پانچ سیکنڈز کی محبت - قسط 1

(Qaisar Shahzad Khan, Mianwali)

وہ آئی، میری خاتون کولیگ کو سلام کیا، مسکرائی، بائیں طرف دیکھا میں کھڑا تھا، سنجیدہ شکل بنائی، چلی گئی اور مجھے پیار ہوگیا.

وہ ہمارے ساتھ والے آفس کی نئی سٹاف ممبر تھی. آج شاید اُسکا دوسرا دن تھا، میں نے پہلی بار اُسے دیکھا اور فنا ہو گیا. لمبا قد، گورا سفید رنگ، گلابی رنگ کے پتلے ہونٹ، پتلی ناک، کالی سیاہ آنکھیں، لباس اور سَر کالے رنگ کے ابائے سے ڈھکا ہوا، پاؤں میں سُرخ رنگ کی جوتی، دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے ساتھ والی اُنگلی میں سفید رنگ کی چمکتی انگوٹھی، دائیں کُہنی پر سیاہ رنگ کا بریسلٹ، بائیں کُہنی پر سُرخ رنگ کی پتلی سی گھڑی، گویا کہ کالے اور سُرخ رنگوں میں ڈھلی ہوئی لڑکی اور اُس میں سفید گورا مکھڑا، وہ لڑکی نہیں تھی آفت تھی، لہذا میرا عشق کرنا تو طے تھا.

وہ اپنے آفس میں چلی گئی اور میں اپنے آفس میں بیٹھ کر کام کرنے لگ گیا. اگلے دن میں آیا تو اُس کے دفتر اور میرے دفتر کے Intersection(ایسی جگہ جہاں دو جگہوں کا ملاپ ہوتا ہے) وہاں اُنے دفتر کا پورا سٹاف کھڑا تھا اور اُنہیں آج کے کام کی ہدایات دی جا رہی تھیں. اُس جگہ کی entry اور exit تک یعنی کہ گیٹ کے اندر داخل ہو کر وہ جگہ نظر آئے جہاں اُنکا سٹاف کھڑا ہوتا اور اپنے آفس میں جانے تک میرے پانچ سیکنڈز لگتے تھے. میں نے ان پانچ سیکنڈذ میں اُسے دیکھا اور دفتر کے اندر چلا گیا. ہدایات لے کر وہ اپنے دفتر چلی گئی. وہ کام میں مصروف ہو گئی جبکہ میں اُسکے سحر میں کھو گیا. میں اُس سے پیار کرنے لگا تھا. یہ پیار حُسن کی وجہ سے ہوا تھا یا اُسکی پہلی بار دیکھنے کی ادا سے، یہ نہیں پتا لیکن صرف اتنا پتا تھا کہ مجھے اس سے پیار ہو گیا ہے. میں اگلے دن پھر اُسی ٹائم پر آیا وہ پھر سٹاف کے ہمراہ وہیں کھڑی تھی. میں پھر پانچ سیکنڈذ کیلئے اُسے دیکھ کر اپنے دفتر چلا گیا. دن میں یہی پانچ سیکنڈز تھے جن میں مجھے وہ نظر آتی تھی. اور مجھے ان پانچ سیکنڈذ کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے چھیاسی ہزار تین سو پچانوے مشکل سیکنڈذ گزارنے پڑتے تھے. میں ان پانچ سیکنڈذ سے لطف اندوز ہوتا اور پھر پورا دن اگلے دن کے پانچ سیکنڈ کے انتظار میں گزار دیتا. میں نے اُسکی آواز تک نہیں سنی تھی اور نا ہی مجھے اسکے نام کا پتا تھا، اسکے باوجود اتنی شدت سے اسکے لیے اپنے دل میں چاہت اور محبت پیدا کر بیٹھا تھا. میں پورا دن پوری رات اُسکی شکل کا نقشہ ذہن میں بناتا اور اُسکے سحر میں کھویا رہتا اگر میں کسی دن صبح لیٹ ہو جاتا جو کہ بہت کم ہوتا تھا یا وہ لیٹ آتی یا چھٹی کر لیتی تو یہ پانچ سیکنڈ بھی نصیب نہ ہوتے اور پھر اتوار کی چھٹی کے پانچ سیکنڈ بھی ضائع ہو جاتے، جو میرا انتظار مزید بڑھا دیتے.

(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qaisar Shahzad Khan

Read More Articles by Qaisar Shahzad Khan: 4 Articles with 1685 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2019 Views: 456

Comments

آپ کی رائے