پاکستانی لڑکیاں چینی لڑکوں سے شادی پر کیوں تیار ہوئیں؟

گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستانی لڑکیوں کی چینی لڑکوں سے شادی اور پھر اُن کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی خبریں میڈیا میں گردش کرتی رہی ہیں۔ ان شادیوں کے لیے نسبتاً غریب گھرانوں کی مسلمان لڑکیوں اور خاص طور پر مسیحی لڑکیوں کو ہدف بنایا گیا۔

شادی کے لیے لڑکی کے انتخاب کے وقت چینی لڑکوں کا کہنا تھا کہ وہ مالی طور پر مستحکم ہیں اور انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کر کے اسلام یا عیسائی مذہب اختیار کر لیا ہے۔ اس سے متاثر ہو کر پاکستان کی متعدد مسلمان اور عیسائی لڑکیوں اور ان کے والدین نے بہتر مستقبل کی خاطر یہ رشتے قبول کر لیے۔ تاہم شادی کے بعد چین سے واپس آنے والی چند لڑکیوں نے ان کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کے متعلق ایسے انکشافات کیے جن سے یہ تاثر زور پکڑنے لگا کہ دراصل پاکستانی لڑکیوں سے شادی کے واقعات ممکنہ طور پر انسانی سمگلنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔

مذکورہ لڑکیوں کی طرف سے الزامات کے بعد پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ’ایف آئی اے‘ حرکت میں آ گئی اور اُس نے شادیوں کے اس کاروبار میں ملوث 27 چینی اور اُن کے 5 پاکستانی ساتھیوں کو حراست میں لے کر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
 


اُدھر چینی حکام نے اگرچہ حراست میں لیے گئے چینی افراد کی تحقیقات کی حمایت کا اظہار کیا ہے تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اُنہیں شادی کے بعد چین جانے والی پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

مہک پرویز کی کہانی
وائس آف امریکہ کے ٹی وی پروگرام ویو 360 میں ہدف بننے والی ایک پاکستانی مسیحی لڑکی مہک پرویز نے کہا کہ وہ اسلام آباد کے ایک بیوٹی سیلون میں کام کر رہی تھیں۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ اُن کی کمیونٹی کی بہت سی لڑکیاں چینی لڑکوں کے ساتھ شادی کر رہی ہیں تو اُنہوں نے بھی بہتر مستقبل اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کسی چینی لڑکے سے شادی کا فیصلہ کر لیا۔

مہک کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کرتے ہوئے وہ کسی قدر گھبرا بھی رہی تھیں کہ کہیں یہ شادی فراڈ ہی ثابت نہ ہو۔ تاہم جب اُنہوں نے یہ دیکھا کہ بہت سی لڑکیاں چینی لڑکوں سے شادی کر چکی ہیں تو اُنہوں نے بھی ایسا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

مہک کا کہنا تھا کہ جس چینی لڑکے سے اُن کی شادی کی بات چلی، اُس نے شادی کے ملبوسات کے لیے اسے کچھ رقم دی اور پھر شادی کے لیے ہال کا انتطام بھی اسی نے کیا۔ بالآخر 19 نومبر 2018 کو اُن کی شادی چینی لڑکے کے ساتھ ہو گئی۔

شادی کے بعد انہیں لاہور لے جا کر ڈیوائن گارڈن کے علاقے میں ایک گھر میں رکھا گیا جہاں دیگر چینی لڑکے اور اُن کی پاکستانی دلہنیں بھی موجود تھیں۔ بعد میں ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس علاقے کا انتخاب اس لئے کیا گیا تھا کیونکہ وہاں چینی افراد کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر تھی۔ لہذا شادی کرنے والے چینی لڑکوں کا خیال تھا کہ وہ یہاں تفتیشی اداروں کی نظر سے محفوظ رہ سکیں گے۔

تاہم اطلاع ملنے کے بعد جب ایف آئی اے نے یہاں چھاپہ مارا تو پاکستانی لڑکیوں کو چھپا دیا گیا اور ایف آئی اے کو بتایا گیا کہ یہاں صرف چینی لڑکے ہی رہتے ہیں۔

اس گھر میں موجود پاکستانی لڑکیوں کے چین جانے کے لیے سفری کاغذات تیار کیے جا رہے تھے۔ مہک کا کہنا تھا کہ کاغذات کی تیاری میں غیر معمولی تاخیر سے وہ شک میں مبتلا ہو گئیں اور انہوں نے آن لائن ترجمے کا سہارا لیتے ہوئے اپنے شوہر سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔ اسی دوران انہیں معلوم ہوا کہ یہ چینی لڑکا مسیحی نہیں ہے اور وہ جسمانی طور پر معذور بھی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مہک نے بتایا کہ اس نے چینی ایجنٹ سے کہا کہ وہ چین نہیں جانا چاہتی تو ایجنٹ کے پاکستانی ساتھی نے اسے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ تاہم انہوں نے کچھ سماجی کارکنوں کی مدد سے جان چھڑائی اور شادی ختم ہونے کے بعد اپنے گھر واپس آ گئیں۔

شادی کرانے والے منظم گروہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ چینی لڑکے بظاہر ایک منظم گروہ کی طرح کام کر رہے تھے جس میں چینی ایجنٹس کے علاوہ ان کے پاکستانی ایجنٹ اور ہدف بننے والی اقلیت کے مذہبی رہنما بھی ملوث تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شادی سے قبل لڑکیوں کا مفصل طبی معائنہ بھی کیا جاتا تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لڑکی کے تمام جسمانی اعضا درست طور پر کام کر رہے ہیں۔
 


چینی لڑکوں سے شادی کرنے والی کئی دیگر پاکستانی لڑکیوں نے چین سے واپسی پر بتایا کہ اُن کے چینی شوہر نہ تو معاشی طور پر مستحکم تھے اور نہ ہی وہ بڑے شہروں میں رہتے تھے۔ اُن کا تعلق دور دراز کے دیہاتوں سے تھا۔

کچھ لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں چھوٹے گھروں میں قید رکھا گیا۔ کچھ نے یہ بھی بتایا کہ انہیں غیر مردوں سے ملوانے کے لیے شراب خانوں میں لے جایا گیا اور پھر انہیں اُن غیر مردوں کے ساتھ جانے پر مجبور کیا گیا۔

چینی حکام کا مؤقف
چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں گرفتار کیے گئے چینی افراد کی خلاف تحقیقات کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ چین میں ان لڑکیوں کے ساتھ کوئی زیادتی کی گئی یا انہیں عصمت فروشی پر مجبور کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض پاکستانی لڑکیوں کی طرف سے کچھ شکایات موصول ہوئی تھیں لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔

اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اسے 2018 میں چینی لڑکوں سے شادی کرنے والی 142 پاکستانی لڑکیوں کی طرف سے ویزے کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے 50 کو ویزے جاری کر دیے گئے جب کہ باقی 90 لڑکیوں کے ویزے پاکستان میں جاری تحقیقات مکمل ہونے تک روک لیے گئے ہیں۔

کیا یہ انسانی سمگلنگ ہے؟
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین سے آنے والے لڑکوں نے قدم کیسے جمائے۔ جرائم پر تحقیق کرنے والے معروف قانون دان عبداللہ عثمان کا کہنا ہے کہ پاکستان۔چین راہداری منصوبے کے باعث پاکستان نے چینیوں کو پاکستان کے سفر کی غیر معمولی سہولتیں فراہم کی ہیں جن میں ویزا آن ارائیول کی سہولت بھی شامل ہے۔ اور ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان آنے والے چینیوں کے متعلق پہلے سے یہ جاننا مشکل ہے کہ وہ یہاں حقیقتاً کس ارادے سے آ رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے پروگرام ’ویو 360 ‘ میں بات کرتے ہوئے عبداللہ عثمان کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے سلسلے میں 2018 کے قانون کی رو سے قانونی شادی کے بعد بھی اگر کسی کی مرضی کے خلاف مزدوری یا جنسی کاروبار کرایا جائے تو وہ انسانی سمگلنگ کے دائرے میں آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شادی کے نام پر پاکستانی لڑکیوں کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ شادی کے دستاویزی ثبوتوں کو مزید جامع بنایا جائے۔


Partner Content: VOA

Reviews & Comments

Language: