دو رنگی چھوڑ کر یک رنگ ہوجا

(Ansar Mehmood Babar, )

حسن ِاخلاق کیا ہے؟۔میں نے سوال کیا۔جواباً وہ مسکرائے توان کی نیم واروشن آنکھیں کچھ اور چمکنے لگیں اورمیرے من میں ٹھنڈک سی اترنے لگی۔وہ شفیق دھیمے لہجے میں فرما نے لگے کہ دیکھوبیٹامثال کے طورپر آپ نے کسی کاادھارچکاناہواورآپ کے پاس گنجائش نہ نکل رہی ہو۔باربارکی وعدہ خلافی سے شرمندگی آپ کو گھیرے میں لے لے اورایسے میں آپ کااچانک اس شخص سے سامناہوجائے جس کا آپ نے ادھاردیناہے تواس وقت جس خوش اخلاقی سے آپ معذرت کرتے ہیں اورجلد ادھار واپس کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔وہی رویہ اور شائستگی زندگی میں عام لوگوں سے بے غرض ہوکراپناناحسن ِاخلاق ہے‘‘۔وہ سانس لینے کو رکے تومیرے لئے ادراک ومعانی کاایک نیادرکھلنے لگا۔

منافقت کیاہے؟۔میں نے پوچھاتوایک لمحے کوان کی آنکھوں میں جلال ساجھلکا۔دوسرے ہی لمحے اپنے مخصوص اندازمیں گویاہوئے۔’’بچوں کوان کے پچپن میں قدم قدم چلناسکھایاجاتاہے اوراس دوران بچے کو اپنی بانہوں کے حلقے میں رکھاجاتاہے تاکہ گرنہ پڑے۔توپھرکیاوجہ ہے کہ جب وہ چلناسیکھ جاتاہے تواس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں؟‘‘۔میں دم بخودانھیں سن رہاتھا۔اپنی بات کوانھوں نے آگے بڑھایا۔’’جنازے کو بھاگ بھاگ کر کندھادیتے ہواورزندوں سے زندگی کے سہارے چھین لیتے ہو‘‘۔ان کا لہجہ اگرچہ بدستوردھیما تھامگران کی گفتگوکے اندازاورالفاظ کے چناؤسے جلال جھلک رہاتھا۔’’مر ُدوں کی برسیاں مناتے ہو جبکہ زندوں کوکھاناتک نہیں دیتے ہو،مزدورکی مزدوری تک نہیں دیتے ہو۔ محافل میں حسن ِ اخلاق کامظاہرہ کرتے ہوتوگھروں میں اتنے ہی بدتمیزہوجاتے ہوــ۔دوسروں کے متعلق خودہی رائے قائم کرتے ہو،خودہی فیصلہ کرتے ہواوراس پہ ڈٹ جاتے ہو۔اورمنافقت کسے کہتے ہیں؟۔‘‘بات ختم کرتے کرتے ان کاتنفس پھولنے لگا تھا جو میری دھڑکنوں میں اضافے کا سبب بن رہاتھا۔ان کی آخری بات نے تومیرے رونگٹے کھڑے کردئے تھے۔’’ناچنے والیوں پہ لاکھوں لٹادیتے ہو اوربیواؤں کیلئے تمھارے پاس چندٹکوں کی گنجائش نہیں ہوتی‘‘۔انھوں نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔’’جاؤمیاں پہلے یہ تمام برائیاں اپنے اندرتلاش کرو۔جب انھیں پالو توایک ایک کرکے ختم کرنے کی کوشش کرو۔دوسروں کے کردارکواپنے لئے آئینہ سمجھوتویقینا اصلاح ہوسکتی ہے‘‘۔اتناکہہ کرانھوں نے آنکھیں موندلیں۔یہ گویاملاقات کے اختتام کا اشارہ تھا۔

ان کا ایک ایک لفظ میری سماعتوں پہ ہتھوڑے کی طرح لگ رہاتھا۔اس ملاقات میں انھوں نے میں میری ذات کے اندر تہہ در تہہ لگی گرہوں کوایک ایک کرکے کھول دیا تھا ۔میں ایسی ہی اذیت میں تھاجیساکہ مریض آپریشن کے بعدمحسوس کرتاہے۔بزرگوار نے میری تحلیل نفسی کچھ اس اندازسے کی تھی کہ میں بھی خود کو آپریشن زدہ مریض ہی سمجھ رہاتھا۔ مجھے یاد آرہاتھاکہ اکثرمحافل میں مقررین ِ شعلہ بیان جب بھی وعظ ونصیحت کی بات کرتے ہیں تواسلام کی خاطرمرمٹنے پہ اکساتے ہیں۔شاید ہی کسی نے اسلام کی خاطرجینے کا درس بھی دیاہو۔شایدہی کسی نے کہاہواسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،زندگی کے ہرپہلوکی رہنمائی کرتاہے۔ہم بھی کیسے سادہ لوح مسلمان ہیں کہ قرآن کوبھی محض کتاب ِ ثواب سمجھ رکھاہے۔کاش ہم نے اسے کتاب ِ عمل اور کتاب ِ زندگی سمجھاہوتا۔تویقینا زندگی آسان ہوتی اورموت کا خوف نہ ہوتا۔اب میں آپ سے مخاطب ہوں ۔ کیاابھی وقت نہیں آیاکہ ہم حسن ِ اخلاق کے پیکر بن جائیں اور ہماری عام معاشرتی زندگی پُربہارہوجائے؟۔کیاہمیں منافقت چھوڑنہیں دینی چاہئے تاکہ قرآن اور صاحب ِ قرآن کی نظرمیں کامل مومن بن جائیں؟۔کیاکہتے ہیں آپ؟۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ansar Mehmood Babar

Read More Articles by Ansar Mehmood Babar: 11 Articles with 3913 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2019 Views: 460

Comments

آپ کی رائے