مرے ہاتھ میں قلم ہے

(Ibnul Hussain Abidi, )

ابلاغی ذرائع نے زمین کی طنابیں کھینچ لیں ہیں۔ اس وقت پوری دنیا پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا راج ہے۔ یہ میڈیا کا ہی کرشمہ ہے کہ مشرق میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو لمحہ بھر میں اس کی ساری تفصیلات اقصائے مغرب میں رہنے والوں کے سامنے آجاتی ہے۔ اس لیے کہاجاتا ہے یہ گلوبلائزیشن کا دور ہے۔گویا کائنات ہستی سمٹ گئی ہے اور اس نے ایک چھوٹی سی بستی اور گاؤں کی صورت اختیار کرلی ہے۔ اس ’’چھوٹی سی بستیـ‘‘ پر میڈیا کا راج ہے۔ وہ دن کو رات اور رات کو دن کہے تو لو گ انہیں کا گیت گاتے ہیں اور شومئی قسمت سے میڈیا پر کفار اور اس کے نمک خوار کا قبضہ ہے جن کا وطیرہ ہی دین کا درد رکھنے والوں کو دہشت گرد اور انتہاپسند ظاہر کرنا ہے۔ دینی مدارس کو غلط رخ سے پیش کرنے کی ناپاک جسارت کی جاتی ہے۔ٹوپی ڈاڑھی اور ملا گالی کا روپ اختیار کرچکے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ہو،پرنٹ ہو یا سوشل ہرجگہ صورت حال مایوس کن ہے۔ صحافیوں کی ایک کھیپ معاضہ لے کر اپنے ایمان کے عوض اس دھندے میں ملوث ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق امریکا ہرسال ایک ارب ڈالر خرچ کرکے صحافیوں کو اپنے مفاد میں استعمال کرتا ہے۔ مغربی میڈیا کی اسلام اور اہل اسلام دشمنی اور جانب داری کا اندازہ آپ اس واقعہ سے بخوبی لگاسکتے ہیں۔

نیویارک میں ایک کتا راہ گیر کو خون خوار نظروں سے گھور رہا تھا۔ ابھی وہ راہ گیر پر جھپٹنے ہی والا تھا کہ ایک بہادر شخص نے کتے کو گردن سے دبوچ کر اس کا ٹینٹوا دبادیا۔ لوگ اس کی بہادری کے ترانے گانے لگے۔ مقابی اخبار کے ایک رپورٹر نے جذبہ سے سرشار ہوکرکہا کل اخبار کی سرخی ہوگی کہ ایک نیویارکر نے اپنی جان پہ کھیل کر ایک شخص کو کتے کے پنجوں سے بچاڈالا۔بہادر آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن میں نیویارک کا شہری نہیں ہوں۔ رپورٹر نے کہا کوئی بات نہیں کل کی سرخی پھر یوں ہوگی’’ایک امریکی نے اپنی جان پہ کھیل کر ایک شخص کو کتے کے منہ سے بچاڈالا‘‘۔ اس شخص نے کہا مائی ڈیئر! میں امریکی بھی نہیں ہوں۔ رپورٹر نے اس بار قدرے جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے ہوئے کہا اگر آپ نیویارکر بھی نہیں ہو اور امریکی بھی نہیں، تو کہاں کے باشندے ہیں؟اس شخص نے فخریہ لہجے میں کہا میں پاکستان کا رہنے والا ہوں۔ یہ سنتے ہی رپورٹر طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے چل دیا۔کل اخبار کی سرخی کچھ یوں تھی ’’ایک پاکستانی شدت پسند نے کتے کو گردن سے دبوچ کر مارڈالا‘‘۔

میں نے یہ واقعہ مشتے نمونہ ازخروارے کے طور پر آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ آپ مغربی میڈیا کی تاریخ پہ سرسری نگاہ ڈالیں، ان کی ہردوسری رپورٹ، تجزیہ اور فیچر مسلم دشمنی سے عبارت ہوگا۔ افغانستان اور عراق پر حملہ آور ہونے سے قبل کیا ہواتھا؟ مغربی میڈیا نے ہوّا کھڑا کیا کہ عراق میں خطرناک اسلحے کے انبار ہیں اور پھر بغیر کسی ثبوت کے امریکا عراق پہ چڑھ دوڑا۔ افغانستان پرالزام دھراکہ نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ تمہارے پاس ہیں، میڈیا پر اتنا واویلا مچایا گیا کہ جھوٹ سچ باور ہونے لگا۔ آج تک مثالی اسلامی مملکت افغانستان کے خلاف ثبوت بہم نہیں پہنچائے گئے۔ بلکہ تحقیق کے تمام ڈانڈے یہودیت کی دجالی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

میں جب مغربی میڈیا کی دیدہ دلیری اور مسلم دنیا کی بے حسی دیکھتا ہوں تو مایوسی کا گھٹا ٹوپ اندھیرا مجھ پر چھانے لگتاہے۔ لیکن دوسری طرف جب میری نظر ’’صدائے ربانیہ‘‘ جیسے ٹمٹماتے چراغوں پر پڑتی ہے تو مجھے امید کی کرندکھائی دینے لگتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دین کا درد رکھنے والے افراد نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر ایک ہی صف میں کھڑے ہوجائیں کہ نہ کوئی بندہ رہے اور نہ ہی کوئی بندہ نواز۔

میری تمام امیدیں قوم کا سرمایہ آج کے طالب علم سے وابستہ ہیں، مستقبل میں انہیں کے دم سے معاشرہ کی رونقیں اپنی جوبن پر ہوتی ہیں۔ ان کا ذہن صاف سلیٹ کی طرح ہوتا ہے اس پر جوبھی لکھا جائے وہ پتھر پر لکیر کی طرح ہمیشہ رقم رہتا ہے۔ طالب علم دور حاضر کے چیلنج کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔ مسلمانوں کے دین وتہذیب کی نگہبانی آپ ہی نے کرنی ہے، میڈیاوار میں اہل حق کی طرف سے کردار آپ ہی نے ادا کرنا ہے۔ اگر آپ نے اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کیا تو پھر تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

اﷲ تعالی نے ’’صدائے ربانیہ‘‘ کی صورت میں آپ کوموقع فراہم کیا ہے۔اس سے خوب استفادہ کیجیے۔ شیخ الحدیث مولانا نور الھدی ، استاذ الحدیث مولانا شمس الھدی اور دیگر اہل قلم کی تحریروں سے اپنی ذہنی اور ادبی نشونما کیجیے ۔ مطالعہ کو حرزجاں بنائیے۔ کیوں کہ جب تک آپ مطالعہ نہیں کریں آپ ڈھنگ کی ایک سطر بھی نہیں لکھ پائیں گے۔چہ جائے کہ باطل نظریات کے حامل افراد کا منہ توڑ جواب دیں۔ میں جب فیس بک پر اہل باطل کی قلمی جولانیوں میں اساس دین پر ضرب لگتے دیکھتا ہوں اور دوسری طرف دینی مدارس سے نتھی افراد کی بے ربط تحریر، دلیل سے عاری زبان، غیر شائستہ لب ولہجہ ملاحظہ کرتا ہوں تو افسوس سے ہاتھ ملتا رہ جاتاہوں۔ خدارا مطالعہ کو اپنے معمولات میں شامل کیجیے۔ روز کسی نہ کسی خارجی کتاب کے چند صفحات کا مطالعہ فرض جانیے۔کیوں کہ مطالعہ کے بعد ہی آپ صحیح معنوں میں قلم ہاتھ میں اٹھاسکیں گے اور جب آپ کے ہاتھ میں قلم ہوگا تو آپ گنگناتے ہوئے کہہ سکیں گے کہ
مرے ہاتھ میں قلم ہے مرے ذہن میں اجالا
مجھے کیا ڈر اسکے گا یہ ظلمتوں کا پالا
مجھے فکر امن عالم کی تجھے اپنے آپ کا غم
میں طلوع ہورہاہوں تو غروب ہونے والا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ibnul Hussain Abidi

Read More Articles by Ibnul Hussain Abidi: 60 Articles with 33118 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2019 Views: 357

Comments

آپ کی رائے