ڈاکٹرمحمد فضل الرحمٰن الانصاری علیہ الرحمہ سے میرا تعارف

(Abu Abdul Quddoos Muhammad Yahya, Karachi)
آپ علیہ الرحمہ کی اپنی سدابہاروپرکیف زندہ تحریریں اورکتابیں جو خود قوت گویائی سےمتصف ہیں اور اپنے قاری سے ہمکلام ہوتی ہیں ۔نیز آپؒ کی آڈیو سی ڈیز جن میں آپ کی اپنی دلنشیں اورسحرانگیز آواز میں تقاریر وخطبات موجود ہیں۔ان سے جو بھی شخص کسی بھی وقت جس قسم کی رہنمائی (منقولاً و معقولاً)کاطالب ہو یہ اسے مایوس نہیں کرتیں ۔آپ سے عقیدت رکھنے والاشخص یہ تحاریر پڑھتے اورتقاریرسنتے وقت محبت و وارفتگی کی کیفیت میں اس حد تک محو ہوجاتا ہےاور اسےیوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ گویا یہ کتب اس (قاری) پر اتررہی ہوں۔

عنوان سے یہ مغالطہ پیداہونے کا قوی احتمال ہے کہ شاید مجھے(راقم التحریرکو ) ڈاکٹرحافظ محمد فضل الرحمٰن الانصاری القادری علیہ الرحمہسے بالمشافہ ملاقات اوران کی قدم بوسی کی سعادت نصیب ہوئی ہو۔ لیکن افسوس!اس شرف وسعادت سے محروم ہوں،یعنی آپ سے براہِ راست یا بلاواسطہ ملاقات کی سعادت نصیب نہیں ہوئی ۔لیکن دیگرذرائع اورقابلِ صد احترام شخصیات کے واسطہ سے تعارف ہوا ہے!
ڈاکٹر انصاری علیہ الرحمہ سے میرا پہلاتعارف یعنی آپ کی شخصیت کی عظمت وبزرگی سے روشناس کرانے والے میرے سب سے پہلے محسن استاذی جناب شیخ محمد اقبال لاسی صاحب (سابق لیکچررجامعہ علیمیہ) ہیں۔آپ ڈاکٹرصاحب سے بے پناہ عقیدت ومحبت رکھتے ہیں۔ اگرچہ آپ نے بھی ڈاکٹر صاحب سے بالمشافہ ملاقات نہیں کی لیکن ڈاکٹر صاحب کی کتب اوران کے تربیت یافتہ افراد جو ڈاکٹر صاحب کی زیارت سے مشرف ہوئے ان کی وساطت سے ملنے والی محبت اورعقیدت کے سرمایہ کو منفرد، انتہائی متاثرکن اورشیریں سخن انداز میں آپ اپنے طلبہ میں منتقل فرمارہے ہیں۔استاذصاحب کی زبان مبارک سے آپ کا تعارف سن کردل میں اس عظیم شخصیت کے لئے احترام اور محبت کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔
اس جذبۂ محبت کی لَو کو توانا اورمزید جلا بخشنے والی دوسری سحرانگیز شخصیت ڈاکٹر صاحب کے تربیت یافتہ گوہرنایاب استاذ الاساتذہ جناب محترم ابومحمد فہیم انواراللہ خان صاحب مدظلہ العالی کی ہے۔ آپ جامعہ علیمیہ کے سابق پرنسپل اورموجودہ ڈائریکٹر ورلڈفیڈریشن ہیں۔آپ جامعہ علیمیہ کے لئے پچاس سال سے زائد عرصہ سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔آپ کا اتناطویل عرصہ خدمات سرانجام دینا ہر لحاظ سے قابل فخر اور لائق تحسین صد آفرین امرہے جس کی مثال جامعہ علیمیہ میں تودرکنار دوسرے سرکاری وغیرسرکاری اداروں میں بھی نہیں ملتی کہ کوئی شخص پچاس پچپن سال تک ایک ہی ادارے میں خدمات سرانجام دے۔
راقم کوبھی ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کی سعادت سے مشرّف ہوئے ربع صدی کا عرصہ بیت چکاہے۔ آپ ڈاکٹرانصاری علیہ الرحمہ سے بہت گہری محبت وعقیدت رکھتے ہیں اور اپنے لیکچرز میں جابجا دلنشیں،دلآویزومسحورکن انداز میں حضرت صاحب کے افکار،تعلیمات اورشخصیت کا تعارف کراتے ہیں جس سے سامنے والا بھی بے خودہوکرحضرت صاحب علیہ الرحمہ کی ذات سے محبت کرنے لگتاہے۔
اسی سلسلہ کی تیسری اہم شخصیت جناب مصطفیٰ فاضل انصاری صاحب(صدر الوفاق العالمی) کی ہے۔ جوگزشتہ چندبرسوں سے ڈاکٹرانصاری علیہ الرحمہ کے عرس مبارک کے موقع پر "کچھ یادیں کچھ باتیں " کےعنوان کے تحت علیمیہ اسپیکرزفورم میں حضرت صاحب کی شخصیت کے گونہ گوں محاسن سے پردہ اٹھاتے ہیں اورآپ علیہ الرحمہ کی سعید زندگی کی مبارک ساعتوں کا تذکرہ دل موہ لینے والے انداز سے کرتے ہیں۔ علیمیہ فورم ہال میں منعقدہونے والے ایک پروگرام کی ایک نشست میں(جس میں راقم خود بھی موجود تھا ) آپ جناب مصطفیٰ فاضل انصاری صاحب (صدر الوفاق)نے حضرت صاحب علیہ الرحمہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پرکچھ اس انداز سے روشنی ڈالی گویا حضرت صاحب علیہ الرحمہ کی زندگی مجسم تصویربن کرحاضرین کے سامنے آگئی۔ اسی لیکچر کے اختتامی کلمات میں جب حضرت صاحب علیہ الرحمہ کی وفات حسرت ویاس کا تذکرہ آیا تو اکثر سامعین کی آنکھیں اشکباراوردل بھرّائے ہوئےتھے گویا حضرت ؒصاحب کی جدائی ورحلت کا جاں گداز سانحہ اسی لمحہ پیش آیاہو ۔ اِنَّالِّٰلہِ وَ اِنَّآ اِلَیہِ رَاجِعُونَ۔
ان ذی وقار اصحاب کے علاوہ کئی دیگرمحترم ومعزز شخصیات ہیں جن کے لیکچرز میں بیٹھنے یا جن کی زبان سے حضرت صاحب علیہ الرحمہ کا ذکر مبارک سننے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ان شخصیات کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
ان عظیم شخصیات میں والدمحترم جناب مولاناحافظ ابوعلی محمد رمضان صاحب زیدمجدہ، جناب وصی الحسن انصاری صاحب (مرحوم) سابق وائس پریزیڈنٹ الوفاق العالمی للدعوۃ الاسلامیۃ، جناب حبیب بٹ صاحب (مرحوم) سابق پریزیڈنٹ الوفاق العالمی للدعوۃ الاسلامیۃ،جناب شیخ محمد جعفر صاحب (مرحوم)سابق جنرل سیکرٹری الوفاق العالمی٭، جناب منظرکریم صاحب (مرحوم) سابق جنرل سیکرٹری ، جناب عمران نذرحسین صاحب (سابق پرنسپل علیمیہ)، استاذمحترم جناب پروفیسر شمیم ہاشمی صاحب مرحوم (سابق لیکچرر علیمیہ)،استاذمحترم پروفیسرمشیربیگ صاحب (مرحوم)سابق لیکچرر علیمیہ، جناب مفتی محمد ظفراللہ صاحب (مرحوم)سابق مفتی جامعہ علیمیہ، ڈاکٹرالیاس صاحب(سابق اسسٹنٹ سیکرٹری ورلڈ فیڈریشن آف اسلامک مشنز)،ڈاکٹرسیدعبدالمالک کاشف صاحب(سابق لائبریرین و ہومیو ڈاکٹروسائیکو ہومیو تھراپسٹ، جرنلسٹ وایجوکیشنسٹ)،استاذ جناب انوارالحسن صاحب مرحوم (سابق لیکچرر علیمیہ)،استاذمحترم جناب محمد یوسف صاحب مرحوم(سابق لیکچرر علیمیہ)، جناب عابد سعیدصاحب مرحوم٭ (سابق پرنٹر مینارِٹ)،استاذ محترم عطاء الرحمٰن انصاری صاحب مدظلہ العالی(سابق لیکچرر علیمیہ)، استاذ جناب محمد صادق بلوچ صاحب مدظلہ العالی (سابق لیکچرر علیمیہ)،جناب عبدالقادر شوغلے صاحب ، جناب عبدالرشید انصاری صاحب وغیرہ شامل ہیں۔
٭نوٹ1: حضرت جعفرصاحب مرحوم کا نام ذہن میں آتے ہی مجھے ایک واقعہ یاد آجاتاہے کہ جب ١٩٩٣ء؁ میں راقم نے ابتدائی جماعت (Preparatory Class)(موجودہ صف اللغۃ ) کا امتحان پاس کیا تو اس وقت جنرل سیکرٹری جناب شیخ محمد جعفر صاحب (مرحوم)، استاد محترم جناب انوار اللہ صاحب اوراس وقت کے صدر الوفاق جناب حبیب بٹ صاحب (مرحوم) تینوں حضرات ذی وقار و حشم نے مجھے سالانہ امتحان میں کامیابی حاصل کرنے پر سو سو روپے بطور انعام دیئے اور سرانوار صاحب کاکہاہوا جملہ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے کہ یہ ہمارے ادارے کے سب سے کم عمر طالب علم ہیں۔
٭نوٹ2:آپ بہت بہترین کاتب اورخطاط تھے۔میری معلومات کے مطابق آپ نے کم ازکم دومکمل قرآن مجید کے نسخوں کی کتابت کی جو آپ کی بہترین خطاطی کا اعلیٰ شاہکار ہیں۔جن میں سے ایک نسخہ سابق لائبریرین جناب شمیم الدین صدیقی صاحب کے پاس آج بھی موجود ہے۔اوروہ اس نسخہ پر تلاوت قرآن کریم کرتے ہیں۔یوں یہ نسخہ قرآن جناب عابد سعید صاحب کے لئے صدقہ جاریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
بہرحال ان شخصیات کے علاوہ حضرت صاحب کے بارے میں لکھی گئی کتابیں اور آپ ؒ کی شخصیت پرتحریرکئے گئے مضامین بھی آپ کی شخصیت کے مختلف گوشوں کواجاگرکرتے ہیں۔ بالخصوص آپؒ کے مکتوبات جو کہ ڈاکٹرعمیر محمود صدیقی صاحب نے بڑی جانفشانی ،محنت اورمحبت سےجمع کرکے مکتوبات انصاری کے نام سے شائع کیے ہیں ،آپ علیہ الرحمہ کے کردار کی عظمت وبلندی کا منہ بولتاثبوت ہیں۔
ان سب سے بڑھ کر آپ علیہ الرحمہ کی اپنی سدابہاروپرکیف زندہ تحریریں اورکتابیں جو خود قوت گویائی متصف ہیں اور اپنے قاری سے ہمکلام ہوتی ہیں ۔نیز آپؒ کی آڈیو سی ڈیز جن میں آپ کی اپنی دلنشیں اورسحرانگیز آواز میں تقاریر وخطبات موجود ہیں۔ان سے جو بھی شخص کسی بھی وقت جس قسم کی رہنمائی (منقولاً و معقولاً)کاطالب ہو یہ اسے مایوس نہیں کرتیں ۔آپ سے عقیدت رکھنے والاشخص یہ تحاریر پڑھتے اورتقاریرسنتے وقت محبت و وارفتگی کی کیفیت میں اس حد تک محو ہوجاتا ہےاور اسےیوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ گویا یہ کتب اس (قاری) پر اتررہی ہوں۔ جیسا کہ کسی شاعر نے ایسے ہی موقع کے لیے خوب کہا ہے:
یہ معجزہ بھی اس کی چاہت، ہوسکتاتھا
وہ لفظ بولے تو دل پہ جیسے کتاب اترے
نیز اگرمحبت غالب ،جذبہ صادق،طبیعت موافق اورمزاج صالح ہو تو آپ علیہ الرحمہ کی خوبصورت، بارعب، بارونق اورپُرجمال وجلال تصاویر(جو پاکیزگی،سادگی، وجاہت، رعب، دلکشی اور نفاست کا حسین امتزاج ہیں) اور آپ علیہ الرحمہ کا مزار مبارک بھی ملاقات و تحصیل ِ علم وحکمت کے لئے اہم ذرائع ثابت ہوسکتے ہیں۔جو محبت اورخلوص سے دیکھنے والے ہر طالب علم پر روحانی توجہ ڈالتے ہیں اورلاینحل عقدے ، ادق منطقی استدلالات، علمی موشگافیوں اور پیچیدہ گرہوں کوسمجھنے وسلجھانے میں مدد کرتے ہیں۔اگرکوئی شخص اس امرپر حیران ہو کہ تصویر اور مزار سے رہنمائی چہ معنی دارد۔ایک تصویریا مزار سے علم وحکمت کے موتی کیسے مل سکتے ہیں؟ تو ان احباب سے گزارش ہے کہ اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے D. H. Howe کی لکھی گئی کتاب English for Colleges (جوسابقہ بی اے کے انگریزی کے نصاب میں شامل تھی ) میں"دیوقامتی آنکھ" (Giant Eye) کا مضمون پڑھ لیں جس میں تحریر ہے کہ 1928ء میں کیلی فورنیا میں قائم کی گئی پالومررصدگاہ (Observatory) جو اس وقت کی سب سے بڑی رصد گاہ تھی وہاں بلندی پر چڑھ کراس دیوقامتی آنکھ کی طرف گہرائی میں دیکھنے والے افرادآسمان کی بیکراں وسعتوں(زمین سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود چیزیں) کے راز جان لیتے ہیں۔وہ رازجو براہ راست آسمان کی طرف دیکھنے سے بھی معلوم نہیں ہوسکتے۔یعنی آسمان کی بیکراں وسعتوں کے سربستہ رازجاننے کے لئے بلندی کی طرف سراٹھانا لازم نہیں بلکہ سرخم کرنے سے تووہ راز آشکار کئے جاسکتے ہیں جوسرآسمان کی طرف اٹھانے سے بھی آشکارنہ ہوں گے۔جس طرح یہاں آسمان کی وسعتوں کو جاننے کے لئے سراٹھانے کی ضرورت نہیں اسی طرح کسی سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اس کا ظاہری جسم وشکل وصورت میں وہاں ہونابھی ضروری نہیں۔
مٹادے اپنی ہستی کو اگرکچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کرگل و گلزار ہوتاہے
یعنی دانہ بظاہرمٹنے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ منفعت بخش بن جاتاہے۔جووہ اپنی ظاہری حیات میں نہ کرسکتاتھا۔اس لئے ضروری نہیں ہر وہ چیز جس نے خاکی رِدا اوڑھ لی ہے وہ اپنی قیمت کھوچکی ہے بلکہ یہ تو وہ ہیں جن کی قیمت بے حدوحساب بڑھ جاتی ہے۔ (وباللہ التوفیق)
؎ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے (اسداللہ غالب)
نیز ڈیل کارنیگی نے ایک جگہ تحریر کیا ہے کہ جب کبھی وہ کسی ایسے مسئلہ میں الجھ جائے جس کا اسے حل نہ مل رہا ہو تو وہ ابراہم لنکن کی تصویر اپنے سامنے رکھ کرسوچتا ۔ جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ اسے مسئلہ کا حل مل جاتا ۔حقیقتاً ایسا ہی ہے کہ جوشخص کسی شعبہ میں عَلم(عظمت کا نشان) سمجھا جائے اس کے میدان کے درپیش مسائل اسے سامنے رکھ کر یا دل میں سوچنے سے ایک خاص قسم کی تقویت حاصل ہوتی ہے۔بالاخر انسان کسی ممکنہ حل تک پہنچ جاتاہے۔مثلاً کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی سینے پر لکھنے سے شیطان اس شخص کے قریب نہیں پھٹکتا ۔ اسی طرح عالم،فقیہ،فلسفی،چٹان کی مانند حوصلہ رکھنے والے صاحب کردار شخص کی تصاویرسے علم وحکمت کے ساتھ جرأت وحوصلہ بھی حاصل ہوتاہے۔
جہاں تک مزار مبارک سے رہنمائی لینے کا تعلق ہے تو اس جانب بھی اشارہ استاذ محترم جناب شیخ محمد اقبال لاسی صاحب نے فرمایا تھا ۔آپ نے دوران تدریس اور اپنے خطابات میں محبین انصاری کی اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ میں (راقم)ان تمام عظیم شخصیات کا احسان مند اورزیربار ہوں جن کی نگاہِ کرم کے طفیل مجھے حضرت ڈاکٹرمحمد فضل الرحمن الانصاری القادری علیہ الرحمہ سے متعارف ہونے کا شرف حاصل ہوا اورعاجز یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ لکھنے کے قابل ہوا۔
مزارمبارک کا جہاں تذکرہ آیا ہے وہیں باباعبدالرسول مرحوم ( جنہیں محبت واحترام سے چاچا پکاراجاتاتھا) کا ذکر بھی ضروری ہے کیونکہ جامعہ علیمیہ کی تاریخ ان کے بغیر ادھوری اورنامکمل ہے۔ انہوں نے تین سے چار دہائیاں انتہائی جانفشانی، تندہی اور بے لوثی سے ادارہ کی خدمت میں صرف کیں۔جامعہ علیمیہ کا شاید ہی کوئی ایسا گریجویٹ یا طالب علم ہو جو بابا عبدالرسول سے واقف نہ ہو۔ یوں ان سے وابستہ یادیں بہت گہری اوربہت پرانی ہیں۔ ان کے اپنے احوال،اساتذہ کے ان کے متعلق اقوال، طلبہ کے ان سے متعلق سوال غرض کئی امور ایسےہیں جو ذکر کئے جاسکتے ہیں لیکن یہ امور اس وقت زیربحث نہیں اس لئے ان سے صرف نظرکرتے ہوئے صرف ایک واقعہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے:"ایک دفعہ ایک طالبعلم کے چہرے پر دانے نکل آئے۔ بابا نے جب اسے دیکھا تو مزار پر لے جاکر کہا کہ یہاں سے کچھ مٹی (خاک شفاء) اپنے چہرے پر مل لو تمہیں ضرور شفاء مل جائے گی۔ پھر کہا! اتنے عظیم بزرگ یہاں مدفون ہیں اورتمہارے دانے صحیح نہیں ہورہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے (کتنااعتقاد تھا صاحب مزارسے!)" یہ اوراس قسم کے کئی دیگر واقعات ہیں جو بابا کو علیمیہ کی تاریخ میں زندہ جاوید رکھیں گے۔کیونکہ میرے نزدیک انسان کی عظمت بڑے عہدے میں نہیں بلکہ جوبھی ذمہ داریاں اس کے سپرد کی گئی ہوں اگر وہ انہیں بطریق احسن انجام دیتا ہے ، جانثاری سے اپنے امورسرانجام دیتاہے یہاں تک کہ اس پوسٹ کے لئے وہ ایک عَلم یا نشان بن جائے یہی اس کہ عظمت کا ثبوت ہے ۔جہاں تک بابا کاتعلق ہے وہ ان اوصاف پر من وعن پورااترتے ہیں!
یہاں پر یہ ذکربھی بہت اہم ہوگا کہ بابا کی خاص بات مزاراورصاحبِ مزار سے بہت عقیدت واحترام رکھنا تھا۔ آپ(ڈاکٹرانصاری علیہ الرحمہ) کے مزار پر سایہ کئے ہوئے نیم کے درخت ، اس درخت کے قرب وجوار میں رہنے والے حشرات الارض اور اس درخت پربیٹھے طیور کا بھی بہت زیادہ خیال رکھتے تھے اور اپنی جیب خاص سے ان کے لئے کبھی چینی ،کبھی پراٹھا کبھی کچھ کبھی کچھ منگواکروہاں ڈالتے۔ چاچا سے دوستی کے خواہاں طلبہ آپ کو کوئی چیز اطراف مزار ودرخت ڈالنے کے لئے لادیتے یا ان سے کوئی خوشبو (اگربتی، جوچاچاخود بناتے تھے) خرید لیتے تو بابا اس(طالبِ علم) کے گہرے دوست بن جاتے اورپھر ان کی دوستی کے درمیان عمر کاتفاوت بھی آڑے نہ آتاتھا۔ اللہ رب العزت چاچا کی مغفرت فرمائے اوران کے درجات بلند فرمائے۔آمین
اہل معانی:
یہی میرا مبلغِ علم (Source of Knowledge) ہے اور یہی شخصیات میرے لیے الفاظ "حافظ ڈاکٹرمحمد فضل الرحمن الانصاری القادری علیہ الرحمہ" کے معانی ومفاہیم بیان کرنے والی ہستیاں بھی ہیں ۔ ان شخصیات سے قبل یہ الفاظ مجھ پر کوئی خاص کیفیت و تاثر طاری نہ کرتے تھے لیکن ان عظیم شخصیات سے ملنے کے بعدمجھےان الفاظ کی عظمت کا کسی قدرادراک ہوا اوران کے معانی سے آشنائی حاصل ہوئی ۔ان ہستیوں کو میں اہل معانی سے موسوم کرسکتاہوں ۔یہ اہل معانی ہی وہ افراد ہیں جونکتہ دانی کے فن سے آشناکراتے ہیں۔جس فن سے آشنائی انسان کو علوم وفنون کی معرفت کی جانب گامزن کردیتی ہے۔ان ہی اہل معانی (اساتذہ کرام) کے پاؤں کی خاک بن جانا بھی عظیم سعادت ہے۔
الٰہی کر مجھے تو خاکِ پا اہلِ معانی کا
کہ کھلتا ہے اسی صحبت سے نسخہ نکتہ دانی کا

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 374 Print Article Print
About the Author: Abu Abdul Quddoos Muhammad Yahya

Read More Articles by Abu Abdul Quddoos Muhammad Yahya: 67 Articles with 57290 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: