ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓکا مقام

(Rahmat Ullah Shaikh, )

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ نبی اکرمﷺ کی لاڈلی اور چہیتی زوجہ تھیں۔ چونکہ وہ اپنی کم عمری میں ہی رسول اکرم ‍ﷺ کے گھر آگئی تھیں، اس لیے ان کی تعلیم و تربیت آفتابِ نبوت کے سائے میں ہوئی۔ وہ بچپن ہی سے نہایت فطین و ذہین تھیں۔ بچپن میں کھیلتے کھیلتے اگر کوئی آیت کانوں میں پڑتی تو ان کو یاد ہوجاتی تھی۔ مسجدِ نبوی میں جس جگہ آپﷺ صحابہ کرام کو تعلیم دیتے تھے وہ جگہ حضرت عائشہؓ کے حجرے سے ملحق تھی، اس لیے وہ اس میں بھی شریک رہتی تھیں۔ اگر کبھی کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو آپﷺ جب حجرہ میں تشریف لاتے تو دوبارہ پوچھ لیتی تھیں۔

تمام ازواجِ مطہرات میں سے آپﷺ کو حضرت عائشہؓ سے زیادہ محبت تھی۔ آپﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کو لوگوں میں سے بڑھ کر عزیزکون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ۔ حضرت عائشہؓ سے نکاح کرنے سے پہلے حضرت جبرئیل نے آپﷺ کو ان کی تصویر دکھائی اور اطلاع دی کہ یہ آپ کی دنیا و آخرت میں زوجہ ہیں۔حضرت عائشہ ؓ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ صحابہ کرام آپ ﷺ کو اسی دن ہدیے و تحائف بھیجتے تھے جس دن آپﷺ حضرت عائشہؓ کے ہاں مقیم ہوتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کو یہ بھی فضیلت حاصل ہے کہ ان کے بستر کے سوا کسی دوسری ام المؤمنین کے بستر پر وحی نازل نہیں ہوئی۔آپﷺ کی حضرت عائشہ سے اتنی محبت تھی کہ جس جگہ سے وہ پانی پیتی تھیں اسی جگہ سے آپﷺ بھی پانی پیتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام حضرت عائشہؓ کے ساتھ گزارے۔ یہاں تک کہ جب آپ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ کا سر مبارک حضرت عائشہ ؓ کی گود میں تھا۔ سیدہ عائشہ ؓ پر جب تہمت لگائی گئی تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی برات کی گواہی دی۔ اس کے علاوہ کتبِ احادیث میں موجود بیسیوں روایات حضرت عائشہؓ کی عظمت و فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔

علمی لحاظ سے حضرت عائشہؓ کا شمار کبار صحابہ کرام کی فہرست میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے صحابہ کرام بھی ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم کو جب کبھی کسی مسئلے میں الجھن پیش آتی تو ہم حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کرتے تھے۔ جب بھی ہم ان سے سوال پوچھتے تھے تو اس کے متعلق ہمیں معلومات ضرور ملتی تھی۔ آپﷺ کی صحبت کی وجہ سے حضرت عائشہ ؓ نے علمی میدان میں ایسا مقام پیدا کیا کہ آج بھی انھیں معلمہ صحابہ کرام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔حضرت عائشہ ؓ مختلف فنون میں مہارت رکھتی تھیں۔ علم انساب انھوں نے اپنے والد سے حاصل کیا، جو علم انساب و شعر کے بڑے ماہر تھے۔ اس کے علاوہ قرآن مجید، فرائض، حلال وحرام وغیرہ میں بھی غیرمعمولی مہارت رکھتی تھیں۔ حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے قرآن، فرائض، فقہ، شاعری، حلال وحرام، طب، عربوں کی تاریخ اور شاعری کا حضرت عائشہ ؓ سے بڑھ کر عالم کسی کو نہیں دیکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ سے کثیر روایات کرنے والے صحابہ کرام کی فہرست میں بھی ان کا نام شامل ہے۔ ان کی روایات کی تعداد 2210 ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ کی زندگی موجودہ دور کی خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حضرت عائشہؓ دربارِ نبوی میں مسلمان عورتوں کی طرف سے وکیل تھیں۔ مسلمان عورتیں اپنے مسائل نبی کریم ﷺ تک پہنچانے کے لیے ان کے پاس آتی تھیں۔ ان کا شرعی حدود میں رہ کر دین و سماج کی عظیم خدمت کرنا ان خواتین کے لیے ایک مثال ہے، جو موجودہ دور میں شرعی حدود (پردہ وغیرہ) کو تعلیم حاصل کرنے میں رکاوٹ سمجھتی ہیں۔ سیدہ عائشہؓ نے شرعی حدود میں رہ کر نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ اس کی اصلاح و اشاعت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ان کی وفات 17 رمضان المبارک 58ھ کو ہوئی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 261 Print Article Print
About the Author: Rahmat Ullah Shaikh

Read More Articles by Rahmat Ullah Shaikh: 25 Articles with 10823 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: