ماہ رمضان وفات ام المومنین خدیجۃ الکبری رضی اﷲ عنہا

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: ام کلثوم ابڑو، لاڑکانہ
وہ ہستی جو پاکیزہ اخلاق کی وجہ سے طاہرہ لقب سے مشہور ہوئیں۔ جو حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے نکاح کے بعد ام المومنین یعنی مومنوں کی ماں کہلائیں، وہ اماں خدیجۃ الکبری رضی اﷲ عنہا بنت خویلد ہیں۔ آپ کی کنیت ام ہند تھی۔ ان کا نسب چار آبا ء کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ سلم سے مل جاتا ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا۔ حضرت خدیجۃ الکبری رضی اﷲ عنہا عام الفیل یعنی ہاتھیوں والے سال سے 15 سال پہلے پیدا ہوئیں۔

والد اور شوہر کی وفات کے بعد ان کے ذریعہ معاش یعنی تجارت کے لیے کوئی نگران مقرر نہ تھا۔ اپنے عزیزوں کو رقم دے کر مال کی تجارت کے لیے بھیجتی تھیں۔ ایک مرتبہ مال تجارت کی روانگی کے وقت جب کسی کی ضرورت پڑی، چونکہ آقا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ میں امین کے نام سے مشہور تھے تو حضرت خدیجہ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ ان کا مال لے کر جائیں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم وہ مال لے کر گئے اور اسی سال حضرت خدیجہ رضی اﷲ کے مال کا نفع گزشتہ سال کے نفع سے دوگنا تھا۔

حضرت خدیجہ نہایت شریفانہ اخلاق کی مالک تھیں، اس لیے لوگ ان سے نکاح کے خواہاں تھے لیکن اماں خدیجہ حرم نبوت ہوکر ام المومنین کے شرف سے ممتاز ہوئیں۔ ان کا نکاح ہوا جس میں مہر 500 طلائی درہم مقرر ہوا۔ اس وقت آقا صلی اﷲ علیہ وسلم کی عمر 25 سال اور حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کی عمر 40 سال تھی۔ جب امت کے پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کو نبوت ملی اور ام المومنین کو اس کی خبر دی تو سب سے پہلے وہ ایمان لے آئیں۔

نبوت سے پہلے نماز فرض نہ تھی لیکن آقائے نامدار جب نوافل ادا فرماتے تو ام المومنین ان کے ساتھ شامل ہوجاتیں۔ ام المومنین نے صرف نبوت کی تصدیق کر کے بات ختم نہ کی بلکہ انہوں نے ہر قدم پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدد فرمائی اور وہ مدد مالی بھی تھی اور جب کفار طرح طرح سے تکالیف دیتے تب بھی ایک بہترین ساتھی کی طرح دلجوئی فرماتی تھیں اور کسی وقت ان کا ساتھ نہ چھوڑتی تھیں۔

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اولاد ان ہی کے بطن مبارک سے ہوئی یہ اعزاز بھی ام المومنین حضرت خدیجہ کے حصے میں آیا۔ پہلی بیوی بننے کا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا اور ان کی موجودگی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دوسرا نکاح نہ فرما کر یہ اعزاز بھی اماں خدیجہ کے حصے میں ڈالا۔ ان کی وفات 11 رمضان 10 نبوی میں ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر 64 سال 6 ماہ تھی۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو خود قبر مبارک میں اتار کر دفن فرمایا اور آپ کی قبر مبارک حجون میں ہے۔ اس سال کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے غم کا سال قرار دیا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 141 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1043 Articles with 295079 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: