خوشی کیلئے دعا مانگتی ہے ‘ جنت نے کہا ماں وہ ہستی ہے کہ میں اس کے قدموں تلے رہنا پسندکرتی ہوں۔ خدا نے کہا ماں میری طرف سے انسان کیلئے سب سے قیمتی ‘ انمول اور نایاب تحفہ ہے‘ بچے نے کہا مجھے پھول اور ماں میں فرق نظر نہیں آتادونوں میں خوشی بھی ہے اور خوشبو بھی ۔ لیکن میر ی رائے میں ماں دنیا کا آخری کنارہ ہے جس کے بعد دنیا ختم ہوجاتی ہے ۔وہ خوش نصیب ہیں جن کی مائیں زندہ ہیں۔حسن اتفاق سے گرمی کے موسم میں ہی عالمی سطح پر ماؤں کا عالمی دن منایا جاتاہے دوسری ماؤں کی طرح میری ماں کی شخصیت میں بھی وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں جو قدرت نے ہر ماں کی شخصیت میں ودیعت کررکھی ہیں ۔ایک دن میں نے اپنی ماں (ہدایت بیگم ) سے پوچھا آپ مجھے کتنی محبت کرتی ہیں ۔والدہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔فرمایا میری محبت کو دنیا کا کوئی پیمانہ ماپ نہیں سکتا ۔میں نے نہایت ادب سے جواب دیاماں جی آپ جتنی محبت مجھ سے کرتی ہیں میں اس سے دو گنازیادہ محبت آپ سے کرتاہوں ۔میرے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے کبھی پریشان نہیں ہونا میرے لیے آپ کا حکم قانون کا درجہ رکھتا ہے ۔ اﷲ کا لاکھ شکر ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک ماں اور باپ دونوں مجھ سے خوش رہے ‘ یہی وجہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی وہ زندگی میں اسی طرح موجود ہیں جیسے زندگی میں ہواکرتے تھے ۔ کسی نے کیا خوب کہاکہ مائیں بظاہر جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوجاتی ہیں لیکن ان کی دعائیں ہمیشہ اپنی اولاد کے اردگرد حصار بنائے رکھتی ہیں ۔یہ اتفاق کی بات ہے کہ دنیا سے جانے کے بعد ماں کی اہمیت کا پتہ چلتاہے ۔ایک دوست اویس سرور کی والدہ دو ماہ پہلے اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال کرگئی پہلے کبھی اس کی زبان سے ماں کا نام نہیں سنا تھالیکن اب اس کی گفتگو ماں سے ہی شروع ہوتی ہے اور ماں کی باتوں پر ہی ختم ہوتی ہے کاش ہم زندگی میں بھی ماں جیسے انمول رشتے کی اتنی ہی قدرکریں جتنی جدائی کے بعد کرتے ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280823 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2019 Views: 193

Comments

آپ کی رائے